اردو
हिन्दी
فروری 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بنگلہ دیش کے طلبا جو عمران خان،کیجریوال اور ایردوان کی طرح مقبول سیاسی جماعت بنانا چاہتے ہیں

12 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
55
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تجزیہ:تفسیر بابو

بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد ملک میں مختلف اوقات میں مختلف ناموں سے کئی نئی سیاسی جماعتیں بنیں۔ ان میں سے کچھ اب بھی موجود ہیں تاہم کُچھ وقت کے ساتھ ساتھ ملکی سیاسی منظر نامے سے غائب ہو گئیں۔
ان میں سے کچھ سیاسی جماعتیں دائیں بازو کی ہیں اور کچھ بائیں بازو کی۔ کچھ جماعتیں قوم پرستی کا نعرہ لگاتی رہی ہیں جبکہ دیگر سیکولر یا مذہبی نظریات کے ساتھ آگے بڑھی ہیں۔آزادی کے بعد بننے والی نئی جماعتوں میں بی این پی یعنی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ یہ وہ سیاسی جماعت تھی جس نے یکطرفہ طور پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اقتدار میں آئی۔نتیجتاً ملک کی سیاست وسیع پیمانے پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی: عوامی لیگ اور بی این پی۔اب ملک میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمہ اور عبوری حکومت میں شامل رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فروری کے تیسرے ہفتے میں ایک نیا ’سٹوڈنٹ گروپ‘ بننے جا رہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس نئی سیاسی جماعت یا سٹوڈنٹ گروپ کا نظریہ کیا ہوگا؟
کیا قیادت میں صرف نوجوان ہوں گے یا تجربہ کار لوگوں اور سیاسی شخصیات کو بھی اس میں جگہ ملے گی؟
اور سب سے اہم یہ کہ مذہب کے بارے میں اس نئی پارٹی کی سوچ اور موقف کیا ہوگا؟سٹوڈنٹ گروپ کی تشکیل کی نگرانی نیشنل سٹیزن کمیٹی اور امتیازی سلوک کے خلاف طلبہ تحریک کے رہنما کر رہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ نیا سٹوڈنٹ گروپ بنگلہ دیش میں بائیں بازو یا دائیں بازو کے سیاسی رجحانات سے آزاد ہو۔ جسے وہ اعتدال پسند پوزیشن کہتے ہیں۔
نیشنل سٹیزن کمیٹی کے ممبر سکریٹری اختر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم بائیں بازو اور دائیں بازو کی سیاست سے آزاد ہو کر مرکزی سیاست کی بات کر رہے ہیں۔ ہم بنگلہ دیش کے معاملے پر متحد رہنا چاہتے ہیں۔ ہم اسلاموفوبیا یا بنیاد پرست اسلامی یا بنیاد پرست ہندوتوا کی سیاست میں نہیں پڑنا چاہتے۔اس معاملے میں پارٹی کوئی نظریہ پیش نہیں کرنا چاہتی، چاہے وہ قوم پرست ہو، سیکولر ہو یا مذہبیطلبہ کا ممکنہ نیا گروپ سیکولر یا مذہبی ایسی کسی بھی شناخت کو اپنانا نہیں چاہتا۔نیشنل سٹیزن کمیٹی کی ترجمان سمانتھا شرمین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم حقوق، ذمہ داری اور سمجھوتے کی سیاست کو آگے لائیں گے تاکہ یہاں کوئی مخصوص رائے یا مذہب اہم نہ ہو لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کم وقت میں نئی سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ اور بنگلہ دیش کے طلبہ کی نظریں انھی سیاسی شخصیات کی طرف ہیں۔میں ترکی کے رجب طیب ایردوان کی اے کے پارٹی، پاکستان میں عمران خان کی تحریک انصاف اور انڈیا میں اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے خاص طور پر عالمی توجہ حاصل کی ہے۔
طلبہ کامیابی کے ’منتر‘ کی تلاش میں ان تینوں نئی جماعتوں کے پروگرامز، تنظیمی ڈھانچے وغیرہ کا بغور مطالعہ کر رہے ہیں۔ مثلاً وہ اس حوالے سے غور کر رہے ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ہوتے ہوئے تیسرے قوت کیسے بنے اور عوام میں انھیں مقبولیت کیسے حاصل ہوئیابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس نئی سیاسی جماعت یا قوت میں سب سے اوپر کون ہوگا۔ ایسی افواہیں بھی بنگلہ دیش کے سیاسی منظر نامہ پر گردش کر رہی ہیں کہ اس وقت عبوری حکومت میں شامل مشیر ’ناہید اسلام‘ یہ عہدہ خود سنبھال سکتے ہیں۔ اس صورت میں وہ مشیر کی حیثیت سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گےسٹوڈنٹ موومنٹ کے کوآرڈینیٹر ابو بکر مظفر کہتے ہیں کہ ’اگرچہ اس معاملے میں نوجوانوں کی اکثریت ہوگی لیکن تجربہ کار افراد کو پارٹی قیادت کی مختلف سطحوں پر جگہ دی جا سکتی ہے۔‘
اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو طلبہ کا نیا گروپ فروری کے تیسرے ہفتے میں پہنچ جائے گا۔ تاہم چیف ایڈوائزر کا کہنا تھا کہ نیا گروپ ایک ایسے وقت میں آ رہا ہے جب آئندہ دسمبر تک قومی انتخابات ہو سکتے ہیں۔سٹیزن کمیٹی کے رہنماؤں کو یقین ہے کہ وہ اپنے سیاسی سفر میں بغاوت کی حامی جماعتوں کو اپنے ساتھ پائیں گے۔ تاہم وہ فی الحال کسی اتحاد کا حصہ بننے یا ووٹنگ سے پہلے انتخابی اتحاد بنانے کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔کیونکہ وہ اپنے بل بوتے پر ایک بڑی سیاسی جماعت بننا چاہتے ہیں۔(بشکریہ بی بی سی،یہ تجزیہ نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

ٹیگ: BangladeshErdoganImran Khankejriwalpolitical partypopularStudents

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Islamophobia School Separate Function Issue
خبریں

اسلاموفوبیا: ایک ممتاز نجی اسکول میں مسلم اور غیر مسلم اسٹوڈنٹس کے علیحدہ سالانہ فنکشن، یہ ہوکیا رہا ہے؟

12 فروری
Bangladesh Referendum Possible Changes Overview
خبریں

بنگلہ دیشی ریفرینڈم کے حق میں گیے تو کیا کیا بدلے گا؟ مختصر جائزہ

12 فروری
Bangladesh Poll Two Rahmans Faceoff
خبریں

بنگلہ دیش میں پولنگ جاری، دو رحمان مد مدمقابل، کون بنے گا پی ایم؟

12 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
World News Brief

عالمی خبریں: اختصار کے ساتھ

جنوری 28, 2026
Urdu Language and Unani Medicine NEP 2020

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو زبان اور یونانی طب

جنوری 28, 2026
Jamiat Ulema-e-Hind Freedom Role

جمعیتہ علمائے ہند کو آزادی کی تاریخ میں جگہ کیوں نہیں ملی؟

جنوری 31, 2026
AI Quran Tafsir Prohibited

مصنوعی ذہانت (AI) سے قرآن پاک کی تفسیر شرعاً ممنوع :مصری دارالافتاء

جنوری 28, 2026
Islamophobia School Separate Function Issue

اسلاموفوبیا: ایک ممتاز نجی اسکول میں مسلم اور غیر مسلم اسٹوڈنٹس کے علیحدہ سالانہ فنکشن، یہ ہوکیا رہا ہے؟

Bangladesh Referendum Possible Changes Overview

بنگلہ دیشی ریفرینڈم کے حق میں گیے تو کیا کیا بدلے گا؟ مختصر جائزہ

Bangladesh Poll Two Rahmans Faceoff

بنگلہ دیش میں پولنگ جاری، دو رحمان مد مدمقابل، کون بنے گا پی ایم؟

Hate Speech Sarma Supreme Court Petition

ہیٹ اسپیچ:4 آسامی افراد نے سرما کے خلاف ایف آئی آر اور ایس آئی ٹی جانچ کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا

Islamophobia School Separate Function Issue

اسلاموفوبیا: ایک ممتاز نجی اسکول میں مسلم اور غیر مسلم اسٹوڈنٹس کے علیحدہ سالانہ فنکشن، یہ ہوکیا رہا ہے؟

فروری 12, 2026
Bangladesh Referendum Possible Changes Overview

بنگلہ دیشی ریفرینڈم کے حق میں گیے تو کیا کیا بدلے گا؟ مختصر جائزہ

فروری 12, 2026
Bangladesh Poll Two Rahmans Faceoff

بنگلہ دیش میں پولنگ جاری، دو رحمان مد مدمقابل، کون بنے گا پی ایم؟

فروری 12, 2026
Hate Speech Sarma Supreme Court Petition

ہیٹ اسپیچ:4 آسامی افراد نے سرما کے خلاف ایف آئی آر اور ایس آئی ٹی جانچ کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا

فروری 11, 2026

حالیہ خبریں

Islamophobia School Separate Function Issue

اسلاموفوبیا: ایک ممتاز نجی اسکول میں مسلم اور غیر مسلم اسٹوڈنٹس کے علیحدہ سالانہ فنکشن، یہ ہوکیا رہا ہے؟

فروری 12, 2026
Bangladesh Referendum Possible Changes Overview

بنگلہ دیشی ریفرینڈم کے حق میں گیے تو کیا کیا بدلے گا؟ مختصر جائزہ

فروری 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN