اردو
हिन्दी
اکتوبر 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تاریخ کا بدلتا بیانیہ اور سچ کی تلاش

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
تاریخ کا بدلتا بیانیہ اور سچ کی تلاش
45
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ڈاکٹر مبارک علی

ایسا بھی ہوتا ہے کہ اکثر مورخ کسی واقعے کی اہمیت بڑھانے کے لئے اس کے بارے میں اس قسم کی رائے دے دیتے ہیں کہ جس کا تاریخ سے تو کوئی واسطہ نہیں ہوتا مگر ان کے بیان کی وجہ سے وہ ایک نئی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ یہاں ہم دو ایک مثالوں سے اپنی بات کی وضاحت کریں گے۔ مثلاً ایڈورڈ گبن، جو ’’ڈیکلائن اینڈ فال آف رومن ایمپائر‘‘ کے مصنف ہیں۔ انہوں نے چارلس مارٹل اور عربوں کے درمیان ہونے والی پوئٹر کی جنگ کے بارے میں یہ رائے دی ( 1356ء میں لڑی گئی تھی) کہ اگر اس جنگ میں عرب فتح یاب ہو جاتے تو آج آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں میں قرآن کی تفسیر پڑھائی جا رہی ہوتی۔ ایڈورڈ گبن کا یہ بیان مبالغہ آمیزی پر مبنی ہے۔ اس وقت عرب اندلس پر قابض تھے اور وہاں سے وہ مسیحی ہمسایہ ملکوں پر حملے کرتے تھے۔

لیکن جنوبی فرانس پر یہ حملہ کوئی فوجی مہم نہیں تھی بلکہ یہ عیسائی سرحدی علاقوں پر لوٹ مار کرنے والے عربوں کے فوجی دستے تھے۔ اس لئے چارلس مارٹل کی فتح کسی بڑے عربی حملے کو شکست دینے سے نہیں ہوئی اور جب عربوں کے دستوں کو جنگ میں شکست ہوئی تو وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

چارلس مارٹل ان کا تعاقب اس وجہ سے نہیں کر سکا کیونکہ ان کے پاس گھوڑوں کو کنٹرول کرنے کے لئے لگام نہیں تھے جبکہ عربوں کے گھوڑے لگاموں سے کنٹرول ہوتے تھے۔ ایڈورڈ گبن کے اس بیان کی وجہ سے چارلس مارٹل ہیرو ہو گیا کہ جس نے مسلمانوں کے حملے سے مسیحی دنیا کا دفاع کیا۔ لیکن اب نئی تحقیق کے ذریعے مورخ اس حقیقت تک پہنچے ہیں کہ جنوبی فرانس میں اس جنگ سے پہلے ہی مسلمانوں کی آبادی تھی اور ان کا قبرستان آج تک وہاں محفوظ ہے، لہٰذا اس نئی تحقیق نے چارلس مارٹل کے کردار کو گھٹا دیا ہے۔

ہندوستان کی تاریخ کے بارے میں بھی یورپ کے دانشوروں کی جو رائے تھی، اس کی بنیاد اس پر تھی کہ انہیں ہندوستان کے بارے میں پوری معلومات نہیں تھی۔ اس وجہ سے مشہور جرمن فلسفی یوہان گوٹفریڈ ہیرڈر (d.1803) نے سب سے پہلے یہ بات کہی کہ ہندوستان کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ اسی رائے کو بعد میں ہیگل اور مارکس نے بھی دہرا دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انیسویں صدی کے وسط تک ہندوستان کی تاریخ کے بارے میں اہل یورپ کو بہت کم معلومات تھیں اور وادی سندھ کی تہذیب ابھی دریافت نہیں ہوئی تھی۔

موریہ خاندان کے بادشاہ اشوک کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ قدیم ہندوستان کی تاریخ اور اس کی یادگاریں بھی گمنام تھیں۔ اس وجہ سے معلومات کا ذریعہ عہد وسطیٰ کی وہ تاریخ تھی، جس میں حکمران خاندانوں کی حکومت ہوتی تھی اور یہ خاندان اندرونی جنگوں کی وجہ سے بدلتے بھی رہتے تھے۔ ہندوستان کے فلسفے اور یہاں دانشوروں کے کردار کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں لیکن وقت گزرنے کے بعد جب آثار قدیمہ کی کوششوں سے ہڑپہ اور موہنجوڈارو کے شہر دریافت ہوئے، کوٹلیا کی ارتھ شاستر کا مسودہ ملا، بھگتی تحریک کے دانشوروں کا کردار سامنے آیا اور عہد وسطیٰ میں جو علمی اور ادبی کام ہوا تھا، اس سے اہل یورپ کو واقفیت ہوئی تو نئی تحقیق نے اس رائے کو غلط ثابت کر دیا کہ ہندوستان کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔

اس کے برعکس اب موجودہ زمانے میں ہندوستانی ادب اور فلسفے سے اہل یورپ کے دانشور متاثر ہوئے ہیں اور ہندوستانی تاریخ کے گمشدہ پہلو سامنے آ رہے ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی تہذیب برابر بدلتی رہی اور اس نے چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو بھی متاثر کیا۔

اسی طرح سے افریقہ کے بارے میں بھی غلط رائے قائم کر کے اہل یورپ کے دانشوروں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ افریقہ ایک تاریک براعظم ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ نہ تو اس کی کوئی تاریخ ہے اور نہ ہی کوئی کلچر لیکن وقت کے ساتھ اس رائے کو بھی چیلنج کیا گیا۔ ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی بنیاد پر ہومو سپین ایتھوپیا میں ارتقاء پذیر ہو کر دنیا کے دوسرے علاقوں میں گئے۔ اس لحاظ سے تمام انسان بنیادی طور پر افریقی ہیں۔ رنگ و نسل کی بنیاد آب و ہوا قبائلوں کی علیحدگی سے پیدا ہوئی لیکن اب آثار قدیمہ کے ماہرین اور مورخوں نے افریقہ کی گمشدہ تاریخ کو دریافت کر کے اسے مکمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ فرانس کے دانشور فرانسواں وولنے (d.1820) نے اپنی کتاب ’’دا روئنز‘‘ میں ایتھوپیا اور شمالی افریقہ کی تہذیب پر روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اس تہذیب کا اثر بحیرہ روم کے اردگرد واقع ملکوں پر ہوا۔

دوسرا مورخ، جس نے افریقہ کی تاریخ پر گہرا مطالعہ کیا ہے وہ مارٹن بیرنل (d.2013) ہیں، جس نے اپنی کتاب ’’بلیک ایتھینا‘‘، جو تین جلدوں میں شائع ہوئی ہے، میں یہ ثابت کیا ہے کہ یونان کی تہذیب افریقہ کی تہذیب سے متاثر ہوئی تھی۔ اس نے دلیل دیتے ہوئے قدیم داستانوں، آثار قدیمہ کی یادگاروں، فوک کہانیوں، گیتوں اور نئی تحقیق کی بنیاد پر یہ ثابت کیا ہے کہ جزیرہ کریٹ کی تہذیب نے مصر سے سیکھا اور اس کا اثر یونان کی کلاسیکل تہذیب پر ہوا۔

اس حقیقت کو اب تک یورپی مورخ چھپاتے رہے لیکن اب واضح ثبوت ہونے کی وجہ سے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ یونان کی تہذیب کو تشکیل دینے میں خاص طور سے مصری تہذیب کا بڑا حصہ ہے۔ جب افریقی ممالک یورپی سامراج سے آزاد ہوئے تو انہوں نے اپنی تاریخ کو مرتب کرنا شروع کیا۔

اب نہ صرف افریقہ کے ممالک میں بلکہ یورپ اور امریکا کے تعلیمی اداروں میں بھی افریقہ پر تحقیق ہو رہی ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین قدیم تہذیبوں کے نشانات کو سامنے لا رہے ہیں۔ لہٰذا اب افریقہ تاریک نہیں رہا ہے بلکہ اس کی اپنی تاریخ اور اپنی شناخت ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تاریخ کے بارے میں کوئی ایک رائے مستند نہیں ہوتی۔ نئی تحقیق تاریخ کے بیانیے کو بدلتی رہتی ہے اور یہی تاریخ کی خوبصورتی ہے کہ اس کی تشکیل نو برابر ہوتی رہتی ہے۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

آخر کیوں سلگ رہا ہے یورپ؟ پیرس سے البانیہ تک سڑکوں پر احتجاج
خبریں

آخر کیوں سلگ رہا ہے یورپ؟ پیرس سے البانیہ تک سڑکوں پر احتجاج

20 اکتوبر
سنگھ کے صد سالہ اجلاس کے پیغامات و اشارے
خبریں

’بھارت ان کا اصل ہدف ہے‘، موہن بھاگوت کا بیرونی قوتوں پر الزام، کہا حکومت بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے

20 اکتوبر
کولکاتا درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ، 19 افراد ہلاک؛ منتظمین سمیت 7 گرفتار
خبریں

کولکاتا درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ، 19 افراد ہلاک؛ منتظمین سمیت 7 گرفتار

18 اکتوبر
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
لندن میں ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے، SIR اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج

لندن میں ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے، SIR اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج

اکتوبر 18, 2026
آخر کیوں سلگ رہا ہے یورپ؟ پیرس سے البانیہ تک سڑکوں پر احتجاج

آخر کیوں سلگ رہا ہے یورپ؟ پیرس سے البانیہ تک سڑکوں پر احتجاج

سنگھ کے صد سالہ اجلاس کے پیغامات و اشارے

’بھارت ان کا اصل ہدف ہے‘، موہن بھاگوت کا بیرونی قوتوں پر الزام، کہا حکومت بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے

کولکاتا درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ، 19 افراد ہلاک؛ منتظمین سمیت 7 گرفتار

کولکاتا درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ، 19 افراد ہلاک؛ منتظمین سمیت 7 گرفتار

لندن میں ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے، SIR اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج

لندن میں ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے، SIR اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج

آخر کیوں سلگ رہا ہے یورپ؟ پیرس سے البانیہ تک سڑکوں پر احتجاج

آخر کیوں سلگ رہا ہے یورپ؟ پیرس سے البانیہ تک سڑکوں پر احتجاج

اکتوبر 20, 2026
سنگھ کے صد سالہ اجلاس کے پیغامات و اشارے

’بھارت ان کا اصل ہدف ہے‘، موہن بھاگوت کا بیرونی قوتوں پر الزام، کہا حکومت بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے

اکتوبر 20, 2026
کولکاتا درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ، 19 افراد ہلاک؛ منتظمین سمیت 7 گرفتار

کولکاتا درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ، 19 افراد ہلاک؛ منتظمین سمیت 7 گرفتار

اکتوبر 18, 2026
لندن میں ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے، SIR اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج

لندن میں ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے، SIR اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج

اکتوبر 18, 2026

حالیہ خبریں

آخر کیوں سلگ رہا ہے یورپ؟ پیرس سے البانیہ تک سڑکوں پر احتجاج

آخر کیوں سلگ رہا ہے یورپ؟ پیرس سے البانیہ تک سڑکوں پر احتجاج

اکتوبر 20, 2026
سنگھ کے صد سالہ اجلاس کے پیغامات و اشارے

’بھارت ان کا اصل ہدف ہے‘، موہن بھاگوت کا بیرونی قوتوں پر الزام، کہا حکومت بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے

اکتوبر 20, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN