اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

فرضیت صیام کا مقصد!!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مذہبیات, مضامین
A A
0
فرضیت صیام کا مقصد!!
239
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مولاناعبدالرشید طلحہ نعمانیؔ


خداوند کریم نے اپنے بندوں کے لئے عبادات کے جتنے بھی طریقے بتائے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور پوشیدہ ہے ۔بعض حکمتیں وہ ہیں جہاں تک عقل انسانی کی رسائی ہوسکتی ہے اور بعض وہ ہیں جہاں کسی کی رسائی نہیں۔جیسے نماز خدا کے وصال کا ذریعہ ہے ۔ اس میں بندہ اپنے معبودِ حقیقی سے گفتگو کرتا ہے بعینہ روزہ بھی خدا تعالیٰ سے لَو لگانے کا ایک ذریعہ ہے ۔ جہاں نماز کے بارے میں یہ ارشاد ہے کہ نماز بے حیائی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے ۔وہیں روزے کے بارے میں فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بنو۔
تقوی کیا ہے ؟تقوی:انسانی زندگی کی وہ صفت ہے جو تمام انبیاء کی تعلیم کا نچوڑ رہی۔جس کے معنی ہے اللہ کی عظمت و کبریائی کا احساس رکھتے ہوئے گناہوں سے بچنا اور نیک کام کرنا۔ایک مرتبہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ تقوی کی حقیقت کیا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا، کیا آپ کا گزر کبھی ایسے راستے سے ہوا جس میں دونوں طرف کانٹے ہوں ۔ فرمایا ،ہاں ! کہا :اس حالت میں آپ نے کیا کیا ؟ فرمایا،میں نے کوشش کی، کانٹون سے بچ کر نکل جاؤں ۔ کہا: یہی تقوی کی حقیقت ہے ۔
مفسر قرآن مولانا ابوالکلام آزادؒ ‘‘تقوی’’کی حقیققت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :زندگی کی تمام باتوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ دو طرح کے انسان پائے جاتے ہیں؛ بعض طبیعتیں محتاط ہوتی ہیں ،بعض بے پرواہ ہوتی ہیں ؛جن کی طبیعت محتاط ہوتی ہے ، وہ ہر بات میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں ،اچھے برے ،نفع ونقصان ،نشیب و فراز کا خیال رکھتے ہیں، جس بات میں برائی پاتے ہیں ،چھوڑ دیتے ہیں ، جس میں اچھائی دیکھتے ہیں ،اختیار کر لیتے ہیں ، برخلاف اس کے جو لوگ بے پرواہ ہوتے ہیں ، ان کی طبیعتیں بے لگام اور چھوٹ ہوتی ہیں ؛ جو راہ دکھائی دے گی ، چل پڑیں گے ، جس کام کا خیال آگیا کر بیٹھیں گے ، جو غذا سامنے آگئی کھا لیں گے ، جس بات پر اڑنا چاہیں گے ،اڑبیٹھیں گے ، اچھائی برائی ، نفع ونقصان ،دلیل اور توجہ کسی کی انہیں پرواہ نہیں ہوتی ۔جن حالات کو ہم نے یہاں‘‘ احتیاط’’ سے تعبیر کیا ہے اس کو قرآن تقوی سے تعبیر کرتا ہے ۔(ترجمان القرآن)
مختصر یہ کہ روزہ کے ذریعے اللہ تعالی ہمارے اندر احتیاط اور تقوی کی صفت پیدا کرنا چاہتے ہیں،جس طرح ہم رمضان میں اللہ کے حکم کی وجہ سے قدرت کے باوجود حلال چیزوں سے پرہیز کرتے رہے غیر رمضان میں ہم حرام و مشتبہ امور سے بچنے والے ہوجائیں۔
علامہ ابن قیم ؒ نے تقویٰ کے تین درجات بیان فرمائے ہیں (۱)پہلا درجہ: دل اور اعضاء وجوارح کو معاصی اور محرمات سے محفوظ رکھنا(۲)دوسرا درجہ : دل اور اعضاء و جوار ح کو مکروہات سے بچانا (۳)تیسرا درجہ : دل اور اعضاء وجوارح کو فضول ولا یعنی امور سے باز رکھنا۔
تقویٰ والی زندگی مسلمان کے لیے لازمی وضروری ہے ؛ کیوں کہ صفت ِ تقویٰ صرف اجتماعی ومعاشرتی زندگی ہی میں اوامر ونواہی کا پابند نہیں بناتی ؛ بلکہ انفرادی اور نجی زندگی میں بھی تعمیر ِ حیات اور تطہیر ِ نفس کا سبب بنتی ہے ۔
تقویٰ کا حکم قرآن مجید میں :
قرآن مجید میں متعددمقامات پر تقوے اختیار کرنے کی تاکید کی گئی چناں چہ ارشاد باری ہے :یا اَیھَُّا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ ما قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَ اتَّقُوا اللَّہَ(الحشر) اے ایمان والو! ڈرتے رہو اللہ سے اور چاہئے کہ دیکھ لے ہرشخص، اس نے کل کے واسطے کیا بھیجاہے اور اللہ سے ڈرتے رہو!
