اردو
हिन्दी
جون 20, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہندستانی مسلمانوں میں مایوسی کا سبب،اس کاحل

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ Uncategorized
A A
0
ہندستانی مسلمانوں میں مایوسی کا سبب،اس کاحل
65
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:مفتی محمداطہرشمسی

گذشتہ کچھ عرصہ سے ہندوستانی مسلمانوں میں تازہ ملکی صورت حال کے حوالہ سےمایوسی کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایک نہایت با اثر صاحب علم تاجر کے بارے میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ ملک سے باہر منتقل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔اگر یہ صاحب ملک سے باہر منتقل ہوئے تو میرا خیال ہے کہ ان کے اس ذاتی فیصلہ کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ متاثر ہوں گے۔ آئی آئی ٹی کے فارغ ایک مسلم نوجوان نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی زندگی کو اس طرح پلان کر رہے ہیں کہ ان کے بچے ملک سے باہر تعلیم پائیں اور بیرون ملک منتقل ہو جائیں۔

مسلمانوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اصحاب ثروت طبقہ میں بڑھتا ہوا یہ رجحان مسلمانوں کے درمیان برپا اس مایوسی کی ایک علامت ہے۔سوال یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ مایوسی کیوں بڑھ رہی ہے؟ کیا اس مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں ایک خاص نظریہ کی حامل جماعت برسر اقتدار ہے؟ ملک کا اقتدار کسی دوسری جماعت کے ہاتھ میں آ جائے تو کیا ملک میں مسلمانوں کے لیے حالات زیادہ موافق ہو جائیں گے؟ کیا مایوسی محض تبدیلی اقتدار سے ختم ہوجائے گی؟قوموں میں در آنے والی مایوسی محض ایک خاص قسم کی حکومت کا نتیجہ نہیں ہوتی۔قوموں میں پیدا ہونے والی مایوسی دراصل ان کے اندر سے ختم ہونے والی خود اعتمادی کا نتیجہ ہوتی ہے۔قومیں جب خود اعتمادی سے محروم ہو جائیں تو ان کے اندر مایوسی پھیلنے لگتی ہے۔

مریض کو اگر اپنی قوت مدافعت پر بھروسہ ہو تو وہ پرامید رہتا ہے۔مریض جس لمحہ اپنی قوت مدافعت پر بھروسہ کھو بیٹھے، وہ مایوسی کے گہرے گڑھے میں جا گرتا ہے۔اس وقت مسلم قوم ایک ایسے ہی مریض کی مانند ہو چکی ہے۔اس وقت مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی نہیں ہے۔مسلمانوں کا اصل مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ وہ اپنی قومی خود اعتمادی کھو بیٹھے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ قومیں اپنی خود اعتمادی سے کیوں محروم ہو جاتی ہیں۔قومیں جب فطرت کے ان قوانین کی گہری سمجھ سے محروم ہو جائیں جو انھیں خوش حالی، ترقی اور ایک باعزت زندگی کی طرف لے کر جاتےہیں تو ان میں مایوسی اپنے پیر جمانے لگتی ہے۔قوموں میں جب تک ان قوانین فطرت کا شعور رہے، وہ ترقی اور خوش حالی کے ان قوانین پر پورا بھروسہ رکھتی ہیں اور ان قوانین کے مطابق اپنی قومی زندگی کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔قوموں کو خوش حالی اور ترقی کی جانب لے جانے والے قوانین ابدی اور غیر متغیر ہوتے ہیں۔ان ابدی اور غیر متغیر قوانین فطرت پر بھروسہ قوموں میں خود اعتمادی بھر دیتا ہے۔

پھر ان قوانین سے برآمد ہونے والے نتائج ان قوموں کی توانائی میں مزید اضافہ کا باعث ہوتے ہیں۔تاہم بعض اسباب کی بناپرمسلمانوں کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا ہے کہ وہ ان قوانین فطرت کا شعور کھو بیٹھے ہیں۔اگر آپ رات کے اندھیرے میں کسی نامعلوم منزل کے سفر پر نکلیں، راستہ میں کوئی روشنی ہواور نہ سیکیورٹی کی گارنٹی، تو ظاہر ہے کہ اس سفر کے نتیجہ میں آپ خود اعتمادی کھو بیٹھیں گے اور مایوسی کا شکار ہو جائیں گے۔ لیکن عین اسی سفر کے دوران اگر آپ کو راستہ معلوم ہو جائے اور ساتھ ہی روشنی کا انتظام بھی ہو جائے تو بہت جلد آپ کی خود اعتمادی لوٹ آئے گی اور آپ کی مایوسی ختم ہو جائے گی۔مسلمانوں کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت جس چیز کی ہے، اسے مذکورہ مثال کے ذریعہ سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔اس وقت مسلمانوں کو بحیثیت قوم اس تربیت کی ضرورت ہے کہ قوموں کو خوش حالی اور ترقی عطا کرنے والے قوانین فطرت کیا ہوتے ہیں۔

نیز ان قوانین فطرت کی پابندی کرکے ہم خود کو ملک اور دنیا کی ایک بہتر اور با عزت قوم کیسے بنا سکتے ہیں۔ہمیں قدرت کے ان اصولوں کو سمجھنے کی ضورت ہے جو کسی بھی انسانی گروہ کو بساط عالم پر ایک قائدانہ حیثیت عطا کرتے ہیں۔ کسی بھی قوم کے قائدین کا امتحان اس بات سے نہیں ہوتا کہ اُنھوں نے اپنی قوم کے لیے کس قدر احتجاج کیے۔ یا ان کے کس قدر افراد کو جیلوں سے رہا کرایا۔قوموں کے قائدین کا امتحان اس بات سے ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنی قوم کے افراد کو ان کی قومی خود اعتمادی واپس کر سکے ہیں۔

اگر آپ قوم میں خود اعتمادی کی توانائی نہ ڈال سکیں تو آپ ایک رفاہی خدمت انجام دینے والے عظیم الشان کارکن تو ہو سکتے ہیں، لیکن آپ قوم کے قائد نہیں ہو سکتے۔کسی بھی قوم کے قائد کا سب سے پہلا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم میں خود اعتمادی کی توانائی پیداکرے۔اگر کسی کمپنی کا سی ای او کمپنی کے ملازمین میں کمپنی کو عروج کی جانب لے جانے والا جذبہ اور محرک بیدار نہ کرسکے اور اس کی مدت کار کے دوران کمپنی میں ہر چہار جانب مایوسی اور نا امیدی کا ماحول عام ہو جائے تو کمپنی کا یہ سربراہ اپنی کمپنی سے متعلق افراد کی کتنی بھی مخلصانہ خدمت کرتا ہو، لیکن وہ ایک طویل مدت تک سی ای او کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ایک بااصول کمپنی ایسے شخص کو کمپنی سے متعلق افراد کا ایک مخلص خادم تو تصور کرے گی،لیکن سی ای او کے عہدے سے اسے بہت جلد محروم کر دیا جائے گا۔کمپنی یا قوم کے قائد کا سب سے پہلا فرض اپنی قوم میں حوصلہ اور خود اعتمادی کی توانائی بھر دینا ہوتا ہے۔اس سلسلہ میں سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ قوموں کی خوش حالی، ترقی اور کامیابی کے یہ قوانین قرآن میں بیان کر دیے گئے ہیں۔

ہمارے پاس وہ کتاب مکمل طور پر محفوظ صورت میں موجود ہے جس میں یہ تمام قوانین کھول کھول کر بیان کر دیے گیے ہیں۔قرآن بنیادی طور پر اقوام اور افراد کی دنیوی اور اخروی کامیابی و خوش حالی کے قوانین بیان کرنے والی کتاب ہے۔اسے معروف معنوں میں محض ایک مذہبی کتاب سمجھ لینے کا ایک نقصان یہ ہوا کہ ہم ان قوانین فطرت کے شعور سے محروم ہو گئے جو ہمیشہ قوموں کو زمانہ سے آگے رکھتے ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ کی اس کتاب کو مستقبل کے ایک وثیقہ کے طور پر پھر سے کھولا جائے۔اس کتاب میں وہ قوانین فطرت تلاش کیے جائیں جو قوموں کو دنیا کے اندر صرف لینے والے گروہ کے بجاے ایک دینے والا گروہ(giver community) بناسکیں۔قرآن قوموں کے عروج و زوال سے متعلق اصول کس طرح بیان کرتا ہے، اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔قرآن میں قوموں کے حوالہ سے ارشاد ہے ” تاکہ جس کو ہلاک ہونا ہو واضح دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہو روشن دلیل کی بنیاد پر زندہ رہے” (سورۃ انفال 9 آیت 42) ۔

