نئی دہلی: (ایجنسی)
پنجاب میں پی ایم مودی کی سیکورٹی میں چوک کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ جمعرات کو اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں وزیر اعظم کی سیکورٹی میںچوک کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ معاملے کی سماعت جمعہ کو ہوگی۔ چیف جسٹس این وی رمن نے عرضی گزار سے کہا کہ وہ درخواست کی کاپی مرکز اور پنجاب حکومت کو سونپ دیں۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے وزیراعظم کے دورے کے دوران سیکورٹی میں ہوئی چوک کی جانچ کےلیے پنجاب سرکار نے اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دےدی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم تین دن میں اپنی رپورٹ سونپی گی۔
بتادیں کہ لایئرس وائس تنظیم کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ منیندر سنگھ نے چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے وزیر اعظم کی سیکورٹی میں چوک کا معاملہ اٹھایا ہے۔ سنگھ نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔
پٹیشن میں پنجاب کے بھٹنڈہ میں وزیر اعظم کے قافلے کو روکنے میں سیکورٹی کی خلاف ورزیوں کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ پی ایم کے دورے کے لیے پولیس بندوست سےمتعلق تمام ثبوتوںکو بھٹنڈہ ضلع جج کو اپنے قبضے میںلینے کی ہدایت دیں ۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پروٹوکول کے مطابق گاڑی چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی یا ان کے نامزد افسران کے لیے مختص کی جاتی ہے اورانہیں قافلے میں شامل ہونا چاہئے ، حالانکہ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کےآنے کے دوران نہ توچیف سکریٹری ، نمائندہ قافلے میں شامل ہوئے ۔ واقعات سےیہ واضح ہے کہ نجی افراد کو وزیر اعظم کے روٹ تک رسائی دی گئی تھی۔ دیگر شخص کو ناکہ بندی میں شامل ہونے کے لئے اکسایا گیا تھا۔ جو ریاستی ادارے اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے قومی سلامتی کی سنگین اور ناقابل معافی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ پنجاب اسٹیٹ سیکریٹری اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے اسپیشل پروٹیکشن گروپ کو یقین دلایا کہ راستہ صاف ہے۔ یہ پتہ چلا کہ یہ درست نہیں تھا جس کے نتیجے میں ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ عرض ہے کہ وزیراعظم کی سیکورٹی میں چوک واضح طور پر پنجاب پولیس کی ملی بھگت سے ہوئی تھی۔
یہ صرف پنجاب حکومت تھی جو وزیر اعظم کے صحیح راستے کو جانتی تھی جو اعلیٰ سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے کبھی شیئر نہیں کی جاتی ہے۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ حالیہ برسوں میں کسی بھی ہندوستانی وزیر اعظم کی سیکورٹی میں یہ سب سے بڑی غلطی ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم کی حفاظت کو یقینی بنانے کی مجموعی ذمہ داری ریاستی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور ایس پی جی ایکٹ 1988 کے مطابق قریبی لوگوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری اسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) کی ہوگی۔
اس کے برعکس جو بات چونکا دینے والی تھی وہ یہ تھی کہ موقع پر موجود مقامی پولیس اہلکاروں کو ان دنگایوں کے ساتھ حصہ لیتے ہوئے دیکھا گیا جنہوں نے وزیر اعظم کی سلامتی کو خطرہ میں ڈالا تھا۔ واقعات کی ترتیب اور مذکورہ بالا حقائق سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت اور ریاستی پولیس وزیر اعظم کو موثر سیکورٹی فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق وہ ملک میں اعلیٰ آئینی دفتر کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے میں شامل ہے۔ اس واقعے سے وزیر اعظم کی ذاتی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، لہٰذا عدالت اس معاملے کا نوٹس لے اور افسران سے کہے کہ وہ تمام شواہد محفوظ رکھیں اور سپریم کورٹ کے حوالے کریں اور قصوروار افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔











