نئی دہلی: (ایجنسی)
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنما ارون کمار نے اتوار کو کہا کہ 1992 میں بابری مسجد کا انہدام ہندو سماج کے اس احساس کا نتیجہ تھا کہ متنازع مقام پر رام مندر کی تعمیر سے متعلق قانونی عمل کے ذریعے انہیں دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
’سب کے رام‘ نامی کتاب کے اجرا موقع پر منعقدہ ایک تقریب میںانھوں نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے 38 سالہ طویل تحریک ایک ’مثبت اور تعمیری‘ تحریک تھی جس کا مقصد سماج میں تبدیلی لانا تھا۔ یہ کوئی رجعتی تحریک نہیں تھی۔ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے یہ ایک مثبت اور تعمیری تحریک تھی۔
آر ایس ایس ساہ سرکاریہ واہ (جوائنٹ جنرل سکریٹری) نے اس تحریک کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا اور کہا کہ اس نے ہندو سماج کو بیدار کیا اور یہ تاثر بدل دیا کہ ہندو ’بزدل‘ ہیں اور اکٹھے ہو کر ایک نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا، ’یہ ایک عام خیال تھا کہ ہندو سماج مختلف ذاتوں، زبانوں، خطوں، چھوٹے گروہوں اور ان کے متعلقہ اختلافات کی وجہ سے اکٹھا نہیں ہو سکتا۔‘ ایک اور عقیدہ یہ تھا کہ یہ (ہندو سماج) اپنی بزدلی کی وجہ سے جدوجہد میں شامل نہیں ہو سکا۔‘
کمار نے کہا کہ’اور تیسرا مفروضہ یہ تھا کہ گزشتہ 20-25 سالوں میں نئی نسل پر مغربی اقدار کے اثر کی وجہ سے اپنی شان کھو چکی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس تحریک نے ان تینوں تصورات کو بدل دیا۔‘
آر ایس ایس لیڈر نے کہا کہ رام مندر تحریک کے ’طوفان‘ نے ‘آگ کو دوبارہ بھڑکا دیا اور ہندو سماج ‘ماضی کی نسبت زیادہ مضبوطی سے راکھ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
آر ایس ایس کے عہدیدار نے کہاکہ33 سالوں سے، ہندو سماج یہ سوچ کر صبر کر رہا تھا کہ اس ملک میں قانون اور انصاف کی حکمرانی ہے اور اسے انصاف ملے گا۔ جب 1992 میں ہندو سماج نے محسوس کیا کہ قانونی عمل کے ذریعے انہیں دھوکہ دیا جا رہا ہے، تو وہ بیدار ہوا اور ظاہر کیا کہ اس کے جذبات کونظرانداز نہیں کیاجاسکتا ہے۔