اس آیت سے واضح ہوا کہ خدا کی بنائی ہوئی اس دنیا میں قوموں کی زندگی اور موت محض کوئی حادثہ یا اچانک پیش آ جانے والا واقعہ نہیں ہوتی بلکہ قوموں کی زندگی اور موت ایک روشن دلیل کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔یہاں قوموں کا عروج و زوال کوئی اندھا واقعہ نہیں ہوتا۔یہ خدا کے قائم کیے ہوئے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔یہاں جو قوم اپنے جوہر سے اپنی زندگی کا ثبوت دے ، وہ زندہ رہے گی اور جس قوم کے بارے میں ثابت ہو جائے کہ وہ زندگی بخش اہلیت سے محروم ہو چکی ہے،اسے وقت کے تھپیڑے ملیامیٹ کر دیتے ہیں۔آج ملک میں مسلمانوں کو درپیش حالات کا تجزیہ اسی قرآنی اصول کی روشنی میں کرنے کی ضرورت ہے۔مایوسی سے نکلنے کا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔(مضمون نگار القرآن اکیڈمی،کیرانہ کے ڈائریکٹر ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Uncategorized

امریکی تھنک ٹینک نے کیوں کہا: 2026 میں ہندوپاک کے درمیان جنگ ہوگی؟ یہ ہیں وجوہات

31 دسمبر
Iran Israel War Warning
Uncategorized

ایرانی وزیر خارجہ نےکہا، ہم پر ایک حملہ ہوسکتا ہے،جنگ کے لیے پہلے سے زیادہ تیار، اسرائیل کا بھی جواب آیا

22 دسمبر
Uncategorized

ترکیہ کی خاتون اول امینہ ایردوان کا غزہ کے حالات پر میلانی ٹرمپ کے نام  خط،حساسیت کے مظاہرہ کی اپیل

23 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
ٹرمپ پزشکیان معاہدہ

صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 14 نکاتی تاریخی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

جون 18, 2026
سماجوادی پارٹی، اکھلیش یادو، بی جے پی

سماجوادی پارٹی میں پھوٹ یا بی جے پی کا سیاسی بیانیہ؟

جون 18, 2026
Khan Sir News

خان سر کی بڑھ سکتی ہیں مشکلات! بھائی پرنس کی موت پر FIR کروانے تھانے پہنچے راؤشن آنند

جون 17, 2026
اکھلیش یادو کا بی جے پی پر حملہ

‘جب زمین کھسکتی ہے تو بی جے پی کو پھوٹ نظر آتی ہے’: اکھلیش یادو کا یوگی حکومت کو کرارا جواب

میلونی ٹرمپ تنازع

‘نہ میں نے منت کی، نہ اٹلی جھکا’، میلونی کا ٹرمپ کے بیان پر دوٹوک جواب

مودی نے راہل گاندھی کو مبارکباد دی PM Modi Wishes Rahul Gandhi On Birthday

56 سال کے ہوئے راہل گاندھی، پی ایم مودی نے دی مبارکباد

ایران جنگ لائیو اپڈیٹ

ایران تاریخی امن معاہدہ خطرے میں! اسرائیل کے حملوں پر ایران نے روکے مذاکرات، امریکی نائب صدر کا دورہ منسوخ!

اکھلیش یادو کا بی جے پی پر حملہ

‘جب زمین کھسکتی ہے تو بی جے پی کو پھوٹ نظر آتی ہے’: اکھلیش یادو کا یوگی حکومت کو کرارا جواب

جون 19, 2026
میلونی ٹرمپ تنازع

‘نہ میں نے منت کی، نہ اٹلی جھکا’، میلونی کا ٹرمپ کے بیان پر دوٹوک جواب

جون 19, 2026
مودی نے راہل گاندھی کو مبارکباد دی PM Modi Wishes Rahul Gandhi On Birthday

56 سال کے ہوئے راہل گاندھی، پی ایم مودی نے دی مبارکباد

جون 19, 2026
ایران جنگ لائیو اپڈیٹ

ایران تاریخی امن معاہدہ خطرے میں! اسرائیل کے حملوں پر ایران نے روکے مذاکرات، امریکی نائب صدر کا دورہ منسوخ!

جون 19, 2026

حالیہ خبریں

اکھلیش یادو کا بی جے پی پر حملہ

‘جب زمین کھسکتی ہے تو بی جے پی کو پھوٹ نظر آتی ہے’: اکھلیش یادو کا یوگی حکومت کو کرارا جواب

جون 19, 2026
میلونی ٹرمپ تنازع

‘نہ میں نے منت کی، نہ اٹلی جھکا’، میلونی کا ٹرمپ کے بیان پر دوٹوک جواب

جون 19, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN