نئی دہلی : (آر کےبیورو)
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے لوگو سے قرآ نی آیت ہٹانے پرآل انڈیا مجلس مشاورت کے جنرل سکریٹری عبدالحمید نعمانی نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سر سید احمد خاں کے سلسلے میں مذہبی نظریات کے حوالے سے کچھ بھی کہا جائے لیکن انہوں نے ہندوتو وادیوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ مذہبی روایات وافکار کے متعلق انحرافات کی حد تک ان کا کچھ الگ نقطۂ نظر ضرور تھا لیکن اسلامی شناخت اور تہذیبی علامتوں کو گم کرنے کے قطعی خلاف تھے۔
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں اس کی شناخت کے خلاف مداہنت و مداخلت یونیورسٹی کو غلط سمت میں لے جائے گی۔ اسلامی تہذیب و شناخت کو لے کر سر سید احمد خان خاصے حساس تھے، کانگریس میں شرکت سے دوری بنانے کے پس پشت مسلمانوں کی کم حیثیتی دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس پر ہندو وادیوں کا غلبہ ہے، بعد کے دنوں جس طرح کے ہندوتو اثرات کے دباؤ کا دائرہ بڑھ رہا ہے اس کا سر سید کی روایت و فکر اور فلسفہ تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔









