اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تاج محل کے بند کمرے،جن کے بارے میں افسانے گڑھے جاتے ہیں

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
تاج محل کے بند کمرے،جن کے بارے میں افسانے گڑھے جاتے ہیں
123
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:سوتک بسواس

کیا دنیا کی سب سے بڑی یادگاروں میں سے ایک کے قفل شدہ تہہ خانوں میں کوئی راز چھپا ہے؟ انڈیا میں ہائی کورٹ سے تعلق رکھنے والے جج ایسا نہیں سوچتے۔

جمعرات کو انھوں نے انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رکن کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کر دیا گیا، جس میں تاج محل کے 20 سے زیادہ ’مستقل طور پر بند کمروں‘ کے دروازے کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ ’یادگار کی حقیقی تاریخ‘ کا پتا لگایا جا سکے۔

رجنیش سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ وہ ’تاریخ دانوں اور عبادت گزاروں کے دعوؤں‘ کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ کمروں میں ہندو دیوتا شیو کا مزار ہے۔

تاج محل آگرہ شہر میں 17ویں صدی کے دریا کے کنارے کا ایک مقبرہ ہے جسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی ملکہ ممتاز کی یاد میں تعمیر کرایا تھا جو اپنے 14 ویں بچے کو جنم دیتے وقت فوت ہو گئی تھیں۔

حیرت انگیز یادگار جو اینٹوں، سرخ ریت کے پتھر اور سفید سنگ مرمر سے تعمیر کی گئی، یہ اپنی پیچیدہ جالیوں کے کام کے لیے مشہور ہے اور انڈیا کے سب سے بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے لیکن تسلیم شدہ تاریخ بی جے پی رہنما کے لیے قابل قبول نہیں۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی ’ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کمروں کے پیچھے کیا ہے۔‘

بہت سے مقفل کمرے جن کی جانب رجنیش سنگھ اشارہ کر رہے ہیں وہ مقبرے کے زیر زمین چیمبر میں واقع ہیں اور یادگار کی سب سے زیادہ مستند دستاویزی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں کچھ زیادہ نہیں۔

تاج محل کی مجسٹریل سٹڈی کی مصنفہ ایبا کوچ نے اپنی تحقیق کے دوران تاج محل کے کمروں اور گزرگاہوں کا دورہ کیا اور ان کی تصویر کشی کی۔

یہ کمرے گرمی کے مہینوں میں تہہ خانے یا زیر زمین کوٹھری کا حصہ ہوتے تھے۔ یادگار کے دریا کے رخ پر برآمدے میں ایک گیلری ’کمروں کے ایک سلسلے‘ پر مشتمل ہے۔ ایبا کوچ کو 15 کمرے ملے جو دریا کے رخ کے ساتھ ایک قطار میں ترتیب سے تعمیر کیے گئے اور ایک تنگ راہداری یہاں تک جاتی ہے۔

سات بڑے کمرے تھے جن میں ہر طرف طاق بنے ہوئے تھے، چھ مربع کمرے اور دو بڑے کمرے اصل میں خوبصورت محرابوں کے ذریعے دریا کا منظر دیکھنے کے لیے ہیں۔

انھوں نے دیکھا کہ کمروں میں ’سفیدی کے نیچے پینٹ شدہ نقش و نگار کے اثرات ہیں۔ کمروں کی چھت پر خوبصورت دائروں میں نقش و نگار ہیں اور چھت کے بیچ میں جالی دار نمونے‘ تھے۔

ایشین آرٹ کی پروفیسر کوچ کے مطابق ’یہ ایک خوبصورت ہوا دار جگہ ہے، جو شہنشاہ، ان کی خواتین اور ان کے رفقا کو مقبرے کی زیارت کے دوران ایک ٹھنڈی آرام گاہ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اب اس میں قدرتی روشنی نہیں۔‘

ایسی زیر زمین گیلریاں مغل فن تعمیر میں جا بجا ملتی ہیں۔ سرحد پار پاکستان کے شہر لاہور میں مغلیہ دور کے ایک قلعہ میں، دریا کے رخ پر قائم اس طرح کے کمروں کا ایک سلسلہ ہے۔

امیتا بیگ، ایک انڈین کنزرویٹر ہیں، جنھوں نے تقریباً 20 سال قبل اس جگہ کا دورہ کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ شاہ جہاں اکثر دریائے جمنا پر کشتی کے ذریعے تاج محل پہنچتے تھے اور سیڑھیوں یا گھاٹوں کے ایک وسیع سلسلے سے ہوتے ہوئے مقبرے میں داخل ہوتے تھے۔

’جب میں نے اس جگہ کا دورہ کیا تو مجھے خوبصورتی سے پینٹ کی گئی راہداری کا خیال آیا۔ مجھے ایک بڑی جگہ میں کھلنے والی راہداری یاد ہے۔ یہ واضح طور پر شہنشاہ کی گزرگاہ تھی۔‘

آگرہ میں پرورش پانے والی اور دلی میں مقیم مورخ رانا صفوی کو یاد ہے کہ زیر زمین کمرے سنہ 1978 میں آنے والے سیلاب تک زائرین کے لیے کھلے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پانی یادگار میں داخل ہو گیا تھا، زیر زمین کچھ کمروں میں گڑھے اور کچھ دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ اس کے بعد حکام نے کمروں کو عوام کے لیے بند کر دیا تھا۔ ان میں کچھ بھی نہیں۔‘ بحالی کا کام کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً کمرے کھولے جاتے ہیں۔

ان افسانوں میں شاہ جہاں کی موجودہ یادگار کے بالمقابل ’سیاہ تاج‘ بنانے کے منصوبے شامل ہیں اور یہ بھی کہ تاج محل ایک یورپی معمار نے بنایا تھا۔

کچھ مغربی سکالرز کا کہنا ہے کہ یہ مسلم معاشروں میں خواتین کے کمتر مقام کی وجہ سے کسی عورت کے لیے نہیں بنایا جا سکتا تھا، ایسا کہنے والے سکالروں نے اسلامی دنیا میں خواتین کے لیے بنائے جانے والے دیگر مقبروں کو نظر انداز کر دیا ہے۔

یادگار پر پرجوش گائیڈ سیاحوں کو یہ کہانیاں سناتے ہیں کہ کس طرح شاہ جہاں نے عمارت مکمل ہونے کے بعد معمار اور مزدوروں کو قتل کیا۔

ایسے بے شمار افسانے ہیں کہ تاج اصل میں ایک ہندو مندر تھا، جو شیو کے لیے وقف تھا۔ سنہ 1761 میں ایک ہندو بادشاہ سورج مل کے آگرہ فتح کرنے کے بعد، ایک درباری پجاری نے تاج کو مندر میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔

پی این اوک، جنھوں نے سنہ 1964 میں ہندوستانی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کے لیے ایک انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھی، نے ایک کتاب میں کہا کہ تاج محل درحقیقت شیو مندر تھا۔

سنہ 2017 میں بی جے پی رہنما سنگیت سوم نے تاج محل کو ہندوستانی ثقافت پر ایک ’دھبہ‘ قرار دیا کیونکہ اسے ’غداروں نے بنایا تھا‘۔

اس ہفتے، دیا کماری، ایک بی جے پی ایم پی، نے کہا کہ شاہ جہاں نے ایک ہندو شاہی خاندان کی ملکیتی ’زمین‘ پر قبضہ کر لیا اور یادگار تعمیر کرائی۔

رانا صفوی کہتی ہیں کہ ان نظریات نے گذشتہ ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصے میں دائیں بازو کے ایک طبقے کے درمیان نئی مقبولیت حاصل کی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’دائیں بازو کے ایک طبقے کو جعلی خبروں، جھوٹی تاریخ اور ہندوؤں کے نقصان اور مظلومی کے احساس سے پروان چھڑایا جاتا ہے‘ یا جیسا کہ ایبا کوچ کہتی ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ تاج کے بارے میں افسانے اس پر سنجیدہ علمی تحقیق سے کہیں زیادہ ہیں۔‘

(بشکریہ : بی بی سی اردو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN