اسرائیلی میڈیا نے آج پیر کو بتایا ہے کہ فوج نے کابینہ کی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں غزہ شہر کے گھیراؤ اور قبضے کے لیے اپنی تفصیلی منصوبہ بندی پیش کی۔ فوج کے مطابق یہ کارروائی دو ہفتوں کے اندر شروع ہو گی۔
میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اگلے دو دنوں میں 60 ہزار اضافی فوجیوں کو طلب کرنے کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔
میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران زیادہ تر وزراء نے غزہ سے متعلق کسی جزوی معاہدے کو مسترد کر دیا، جبکہ فوجی سربراہ ایال زامیر اور سیکیورٹی اداروں کے سربراہان نے جزوی معاہدے کی حمایت کی۔ تاہم وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس معاملے پر ووٹنگ نہیں کروائی کیونکہ یہ ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کی ایک خفیہ داخلی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں غزہ میں ہونے والے فوجی آپریشن "عربات جدعون” کی ناکامی تسلیم کی گئی ہے۔ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ فوج نے جنگ میں "ہر ممکن غلطی” کی اور کارروائیوں میں واضح طور پر حکمتِ عملی کا فقدان رہا۔ اس کے نتیجے میں فوج اور سازوسامان کی مسلسل کھپت ہوئی، مگر نہ تو کوئی عسکری برتری ملی اور نہ کوئی سیاسی نتیجہ برآمد ہوا۔
دوسری طرف غزہ کے طبی ذرائع نے بتایا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 100 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں 38 وہ لوگ بھی شامل ہیں جو امداد کے منتظر تھے۔ اسرائیلی حملے زیادہ تر غزہ کی پٹی کے شمال حصوں، غزہ شہر کے شمالی علاقے، خانیونس کے جنوب اور موراگ کے امدادی مرکز کے قریب کیے گئے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ نے 22 اگست کو غزہ میں قحط کی با ضابطہ تصدیق کی تھی، جہاں تقریباً پانچ لاکھ افراد "انتہائی تباہ کن” حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔یہ جنگ اُس وقت شروع ہوئی تھی جب حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ایک غیر معمولی حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں 1219 افراد مارے گئے تھے۔ یہ اعداد و شمار سرکاری اسرائیلی بیانات پر مبنی ہیں۔اس کے بعد سے اسرائیلی جوابی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 63 ہزار 459 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ یہ اعداد و شمار حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے جاری کیے ہیں اور انھیں اقوام متحدہ معتبر مانتی ہے۔








