نئی دہلی :(ایجنسی)
ہری دوار دھرم سنسد میں اشتعال انگیز تقاریر کی آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ اور دہلی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔
صحافی قربان علی اور پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی جس کی سماعت چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے کی۔
سینئر وکیل کپل سبل نے عرضی گزاروں کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ وہ ریاستی اور مرکزی حکام سے جلد از جلد جواب طلب کرے، تاکہ پروگرام کے منتظمین کےذریعہ اس طرح کے مزید ’دھرم سنسد‘ کا اعلان کیا گیا ہے، انہیں روکا جاسکے۔
’’اس طرح کے اگلے پروگرام کا علی گڑھ میں منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اگر جلد ہی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو یہ ’دھرم سنسد‘ پورے ملک میں، اونا، ڈاسنا میں منعقد کی جائیں گی۔ پورے ملک کا ماحول آلودہ ہو جائے گا۔ ملک کی اخلاقیات اور اقدار، یہ تشدد کو ہوا دے رہی ہے۔‘‘
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’’نفرت انگیز تقاریر میں ذات پات کی صفائی کے حصول کے لیے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے کھلے عام مطالبات شامل تھے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مذکورہ تقاریر محض نفرت انگیز تقاریر نہیں ہیں، بلکہ کھلی کال کے مترادف ہیں۔ ہمارے ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لیے سنگین خطرہ ہے، بلکہ لاکھوں مسلم شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ ہے۔‘‘
درخواست کے مطابق، متنازع یتی نرسنگھانند کی طرف سے ہری دوار میں اور گزشتہ سال 17 سے 19 دسمبر کے درمیان ایک خود ساختہ ہندو یووا واہنی تنظیم کی طرف سے دہلی میں منعقد کیے گئے دو پروگراموں نے ہندوستانی شہریوں کے ایک اہم طبقے کے خلاف اعلان جنگ کے لیے نفرت کو ہوا دی تھی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ تقریباً تین ہفتے گزر جانے کے باوجود، پولیس افسران کی جانب سے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جس میں مذکورہ نفرت انگیز تقاریر کے لیے آئی پی سی کی دفعہ 120B، 121A اور 153B کا اطلاق نہیں کیا گیا ہے۔
اس میں مزید بتایا گیا کہ پولیس حکام نے ہری دوار دھرم سنسد میں حصہ لینے والے 10 لوگوں کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی ہیں، لیکن مذکورہ ایف آئی آر میں بھی آئی پی سی کی صرف دفعہ 153A، 295A اور 298 لاگو کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ’’ پولیس کی نااہلی اس وقت بھی منظر عام پر آئی جب ایک پولیس افسر کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی، جس میں مذکورہ بالا تقریبات کے مقررین میں سے ایک نے کھلے عام دھرم سنسد کے منتظمین اور مقررین سے افسر کی وفاداری کا اظہار کیا۔ ‘‘











