دیوبند:(نامہ نگار)
اتر پردیش مدرسہ بورڈ کے ہائی اسکول (سیکنڈری) 2020-21کے نتائج میں جامعہ رحمت گھگرولی کے طلبہ اور طالبات نے شاندار کامیابی کا مظاہرہ کیا۔جامعہ رحمت گھگرولی سہارنپور کے ہائی اسکول کے طلبہ و طالبات نے اتر پردیش مدرسہ بورڈ میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے مدرسہ اور اپنے اساتذہ و والدین کا نام روشن کیا ہے۔
طلبہ کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور علوم عصریہ میں مساوی دسترس کے لئے جامعہ میں حکومت سے منظور شدہ ہائی اسکول تک عصری تعلیم کا معیاری نظم ہے تاکہ طلبہ عصری تعلیم سے آراستہ ہوکر عصر حاضر کے چیلنجز کو بخوبی سمجھ سکیں اور مثبت و تعمیری انداز میں ان کا مقابلہ کرنے کے اہل ہوں۔
ادارہ اپنے مقصد میں تندہی کے ساتھ مصروف ہے اور اس کے فارغین کی ترقی روز افزوں ہے۔جامعہ سے اس سال بھی بہت سے طلبہ و طالبات نے اترپردیش مدرسہ بورڈ سے ہائی اسکول کے ریگولر اور پرائیویٹ فارم بھرے تھے جن میں سے اکثر طلبہ و طالبات نے امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی ہے۔
ادارے سے فارم بھرنے والے تمام طلبہ اور طالبات کا پاس رزلٹ الحمد للہ صد فی صد کامیاب رہا۔طالبات میں سے مصباح دودھ گڑھ نے اول پوزیشن ،نجمہ رضی رائے پور کلاں نے دوم پوزیشن اور رخسار روگلہ ہتھولی نے سوم پوزیشن سے کامیابی درج کی ہے۔جبکہ طلبہ میں سے ،تنصیر دودھ گڑھ نے اول پوزیشن ،حامد حسین خانپور گنگوہ نے دوم پوزیشن اور محمد شعیب مجاہد پو رنے سوم پوزیشن سے کامیابی حاصل کی۔جامعہ ہذا کے بانی و سرپرست اعلیٰ مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی نے کامیاب ہونے والے طلبہ اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کی ہے اور ان کے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ طلبہ قوم کا سرمایہ ہیں اور انہیں دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے آراستہ کرنامحض ہمارا کام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے جسے ہم سب کو مل کر پورا کرنا چاہیے،مجھے خوشی ہے کہ طلبہ کی محنت نتیجہ خیز رہی جس کے لئے وہ قابل مبارک باد ہیں۔نیز جامعہ ہذا کے روح رواں مولانا ڈاکٹر عبد المالک مغیثی سہارنپور نے بھی کامیاب طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کی اور ان کے مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور علم و عمل کو ہمیشہ اپنی زندگی کا مقصد بنائے رکھنے کی تلقین کی۔ضلع صدر ملی کونسل نے تمام طلباء کی کا میابی پر جملہ اسٹاف کو اپنی جانب سے مبارک باد پیش کی، خاص کرآل انڈیا ملی کونسل ضلع سہارنپور کے تمام کار کنان، عہدیداران کی جانب سے ان اساتذہ کو جنہوں نے ہندی، انگلش،اردو، عربی، سائنس وغیرہ مضامین بڑی لگن و محنت کے ساتھ پڑھائے۔









