نئی دہلی ( آر کے بیورو)
سنگھ سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے ساورکر کے سلسلے میں حقائق کو الٹ پلٹ کر پیش کیا ہے، 1910 تک کا دور اور اس کے بعد سے 1911 کے دور اسیری اور اس سے رہائی سے آخر تک1966 کا دور، اگر پہلے کے دور، جس میں ساورکر نے’’جنگ آزادی 1857‘‘ لکھی تھی ،اس میں وہ ہندو مسلم اتحاد کے قائل اور دونوں کو بھارت ماتا کی سنتان مانتے تھے، اس کو بعد کے دور فرقہ پرستی میں لانا سراسر مغالطہ اور غلط تاریخ سازی ہے ، ساورکر نے بعد کے دور میں ہندوتو نامی کتاب لکھ کر مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھارت کے دائرے و حدود سے باہر کر دیا تھا، دوسری کتاب، تاریخ کے چھے سنہری ابواب لکھ کر تشدد کی حمایت کرتے ہوئے مسلم اور اسلام سے کھلی معاندت و عداوت کا اظہار کیا ہے۔
وویکانند کے ہندو واد اور ساورکر کے ہندوتو میں کوئی یکسانیت و تال میل نہیں ہے، وویکانند روشن بھارت کی تعمیر میں اسلام کے رول کو تسلیم کرتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ عملی طور پر مقام مساوات تک صرف اسلام پہنچا ہے جب کہ ہندو ازم، ویدانت کے تحت مساوات کا صرف دعوٰی تک رہ گیا، ثقافتی قوم پرستی کا نعرہ، بھارت اور وطنی بنیاد کو مسترد کرنے کے ہم معنی ہے۔
بھارت میں بہ قول ڈاکٹر امبیڈکر ان گنت ثقافتیں ہیں اس لیے یہاں تہذیبی راشٹر واد فرقہ وارانہ اتحاد کی بنیاد بن ہی نہیں سکتا ہے، سنگھ، ہندو مہا سبھا والے ، گاندھی، نہرو، آزاد رح ،مدنی رح کی طرح وطن پر مبنی راشٹر واد کے قائل نہیں ہیں، اس پر پردہ ڈالنے کے لیے موہن بھاگوت ابہام و مغالطہ سے کام لے رہے ہیں، تمام ہندستانیوں کو ہندو کے بجائے ہندستانی تسلیم کرنے میں آخر دقت کیا ہے ؟اس کی وضاحت کے بغیر نہ تو صورت حال واضح ہو سکتی ہے اور نہ جواب مل سکتا ہے، اس سلسلے میں بحث کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔










