نئی دہلی:
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے مطالبہ کیا ہے کہ رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے ذریعہ زمین کی خریداری میں ہوئے مبینہ کرپشن اور شردھالوئوں کو دھوکا دینے کے واقعہ کی سپریم کورٹ آف انڈیا ازخود اعلیٰ سطحی جانچ کرے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ یہ بات انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے کہ شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے مندر کی تعمیر کے لیے مبینہ طور پر دو کروڑ کی ایک زمین کو 18 کروڑ پچاس لاکھ کی قیمت دے کر خریدا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے مودی حکومت بھی براہ راست ذمہ دار ہے ، اس لیے کہ اس نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد فروری2020 میں شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ قائم کر کے رام مندر تعمیر کی نگرانی کا فریضہ اسے سونپا تھا۔
انہوں نے آگے کہا کہ شردھالوئوں نے بڑے پیمانے پر مندر کی تعمیر کے لئے اس لئے بھی چندہ دیا تھا کہ اس مندر کا سنگ بنیاد خود وزیر اعظم شری نریندر مودی نے رکھا تھا اور اس تقریب میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، یوپی کی گورنر آنندی بین اور وزیراعلیٰ یو گی آدتیہ ناتھ بھی شامل ہو ئے تھے، جس نے اس کی وقعت اور بڑھا دی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ لاکھوں شردھالو جنہوں نے اپنے خون پسینہ کی کمائی رام مندر کی تعمیر کے لیے دی تھی، ان کی عقیدت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے گویا ’ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘۔
ڈاکٹر الیاس نے آخر میں کہا کہ بی جے پی نے بابری مسجد/ رام جنم بھومی تنازعہ کو ایک ملک گیر جذباتی اور اشتعال انگیز مسئلہ بناکر پورے ملک میں نفرت اور قتل غارت گری کا کھیل کھیلا تھا اور دن کے اجالے میں لاکھوں کارسیوکوں کو اجودھیا میں جمع کر کے بابری مسجدکے شہادت کی مرتکب ہو ئی تھی۔ اب وہی بی جے پی جس نے بابری مسجد کے ملبے پر اپنے اقتدار کی بنیاد رکھی تھی، انہی عقیدت مندوں اور اندھ بھکتوں کو دھوکا دے رہی ہے جنہوںنے اسے اقتدارکے سنگھاسن تک پہنچایا تھا۔











