میرٹھ : (ایجنسی)
بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی شان میں گن گان کرنے کا منصوبہ جو چند سال پہلے شروع ہوا تھا ، وہ اب تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے ۔ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران شمالی ہندوستان کے کئی شہروں میں گوڈسے کے مندر بنانے کی کوشش ہوئی ہے اور اب اس سلسلے میں گاندھی کے قتل میں گوڈسے کے معاون رہے دیگر ملزموں کو بھی ’ شہید‘ کے طور پر قائم کیا جانے کی مہم شروع ہو گئی ہے ۔
ستیہ ہند ڈاٹ کام کے مطابق تازہ ترین معاملہ میرٹھ میں گوڈسے اور اس کے اہم معاون نارائن آپٹے کا مندر بنانے کا ہے ۔ اس عمل کو 15 نومبر کو انجام دیا گیا۔ اسی دن 1994 میں گوڈسے اورآپٹے کو امبالہ کی جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ آپٹے کا مجسمہ لگانے کے لیے اترپردیش کے شہر میرٹھ کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ درحقیقت نارائن آپٹے یا ناتھورام گوڈسے کا میرٹھ سے کبھی کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ چند ماہ بعد ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے مورتی کی تنصیب کے لیے میرٹھ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ میرٹھ مغربی اترپردیش کا ایک بڑا شہر ہے۔
گزشتہ لوک سبھا اور ودھان سبھا انتخابات میں بی جے پی نے مغربی اترپردیش میں فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی وجہ سے کافی کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ پولرائزیشن فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے ہوا۔ ان فسادات کی وجہ سے جاٹ اور مسلم کمیونٹی کا روایتی اتحاد ٹوٹ گیا جس کا فائدہ بی جے پی کو پہنچا۔ لیکن اس بار گزشتہ ایک سال سے زرعی قوانین کے خلاف جاری کسانوں کی تحریک کی وجہ سے وہ پولرائزیشن اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ایسے میں بی جے پی اس علاقے میں اپنی جگہ کھوتی نظر آرہی ہے۔
اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندو مہاسبھا کو پیادہ بنا کر مہاتما گاندھی کے قاتلوں کے مجسموں کے بہانے ماحول کو گرمانے اور پولرائز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم، بی جے پی نے بظاہر ہندو مہاسبھا کے اس عمل سے اپنی دوری برقرار رکھی ہے اور یہ ممکن ہے کہ مقامی پولیس انتظامیہ آنے والے دنوں میں گوڈسے اور آپٹے کی مورتیوں کو بھی ضبط کر لے۔









