چنڈی گڑھ:ہریانہ میں قیادت کی تبدیلی کای چرچا تیز ہوگئی ہے۔ این ڈی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے خبر یہ بھی دی ہے ہے کہ ہریانہ میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے امکانات ہیں۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کو تبدیل کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور ان کی جگہ نائب سینی اور سنجے بھاٹیہ میں سے کسی ایک کو وزیر اعلی بنایا جا سکتا ہے۔ دونوں غیر جاٹ ہیں اور دونوں ایم پی ہیں۔ منوہر لال کھٹر لوک سبھا الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ اس وجہ سے آج دوپہر بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ بلائی گئی ہےارجن منڈا اور ترون چگ آبزرور کے طور پر وہاں جا رہے ہیں۔
جے جے پی اور بی جے پی کا اتحاد ہے قریبا ٹوٹ کے دہانے پر ہے ۔
یہ سب اسی وجہ سے کیا جارہا ہے این ڈی ٹی وی کے مطابق ہریانہ کی بی جے پی حکومت کی کابینہ آج اجتماعی استعفیٰ دے سکتی ہے۔ اس کے بعد ہریانہ حکومت کی کابینہ نئے سرے سے تشکیل دی جائے گی۔ جننائک جنتا پارٹی کو کابینہ سے الگ کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ جے جے پی کو اس نئی کابینہ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ بی جے پی کو آزاد ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے۔
*ہریانہ اسمبلی کی پوزیشن
ہریانہ اسمبلی کے 90 ارکان میں اکثریتی تعداد – 46
*بی جے پی – 41
*بی جے پی کے ساتھ آزاد – 6
*ہریانہ لوکیت پارٹی – 1 (گوپال کنڈا)
٭جے جے پی کی علیحدگی کے بعد *بی جے پی کی حمایت – 48
JJP-10
*آزاد-1 (بلراج کنڈو)
*انڈین نیشنل لوک دل – 1 (ابھے چوٹالہ)
*کانگریس – 30
قابل ذکر ہے کہ کل ہی پی ایم مودی نے کھٹر کی تعریف کی تھی۔کہ پیر کو ہی پی ایم مودی نے سی ایم منوہر لال کھٹر کا ذکر کیا تھا۔ دوارکا ایکسپریس وے کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کس طرح وہ کھٹر کی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہریانہ کا دورہ کرتے تھے اور اس وقت چھوٹی سڑکوں کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ منوہر لال جی اور میں بہت پرانے دوست ہیں۔ جب وہ موٹر سائیکل چلاتے تھے تو میں پیچھے بیٹھا کرتا تھا۔ میں روہتک سے نکل کر گروگرام آتا رہتا تھا۔ ہمارا اکثر ہریانہ کا سفر موٹر سائیکلوں پر ہوا کرتا تھا اور مجھے یاد ہے کہ اس وقت ہم موٹر سائیکلوں پر گروگرام آتے تھے، سڑکیں چھوٹی تھیں… بہت پریشانی ہوتی تھی۔ پی ایم مودی نے دوارکا ایکسپریس وے کے لیے عوام کو مبارکباد دی تھی۔








