لکھنؤ؍ایودھیا (ایجنسی)
ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی شروعات سے ہی ریاستی حکومت کے عہدیداروں کے منتخب نمائندوں اور ان کے رشتہ داروں کی جانب سے مندر کے اطراف زمینوں کی خریداری کی جانچ کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ بتادیں کہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ریاست کی یوگی حکومت نے زمین کی خریداری کے سودے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کی ہے۔
دراصل ایودھیا میں 9 نومبر 2019 کو رام مندر پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مندر کے 5 کلومیٹر کے دائرے میں زمین خریدنے کی دوڑ لگی تھی۔ یہاں کے پلاٹ خریدنے والوں میں بڑی تعداد میں مقامی ایم ایل اے، بیوروکریٹس کے قریبی رشتہ دار شامل ہیں۔
ریکارڈ کے مطابق، 28 مئی 2020 کو ایودھیا کے مغل پورہ میں 320.631 مربع میٹر کا ایک پلاٹ، جو کہ رام مندر کی جگہ سے بمشکل 1 کلومیٹر دورتھا، وہ یوپی کے آئی اے ایس افسر انوج جھا کے والد بدری جھا کے نام پر رجسٹرڈ تھا۔ جس کی لاگت 23.40 لاکھ روپے ہے۔
زمین کی خریداری کے سودے کی تحقیقات کے بارے میں اتر پردیش کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (ریونیو) منوج کمار سنگھ نے بتایا کہ سی ایم یوگی نے اگلے 5-7 دنوں میں زمین کی خریداری سے متعلق دستاویزات کے ساتھ رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے یہ حکم دیا ہے۔
سنگھ نے کہا کہ چیف منسٹر کے حکم کے بعد اسپیشل سکریٹری رینک کے افسر کو انکوائری کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ محکمہ ریونیو کے اسپیشل سکریٹری رادھے شیام مشرا کوجانچ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
بتادیں کہ ایودھیا میں زمین خریدنے میں یم ایل اے، میئر اور ریاستی او بی سی کمیشن کے رکن ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ اس طرح کے کئی معاملات ہیں جن میں ڈویژنل کمشنر، سب ڈویژنل مجسٹریٹ، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس، سرکل آفیسر آف پولس، ریاستی انفارمیشن کمشنر کے رشتہ داروں سے پلاٹ لینے کے معاملے سامنے آئے ہیں۔
’دی انڈین ایکسپریس ‘کی ایک رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ ایودھیا میں زمین کے لین دین کے کم از کم 15 خریداروں میں مقامی قانون ساز، نوکرشاہوں کے قریبی رشتہ دار جو ایودھیا میں ہیں یا خدمات انجام دے رہے ہیں، اور مقامی ریونیو اہلکار شامل ہیں جن کا کام خود زمین کے لین دین کی تصدیق کرنا تھا۔ ریکارڈ کے مطابق 15 افراد کی طرف سے خریدی گئی کل زمین 70,826 مربع میٹر ، تقریباً 17 ایکڑ ہے۔
12 دیگر منتخب نمائندے اور عہدیدار جنہوں نے یا تو خود زمین خریدی یا جن کے رشتہ داروں نے زمین خریدی ان میں ایودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے، ایودھیا شہر کے ایم ایل اے وید پرکاش گپتا، گوسائی گنج کے ایم ایل اے اندرپرتاپ تیواری (اب نااہل)، اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ انوج جھا، ریاستی انفارمیشن کمشنر ہرش وردھن شاہی، او بی سی کمیشن کے رکن بلرام موریہ شامل ہیں۔
وہیں سابق سب ڈویژنل مجسٹریٹ آیوش چودھری (جو اب کانپور میں ہیں)، سرکل آفیسر، صوبائی پولیس سروس آفیسر، اروند چورسیا (اب میرٹھ میں)، یوپی کیڈر کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر امادھر دویدی، گنجا سدھانشو رنجن سمیت کئی گاؤں کے قانوگو ،گنجا گاؤں بدری اپادھیائے کےلیکھ پال اور ایم آر وی ٹی کے خلاف معاملوں کی سماعت کررہے اسسٹنٹ ریکارڈآفیسر بھان سنگھ کےپیش کر دنیش جھا شامل ہیں ۔










