نئی دہلی:(ایجنسی)
کانگریس پارٹی نے منی پور میں اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ انتخابات سے پہلے، کانگریس پارٹی پانچ پارٹیوں کے ساتھ گٹھ بندھن کرکے منی پور میں میدان میں اترے گی اور اس میں کمیونسٹ پارٹی بھی شامل ہے۔ منی پور پردیش کانگریس کے صدر این لوکن نے جمعرات کو میڈیا کو بتایا کہ کانگریس پارٹی بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی ، مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی، ریوولیوشنری سوشلسٹ پارٹی، جنتا دل سیکولر اور فارورڈ بلاک کے ساتھ مل کر آئندہ اسمبلی انتخابات لڑے گی اور بی جے پی کو شکست دینے کے لیے کام کرے گی۔
منی پور کانگریس کے صدر نے کہا، ’’تمام پارٹیوں نے بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ایک مشترکہ ہدف کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جلد ہی ہم گٹھ بندھن کی نشستوں کا اعلان بھی کریں گے اور مشترکہ پروگرام بھی جاری کریں گے۔
2021 کے بنگال انتخابات میں کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی کا اتحاد تھا۔ تاہم اس الیکشن میں اتحاد کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ کانگریس اور سی پی آئی دونوں کو 0 سیٹیں ملیں۔
منی پور میں کمیونسٹ پارٹی کی کارکردگی:
آپ کو بتاتے چلیں کہ 2017 کے منی پور قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے 6 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا جبکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکس نے 2 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا۔ فارورڈ بلاک نے بھی دو سیٹوں پر الیکشن لڑا۔ تینوں نے مل کر ایک فیصد بھی ووٹ حاصل نہیں کرپائے۔ منی پور میں لوک سبھا کی 2 اندرون منی پور اور بیرونی منی پور کی نشستیں ہیں۔ 1998 کے بعد منی پور سے کوئی سی پی آئی لیڈر لوک سبھا نہیں پہنچا۔ تاہم اندرون منی پور لوک سبھا سیٹ پر کمیونسٹ پارٹی کی کارکردگی اچھی رہی۔ کمیونسٹ پارٹی 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی کمیونسٹ پارٹی 2004 اور 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں دوسرے نمبر پر آئی تھی۔











