اردو
हिन्दी
جولائی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تاریخ کا بدلتا بیانیہ اور سچ کی تلاش

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
تاریخ کا بدلتا بیانیہ اور سچ کی تلاش
44
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ڈاکٹر مبارک علی

ایسا بھی ہوتا ہے کہ اکثر مورخ کسی واقعے کی اہمیت بڑھانے کے لئے اس کے بارے میں اس قسم کی رائے دے دیتے ہیں کہ جس کا تاریخ سے تو کوئی واسطہ نہیں ہوتا مگر ان کے بیان کی وجہ سے وہ ایک نئی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ یہاں ہم دو ایک مثالوں سے اپنی بات کی وضاحت کریں گے۔ مثلاً ایڈورڈ گبن، جو ’’ڈیکلائن اینڈ فال آف رومن ایمپائر‘‘ کے مصنف ہیں۔ انہوں نے چارلس مارٹل اور عربوں کے درمیان ہونے والی پوئٹر کی جنگ کے بارے میں یہ رائے دی ( 1356ء میں لڑی گئی تھی) کہ اگر اس جنگ میں عرب فتح یاب ہو جاتے تو آج آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں میں قرآن کی تفسیر پڑھائی جا رہی ہوتی۔ ایڈورڈ گبن کا یہ بیان مبالغہ آمیزی پر مبنی ہے۔ اس وقت عرب اندلس پر قابض تھے اور وہاں سے وہ مسیحی ہمسایہ ملکوں پر حملے کرتے تھے۔

لیکن جنوبی فرانس پر یہ حملہ کوئی فوجی مہم نہیں تھی بلکہ یہ عیسائی سرحدی علاقوں پر لوٹ مار کرنے والے عربوں کے فوجی دستے تھے۔ اس لئے چارلس مارٹل کی فتح کسی بڑے عربی حملے کو شکست دینے سے نہیں ہوئی اور جب عربوں کے دستوں کو جنگ میں شکست ہوئی تو وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

چارلس مارٹل ان کا تعاقب اس وجہ سے نہیں کر سکا کیونکہ ان کے پاس گھوڑوں کو کنٹرول کرنے کے لئے لگام نہیں تھے جبکہ عربوں کے گھوڑے لگاموں سے کنٹرول ہوتے تھے۔ ایڈورڈ گبن کے اس بیان کی وجہ سے چارلس مارٹل ہیرو ہو گیا کہ جس نے مسلمانوں کے حملے سے مسیحی دنیا کا دفاع کیا۔ لیکن اب نئی تحقیق کے ذریعے مورخ اس حقیقت تک پہنچے ہیں کہ جنوبی فرانس میں اس جنگ سے پہلے ہی مسلمانوں کی آبادی تھی اور ان کا قبرستان آج تک وہاں محفوظ ہے، لہٰذا اس نئی تحقیق نے چارلس مارٹل کے کردار کو گھٹا دیا ہے۔

ہندوستان کی تاریخ کے بارے میں بھی یورپ کے دانشوروں کی جو رائے تھی، اس کی بنیاد اس پر تھی کہ انہیں ہندوستان کے بارے میں پوری معلومات نہیں تھی۔ اس وجہ سے مشہور جرمن فلسفی یوہان گوٹفریڈ ہیرڈر (d.1803) نے سب سے پہلے یہ بات کہی کہ ہندوستان کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ اسی رائے کو بعد میں ہیگل اور مارکس نے بھی دہرا دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انیسویں صدی کے وسط تک ہندوستان کی تاریخ کے بارے میں اہل یورپ کو بہت کم معلومات تھیں اور وادی سندھ کی تہذیب ابھی دریافت نہیں ہوئی تھی۔

موریہ خاندان کے بادشاہ اشوک کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ قدیم ہندوستان کی تاریخ اور اس کی یادگاریں بھی گمنام تھیں۔ اس وجہ سے معلومات کا ذریعہ عہد وسطیٰ کی وہ تاریخ تھی، جس میں حکمران خاندانوں کی حکومت ہوتی تھی اور یہ خاندان اندرونی جنگوں کی وجہ سے بدلتے بھی رہتے تھے۔ ہندوستان کے فلسفے اور یہاں دانشوروں کے کردار کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں لیکن وقت گزرنے کے بعد جب آثار قدیمہ کی کوششوں سے ہڑپہ اور موہنجوڈارو کے شہر دریافت ہوئے، کوٹلیا کی ارتھ شاستر کا مسودہ ملا، بھگتی تحریک کے دانشوروں کا کردار سامنے آیا اور عہد وسطیٰ میں جو علمی اور ادبی کام ہوا تھا، اس سے اہل یورپ کو واقفیت ہوئی تو نئی تحقیق نے اس رائے کو غلط ثابت کر دیا کہ ہندوستان کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔

اس کے برعکس اب موجودہ زمانے میں ہندوستانی ادب اور فلسفے سے اہل یورپ کے دانشور متاثر ہوئے ہیں اور ہندوستانی تاریخ کے گمشدہ پہلو سامنے آ رہے ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی تہذیب برابر بدلتی رہی اور اس نے چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو بھی متاثر کیا۔

اسی طرح سے افریقہ کے بارے میں بھی غلط رائے قائم کر کے اہل یورپ کے دانشوروں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ افریقہ ایک تاریک براعظم ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ نہ تو اس کی کوئی تاریخ ہے اور نہ ہی کوئی کلچر لیکن وقت کے ساتھ اس رائے کو بھی چیلنج کیا گیا۔ ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی بنیاد پر ہومو سپین ایتھوپیا میں ارتقاء پذیر ہو کر دنیا کے دوسرے علاقوں میں گئے۔ اس لحاظ سے تمام انسان بنیادی طور پر افریقی ہیں۔ رنگ و نسل کی بنیاد آب و ہوا قبائلوں کی علیحدگی سے پیدا ہوئی لیکن اب آثار قدیمہ کے ماہرین اور مورخوں نے افریقہ کی گمشدہ تاریخ کو دریافت کر کے اسے مکمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ فرانس کے دانشور فرانسواں وولنے (d.1820) نے اپنی کتاب ’’دا روئنز‘‘ میں ایتھوپیا اور شمالی افریقہ کی تہذیب پر روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اس تہذیب کا اثر بحیرہ روم کے اردگرد واقع ملکوں پر ہوا۔

دوسرا مورخ، جس نے افریقہ کی تاریخ پر گہرا مطالعہ کیا ہے وہ مارٹن بیرنل (d.2013) ہیں، جس نے اپنی کتاب ’’بلیک ایتھینا‘‘، جو تین جلدوں میں شائع ہوئی ہے، میں یہ ثابت کیا ہے کہ یونان کی تہذیب افریقہ کی تہذیب سے متاثر ہوئی تھی۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے قدیم داستانوں، آثار قدیمہ کی یادگاروں، فوک کہانیوں، گیتوں اور نئی تحقیق کی بنیاد پر یہ ثابت کیا ہے کہ جزیرہ کریٹ کی تہذیب نے مصر سے سیکھا اور اس کا اثر یونان کی کلاسیکل تہذیب پر ہوا۔

اس حقیقت کو اب تک یورپی مورخ چھپاتے رہے لیکن اب واضح ثبوت ہونے کی وجہ سے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ یونان کی تہذیب کو تشکیل دینے میں خاص طور سے مصری تہذیب کا بڑا حصہ ہے۔ جب افریقی ممالک یورپی سامراج سے آزاد ہوئے تو انہوں نے اپنی تاریخ کو مرتب کرنا شروع کیا۔

اب نہ صرف افریقہ کے ممالک میں بلکہ یورپ اور امریکا کے تعلیمی اداروں میں بھی افریقہ پر تحقیق ہو رہی ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین قدیم تہذیبوں کے نشانات کو سامنے لا رہے ہیں۔ لہٰذا اب افریقہ تاریک نہیں رہا ہے بلکہ اس کی اپنی تاریخ اور اپنی شناخت ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تاریخ کے بارے میں کوئی ایک رائے مستند نہیں ہوتی۔ نئی تحقیق تاریخ کے بیانیے کو بدلتی رہتی ہے اور یہی تاریخ کی خوبصورتی ہے کہ اس کی تشکیل نو برابر ہوتی رہتی ہے۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

رام مندر چندہ معاملہ: چمپت رائے اور انیل مشرا کے خلاف مقدمے کی تیاری، بار ایسوسی ایشن میدان میں
خبریں

رام مندر چندہ معاملہ: چمپت رائے اور انیل مشرا کے خلاف مقدمے کی تیاری، بار ایسوسی ایشن میدان میں

02 جولائی
واٹس ایپ کے نئے Username فیچر
خبریں

واٹس ایپ کے نئے Username فیچر پر حکومت کی روک، میٹا سے 3 دن میں جواب طلب

02 جولائی
رام مندر چندہ خردبرد کیس:
خبریں

8 میں سے 6 ملزمان وارانسی کی فرم سے وابستہ، چمپت رائے پر اب بھی سوالات برقرار

01 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
رام مندر چندہ معاملہ: چمپت رائے اور انیل مشرا کے خلاف مقدمے کی تیاری، بار ایسوسی ایشن میدان میں

رام مندر چندہ معاملہ: چمپت رائے اور انیل مشرا کے خلاف مقدمے کی تیاری، بار ایسوسی ایشن میدان میں

واٹس ایپ کے نئے Username فیچر

واٹس ایپ کے نئے Username فیچر پر حکومت کی روک، میٹا سے 3 دن میں جواب طلب

رام مندر چندہ خردبرد کیس:

8 میں سے 6 ملزمان وارانسی کی فرم سے وابستہ، چمپت رائے پر اب بھی سوالات برقرار

ٹرمپ ایران وارننگ

امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ کو بڑا دھچکا ، پیدائشی شہریت ختم کرنے کی کوشش مسترد

رام مندر چندہ معاملہ: چمپت رائے اور انیل مشرا کے خلاف مقدمے کی تیاری، بار ایسوسی ایشن میدان میں

رام مندر چندہ معاملہ: چمپت رائے اور انیل مشرا کے خلاف مقدمے کی تیاری، بار ایسوسی ایشن میدان میں

جولائی 2, 2026
واٹس ایپ کے نئے Username فیچر

واٹس ایپ کے نئے Username فیچر پر حکومت کی روک، میٹا سے 3 دن میں جواب طلب

جولائی 2, 2026
رام مندر چندہ خردبرد کیس:

8 میں سے 6 ملزمان وارانسی کی فرم سے وابستہ، چمپت رائے پر اب بھی سوالات برقرار

جولائی 1, 2026
ٹرمپ ایران وارننگ

امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ کو بڑا دھچکا ، پیدائشی شہریت ختم کرنے کی کوشش مسترد

جولائی 1, 2026

حالیہ خبریں

رام مندر چندہ معاملہ: چمپت رائے اور انیل مشرا کے خلاف مقدمے کی تیاری، بار ایسوسی ایشن میدان میں

رام مندر چندہ معاملہ: چمپت رائے اور انیل مشرا کے خلاف مقدمے کی تیاری، بار ایسوسی ایشن میدان میں

جولائی 2, 2026
واٹس ایپ کے نئے Username فیچر

واٹس ایپ کے نئے Username فیچر پر حکومت کی روک، میٹا سے 3 دن میں جواب طلب

جولائی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN