سلطانپور(ایجنسی)
گذشتہ حکومتوں پر مشرقی اترپردیش کی ترقی کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پوروانچل ایکسپریس وے اترپردیش میں جدید سہولیات کا عکاس ہے۔
تقریباً 22ہزار کروڑ کے اخراجات سےتیار 341کلومیٹر لمبے پوروانچل ایکسپریس وے کا افتتاح کرنے کے بعد ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ تین سال پہلے جہاں صرف زمین تھی وہاں آج ا تنا جدید ایکسپریس وے گذررہا ہے۔یہ یوپی کے ترقی کا ایکسپریس وے ہے۔ نئے یوپی کی ترقی کا ایکسپریس وے ہے ۔ نئے یوپی کی تعمیر کا ایکسپریس وے ہے۔ یوپی کی مضبوط ہوتی معیشت کا ایکسپریس وے ہے۔ یوپی کی شان کا ثبوت ہے۔ اس کا افتتاح کرتے ہوئے وہ خود کو فخر محسوس کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے مکمل ترقی کے لئے علاقوں کا مساوی ترقی بھی بہت ضروری ہے۔ کچھ علاقے آگے چلے جائیں اور کچھ دہائیوں تک پیچھے چلے جائیں۔ یہ غیر مساوی ٹھیک نہیں ہے۔ ترقی کے امکانات ہونے کے باوجود نارتھ ایسٹ کو اتنا فائدہ نہیں ملا۔ یوپی کا چوطرفہ ترقی پر بھی گذشتہ حکومتوں نے دھیان نہیں دیا۔ ریاست کو مافیا اور غریب کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ خوشی ہے کہ آج یہی علاقہ ترقی کا نیا تاریخ لکھ رہا ہے۔ توانائی بخش وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ان کی ٹیم اور اترپردیش کے لوگوں کو پوروانچل ایکسپریس وے کے لئے مبارک باد کا مستحق ہیں۔
یوگی حکومت کی کامیابی سے کچھ لوگ حواس باختہ:مودی

دریں اثناء سماج وادی پارٹی(ایس پی)سربراہ اکھلیش یادو کا نام لئے بغیر وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ اترپردیش کی ترقی کے لئے ایماندارانہ سوچ کے ساتھ کام کرنے والی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی کامیابی کو دیکھ کرکچھ لوگ حواس باختہ ہیں۔مودی نے 341کلو میٹر لمبے پوروانچل ایکسپریس وے کا افتتاح کرنے کے بعد ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اترپردیش کو ڈبل انجن کی حکومت سے فائدے ملتے ہیں تو کچھ لوگ بے چین ہوجاتےہیں۔ ان کی بے چینی قدرتی ہے۔ جو اپنے وقت میں ناکام رہے وہ یوگی کی کامیابی بھی نہیں دیکھ پارہے ہیں جو دیکھ نہیں پارہے ہیں وہ ہضم کیسے کرپائیں گے۔ ایسی سوچ سے دور رہ کرہمارا مقصد خدمت خلق کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سات آٹھ سال پہلے اترپردیش میں نظم ونسق، سڑک اور دیگر بنیادی سہولیات کی خوف ناک حالت دیکھ کر تعجب ہوتا تھا۔ سال 2014 میں یہاں کے لوگوں کے آشیرواد سے ملک کی باغ ڈور سنبھالنے کے بعد انہوں نے اترپردیش کی چو طرفہ ترقی کا خاکہ تیار کیا لیکن یوپی کی سابقہ حکومت نے ساتھ نہیں دیا۔ یہاں تک کے وزیر اعلی میرے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے تک سے گھبراتے تھے۔ جب وہ یوپی آتے تھے تو صرف ائیرپورٹ پر رسیو کرتے تھے اور اس کے بعد پتہ نہیں کہاں غائب ہوجاتے تھے۔ مودی نے کہا کہ گذشتہ حکومت کوووٹ بینک بکھرنے کا خطرہ ہوتا تھا۔ پہلے ترقی وہاں ہوتی تھی جہاں ان کا کنبہ ہوتا تھا اس خطے کے باہر ترقی نہیں ہوتی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے آج صبح ایک ٹوئٹ کے ذریعہ بی جےپی حکومت پر پوروانچل ایکسپریس وے کا سہرہ اپنے سر لینے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فیتا آیا لکھنؤ سے اور قینچی دہلی سے آئی۔ ایس پی کے کام کا سہرہ اپنے سر لینے کو ہوڑ لگی ہے۔ امید ہے کہ اب تک تنہائی میں بیٹھ کر لکھنؤ والوں نے’سماج وادی پورانچل ایکسپریس وے‘ کی لمبائی کا اعداد یاد کرلیا ہوگا۔ ایس پی’رنگ برنگے پھولوں کی بارش کر کے اس کا افتتاح کر کے یک رنگی سوچ والوں کو جواب دے گی۔‘ اکھلیش کی ہدایت پر ایس پی کے کچھ کارکنوں نے پوروانچل ایکسپریس وے پر سائیکل چلا کر اور پھولوں کی بارش کر کے ایکسپریس وے کا علامتی افتتاح کیا۔









