نئی دہلی:(پریس ریلیز)
نظام الدین واقع نیو ہرائزن اسکول اور دریا گنج واقع کریسنٹ پبلک اسکولوں کے خلاف ملنے والی منمانی اور فیس کے نام پر لوٹ مچانے کی شکایات کے بعد آج وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے سخت تیور دکھاتے ہوئے دونوں اسکولوں کے خلاف ایکشن لینے اور کارروائی کرنے کی بات کہی ہے اور وقف بورڈ کے افسران کو فوری طور پر منتظمین کے خلاف کارروائی کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔
وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ انھیں ایسی شکایات ملی ہیں کہ یہ دونوں اسکول طلبہ کے والدین سے موٹی موٹی فیس وصول کر اپنی جیبیں بھرنے کا کام کر رہے ہیں اور غریب لوگوں کو بھی نہیں بخش رہے۔امانت اللہ خان نے کہاکہ وقف بورڈ کی زمین پر چلنے والے ان اسکولوں نے فیس کے نام پر لوٹ مچارکھی ہے اور طلبہ سے فیس کے نام پر ہر ماہ ہزاروں روپیئے وصول کیئے جارہے ہیں۔انہوں نے آگے کہاکہ تعلیم کے نام پر غریب طلبہ کے والدین کو لوٹنے کا دھندہ ان اسکولوں کے منتظمین نے بنایا ہوا ہے اور ٹیوشن فیس سے لے کر طرح طرح کی فیس ادائیگی کے لئے غریب طلبہ کے والدین کو مجبور کیا جاتا ہے اور تعلیم کے نام پر کروڑوں روپیہ ہر ماہ وصولے جاتے ہیں۔
وقف بورڈ کے چیئرمین نے آگے کہاکہ یہ دونوں اسکول وقف کی زمین پر چل رہے ہیں اوروقف بورڈ کا ان اسکولوں پر کروڑوں روپیوں کا بقایاہے لیکن کرایہ کی ادائیگی کے نام پر ان اسکولوں کے منتظمین کو سانپ سونگھ جاتا ہے جبکہ طلبہ سے فیس کی وصولی کے لئے یہ انھیں مجبور کرتے ہیں اور غریب طلبہ کا داخلہ تک اسکول میں نہیں لیتے جبکہ وقف کی زمینیں غریب مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کی گئیں ہیں، مگر ان زمینوں پر کچھ مخصوص گروہ قابض ہوگئے ہیں اور واقف کی منشاء کے ساتھ ساتھ وقف ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں۔
وقف بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان نے تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہاکہ نظام الدین واقع نیو ہرائزن پبلک اسکول پر وقف بورڈ کا 2014سے 18کروڑ 34لاکھ روپیہ سے زائد بقایا ہے جبکہ کریسینٹ پبلک اسکول پر 5کروڑ کے قریب بقایا ہے۔ امانت اللہ خان نے کہاکہ اگر ان اسکولوں کے منتظمین وقف بورڈ کا کرایہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں تو وہ اسکول وقف بورڈ کے حوالے کردیں وقف بورڈ یہ اسکول خود چلائے گا اور قوم کے نونہالوں کو مفت تعلیم دے گا۔بورڈ چیئرمین نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ اگر ان اسکولوں کے منتظمین کرایہ کی ادائیگی نہیں کرتے ہیں تو ان کے خلاف ریکوری کا مقدمہ ڈالئے اور سخت سے سخت کارروائی ان کے خلاف کیجئے جو وقف کی زمین کا ناجائز استعمال کرکے اس سے کروڑوں کی آمدنی کر رہے ہیں اور تعلیم کے نام پر قوم کو لوٹ رہے ہیں۔
در اصل بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان کو ان اسکولوں کے خلاف آئے دن طلبہ کی فیس میں اضافہ کی اور لاک ڈاؤن میں بھی فیس وصولنے اور آن لائن تعلیم کے نام پر موٹی فیس وصولے جانے اور ڈونیشن کے نام پر موٹی موٹی رقمیں وصولنے کی مسلسل شکایات مل رہی ہیں جبکہ اس طرح کی شکایات بھی ہیں کہ وقف کی زمین پر چلنے والے یہ اسکول اپنے یہاں غریب طلبہ کا داخلہ نہیں لیتے جس سے امانت اللہ خان بہت ناراض ہیں۔حد تو یہ ہے کہ طلبہ سے موٹی فیس وصولنے والے ان اسکولوں پر وقف بورڈ کا کروڑوں روپیہ کرایہ کی مد میں باقی ہے جس کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے پر ان اسکولوں کے منتظمین بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ غور طلب ہےکہ دو سال قبل بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان نے ایسے سبھی اسکولوں کویہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر وہ اپنے یہاں غریب زمرہ میں آنے والے 25فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دیں گے تو وقف بورڈ ان کے کرایہ میں رعایت سے کام لینے پر غور کرے گا تاہم ان اسکولوں کی طرف سے ابھی تک اس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا ہے جس کے بعد وقف بورڈ سخت ایکشن لینے پر غور کر رہاہے۔










