فلم ‘ادے پور فائلز: کنہیا لال ٹیلر مرڈر’ کے پروڈیوسر نے دہلی ہائی کورٹ کے 10 جولائی کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے جس نے اس کی ریلیز پر روک لگا دی تھی۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیہ کی طرف سے آج درخواست کا تذکرہ کرنے کے بعد، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باگچی کی بنچ نے ایک یا دو دن میں معاملے کی فہرست بنانے پر اتفاق کیا۔
فلم پروڈیوسرنے جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی کوفریق اول بنایا ہے مولانا ارشد مدنی نے بھی سپریم کورٹ میں گزشتہ شب ہی کیویٹ داخل کردیا تھا یعنی کہ اب مقدمہ کی سماعت کے دوران مولانا ارشد مدنی کے وکیل سینئرایڈوکیٹ کپل سبل بھی پیش ہوکربحث کریں گے۔فلم پروڈیوسر کی قیادت کررہے ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا نے سپریم کورٹ کے جج سے کہا کہ فلم 12 جولائی کو ریلیز ہونی تھی۔ اس کے لئے سبھی تھیئیٹرسکی بُک کرلئے گئے ہیں، سبھی تھیئیٹرمالک انتظارکررہے ہیں
واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت 11 جولائی کوہوئی۔ جسٹس ڈی کے اپادھیائے اورجسٹس انیش دیال کی بینچ نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سمیت تین عرضیوں پرسماعت کرتے ہوئے فلم کی ریلیزپرعبوری روک لگا دی۔ اس معاملے پراب فلم میکرس نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے










