مالیگاؤں: (ایجنسی)
بچپن میں اپنے بڑوں کو اردو کے تاش کھیلتے ہوئے دیکھا کرتے پھر جب شعور ہوا تو خود بھی اس کا حصہ بن گئے ۔ ان کارڈز کے ایک طرف پرکشش خطاطی میں اردو حروف تہجی پرنٹ کیے گئے تھے اور دوسری طرف دلکش ڈیزائن تھا۔ 2، 3، 4 یا 5 اور یہاں تک کہ 6 یا 7 کے گروپ میں فرصت کے اوقات میں کھیلتےان کو تعلیمی تاش کہتے تھے۔ یہ ذہنی ورزش کے ساتھ اردو سے واقفیت و الفاظ کی معلومات کا کھیل تھا جو زمانہ کی گرد میں کھوگیا ۔
مالیگاؤں کتاب میلہ میں تعلیمی تاش اور ان کی زبردست فروخت حیرت والی ہے۔ اردو کتاب میلے کے پہلے تین دنوں میں 400 سے زائد کاپیاں فروخت کیں۔

اطفال بک ڈپو مالیگاؤں کے پہلے بک سیلرز میں سے ایک ہے جو شہر کا ایک سرکردہ پبلشر بن گیا۔یہ اس وقت ہوا جب شاہین نے ممبئی کے ایک معروف ادارے سے پرنٹنگ اور پیپر ٹیکنالوجی میں اسپیشلائزیشن کا کورس کیا۔
تعلیمی تاش کو اصل میں تقریباً 100 سال قبل دہلی کے ایک پبلشر نے متعارف کرایا تھا۔ علمی تاش کے اپنے ورژن میں شاہین نے اصل تصور کو برقرار رکھا لیکن اسے مزید رنگین شکل دی۔
مزید یہ کہ شاہین نے اسے اس انداز میں دوبارہ ڈیزائن کیا جو اسے نہ صرف زیادہ پرکشش بناتا ہے بلکہ مزید مددگار اور معلوماتی بھی۔
’اصلی تاش میں کارڈ شیٹ پیپر پر صرف اردو کے حروف تہجی تھے۔ ہم نے چمکدار کاغذ کا استعمال کیا اور ہر کارڈ پر نمونہ الفاظ کے ساتھ حروف تہجی سے مماثل تصاویر اور تصاویر شامل کیں تاکہ شروعات کرنے والوں کو یہ اشارہ دیا جا سکے کہ اسے یہ کارڈ گیم کیسے کھیلنا چاہیے‘
آج جبکہ آٹی نے بچپن چھین لیا اور گیمز ورچوئل اور آن لائن کھیلے جا رہے ہیں، تعلیم تاش کا احیا ،اس کی پیاس خوشگوار و سکون دینے والی ہے ۔










