نئی دہلی :(ایجنسی)
یوپی میں سی اے اے-این آر سی مخالف مظاہرین کی جائیدادوں کو ضبط کرنے پر سپریم کورٹ نے یوپی کی یوگی حکومت کو سخت پھٹکا لگائی ہے ہے اور کہا ہے کہ اسے فوری طور پر روکا جائے۔ یہ طے شدہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے جمعہ کو کہا کہ اتر پردیش حکومت نے ملزمین کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کی کارروائی میں ’شکایت کنندہ، فیصلہ کنندہ اور استغاثہ‘ کی طرح کام کیا ہے۔ عدالت نے یوپی حکومت سے کہا کہ ’ان کارروائیوں کو واپس لے لیں یا اس عدالت کے ذریعہ وضع کردہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ہم اسے منسوخ کردیں گے۔‘
سپریم کورٹ پرویز عارف ٹیٹو کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں اتر پردیش میں شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) مخالف مظاہروں کے دوران عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے ضلع انتظامیہ کی طرف سے مبینہ مظاہرین کو بھیجے گئے نوٹس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ریاست سے جواب طلب کیا گیا ہے۔
جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور سوریہ کانت کی بنچ نے نوٹس واپس لینے کی کارروائی نہ کرنے پر ریاستی حکومت کی سخت سرزنش کی اور کہا کہ اگر نوٹس واپس نہیں لیے گئے تو انہیں منسوخ کردیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ دسمبر 2019 میں شروع کی گئی کارروائی سپریم کورٹ کے ذریعہ وضع کردہ قانون کے خلاف تھی۔
بنچ نے کہا، ’نوٹس واپس لے لیں یا ہم اس عدالت کے ذریعہ وضع کردہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر اسے منسوخ کر دیں گے۔‘ ریاستی حکومت کو قانون کے تحت مناسب عمل کی پیروی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے، عدالت نے کہا، ’براہ کرم اس کی تحقیقات کریں، ہم 18 فروری تک کا ایک موقع دے رہے ہیں۔‘
قابل ذکر ہے کہ یوپی حکومت نے دسمبر 2019 میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو عوامی املاک کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے کے الزام میں وصولی کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔
بنچ نے ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل سے کہا کہ اس نے (حکومت) ملزم کی جائیدادوں کو قرق کرتے ہوئے ایک ‘شکایت کنندہ، جج اور پراسیکیوٹر‘کی طرح کام کیا۔
حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل گریما پرساد نے سماعت کے دوران کہا کہ آٹھ سو سے زیادہ فسادیوں کے خلاف 100 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان کے خلاف 274 ریکوری نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 236 میں ریکوری آرڈرز پاس کیے گئے، جب کہ 38 معاملات کو بند کردیا گیا۔
جسٹس سوریہ کانت نے کہا، ’میڈم پرساد، یہ صرف ایک تجویز ہے۔ یہ پٹیشن دسمبر 2019 میں ایک قسم کی تحریک یا احتجاج کے سلسلے میں بھیجے گئے نوٹس سے متعلق ہے۔ آپ انہیں قلم کی ضرب سے واپس لے سکتے ہیں۔‘ یوپی جیسی بڑی ریاست میں 236 کیسز کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اگر آپ سننے والے نہیں ہیں تو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ ہم آپ کو بتائیں گے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کیسے کیا جائے۔جسٹس چندر چوڑ نے پوچھا کہ اے ڈی ایم کیوں کارروائی کر رہا ہے جبکہ عدالت نے ہدایت دی تھی کہ فیصلہ جوڈیشل افسر کو کرنا ہے۔
اتر پردیش حکومت کے وکیل نے دعویٰ ٹریبونل کی تشکیل پر 2011 میں جاری ایک سرکاری حکم کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسے ہائی کورٹ نے اپنے بعد کے احکامات میں منظور کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست نے 31 اگست 2020 کو اتر پردیش ریکوری آف ڈیمیج ٹو پبلک اینڈ پرائیویٹ پراپرٹی ایکٹ کو مطلع کیا ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا، ’ہمیں دیگر کارروائیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہم صرف ان نوٹسوں سے متعلق ہیں جو دسمبر 2019 میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران بھیجے گئے تھے۔ آپ ہمارے احکامات کو ایک طرف نہیں رکھ سکتے۔ آپ اے ڈی ایم کی تقرری کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ ہم نے نہیں کہا، یہ کام عدالتی افسران کو کرنا چاہیے۔ دسمبر 2019 میں جو بھی کارروائی کی گئی وہ اس عدالت کے وضع کردہ قانون کے خلاف تھی۔ یوپی حکومت کے وکیل نے کہا کہ عدالت جو بھی کہے گی اس پر غور کیا جائے گا۔
بتادیں کہ یوگی حکومت نےسی سی اے ؍ این آر سی مخالف مظاہرین کی جائیدادوں کو عوامی مقامات پر چسپاں کرکے ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس میں بہت سے کارکن شامل تھے۔










