نئی دہلی :(ایجنسی)
سوریہ نمسکار معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے اور کئی پارٹیوں کی کوشش ہے کہ اس کو اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں مدعا بنائیں تاکہ انتخابات میں بنیادی مدعوں پر بات نہ ہو سکے۔اب وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے مسلم بچوں کو سوریہ نمسکار کے پروگراموں میں حصہ نہ لینے سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا بیان علیحدگی پسندی اور حکومت کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے ارادے سے دیا گیا ہے۔
وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے پیر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلم سماج کو ترقی کے دھارے سے کاٹ کر دور ِتاریک کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ سوریہ نمسکار ایک ایسی ورزش ہے جس سے پورے جسم کی نشوونما ہوتی ہے لیکن سوریہ نمسکار کے خلاف ایسی زبان استعمال کرنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ علیحدگی پسندی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا کر تباہی کے راستے کی جانب لے جانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پہلے بھی تین طلاق کیس پر سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے خواتین کے خلاف انتہائی توہین آمیز زبان کا استعمال کیا تھا۔ مسٹر جین نے مسلم سماج سے اپیل کی کہ وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی باتوں میں نہ آکر ترقی کی راہ کا انتخاب کریں اور انھیں یہ احساس دلائیں کہ وہ مسلم برادری کی نمائندگی نہیں کرتے ۔