ایک اور مقام پر فرمان الہی ہے : یَا ایُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (آل عمران)
اے ایمان والو!ڈرتے رہو اللہ سے جیساکہ اس سے ڈرنا چاہئے اور نہ مرو مگرمسلمان ہوکر ۔
ایک اور جگہ اللہ جل شانہ نے فرمایا: ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم ) حجرات(تم میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معزز وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے ۔
تقویٰ کے معنی ہیں بچنے کی کوشش کرنا یعنی ایسا راستہ اختیارنہ کرنا،جس کا سرا جہنم تک پہنچتا ہو، اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا اور اس کی مشق کرنا ،اس کا ملکہ اپنے اندر پیدا کر لینا اور اس انداز سے یہ صفت اختیار کر لینا کہ گناہوں سے بچنے کی عادت اور مزاج بن جائے(یہی تقوی کہلاتاہے) ۔
تقوی کا حکم احادیث رسول ﷺ میں:
رسول اللہﷺبارہا اپنے خطبات میں ارشاد فرمایاکرتے : اوصیکم بتقوی اللہ والسمع والطاعۃ یعنی میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی لہٰذاتم اللہ سے ڈرتے رہنا ،اس کی نافرمانی سے بچتے رہنااوراس کے کسی حکم سے منھ نہ موڑنا۔
ایک مقام پر رسول اللہ ﷺنے خود اپنے بارے میں ارشاد فرمایا: اما واللہ انی لاتقاکم للہ و اخاشاکم لہ۔(صحیح مسلم)
میں تم میں سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ رکھنے والا اور سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں،خشیت اور تقویٰ میں ساری مخلوق اور سارے انسانوں میں بڑھا ہوا ہوں؛اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز اور سب سے زیادہ مکرم تھے ۔
اللہ تعالی نے کلام مجید میں روزوں کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا :یاایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون(البقرۃ)
اے ایمان والوں تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم پرہیزگار بنو ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالی کے مقررکردہ حدود کے اندر رکھ کر زندگی بسر کرے اور اسے اس بات کا ڈر رہے کہ اگر اس نے ان حدودکو توڑاتواللہ کے سوا اسے سزا سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ جن کو بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اور بہت سے رات کو جاگنے والے ایسے ہیں کہ جن کے حصہ میں صرف جاگنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا،روزہ رکھا ؛لیکن کچھ نہیں پایا،رات بھر بیدار رہا مگر کچھ نہیں ملا،رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجۃ فی ان یدع طعامہ وشرابہ (صحیح بخاری)
فرمایا کہ جو شخص غلط بات بولنا اور غلط کام کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ بندہ اپنے کھانے پینے کو چھوڑ دے ۔
ذرا دیکھئے !کس قدر ناراضگی کا اظہار ہے ، جو آدمی غلط کام کرنا نہ چھوڑے ،غلط بات بولنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ بندہ اپناکھانا پینا چھوڑ ے ؛بہ ظاہر کھانا پینا توبندے نے چھوڑ دیا ہے ، لیکن کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، زبان کی بے احتیاطی ،اوربد نگاہی سے اجتناب نہیں کرتا ،تو ناراضگی کے لہجہ میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ اس کو بھوکا رکھنا چاہتا ہے ؟اس کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ میرا بندہ نہ کھائے نہ پیئے ، وہ تمہارے اندر تقویٰ کی صفات پیدا کرنا چاہتا ہے ، ان چیزوں کو چھوڑوگے تو تمہارے اندر تقویٰ کی صفات پیدا ہوں گی ،اور تم اگر کسی چیز کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو تو بھوک پیاس کے علاوہ تمہارا روزہ کچھ نہیں ہوا۔
ایک اور مقام پر سرکار دوعالمﷺنے ارشادفرمایا :روزہ ڈھال ہے ، جب تک کہ اس کو پھاڑ نہ ڈالے ۔ڈھال،دشمن کے حملہ کو روکنے کا ذریعہ ہے ،نفس اور شیطان کے حملوں سے بچانے کے لیے روزہ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ڈھال بنایا ہے ،اگر اس ڈھال کو ہم پھاڑ دیں گے تو پھر یہ دشمن کے حملہ سے ہم کو بچا نہیں پائے گا،اور روزہ کی ڈھال کا پھاڑنا کیا ہے ؟ جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ان سے اپنے آپ کو بچا کر نہ رکھنا اور اس کی حفاظت یہ ہے کہ جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ان سے بچے کی فکرکرنا ،جب ان سے بچا جائے گا تب روزہ ڈھال بنے گا۔
تمام عبادات کا مقصود‘‘تقوی’’ :
نماز: اللہ تعالی سے تعلق کا بہترین اظہار نماز کی شکل میں ہوتا ہے ؛کیوں کہ اس عبادت میں بندے کا اپنے رب سے رشتہ جڑ جاتا ہے ، وہ اسے ملجا و ماوی اور سب کچھ سمجھتا ہے اور اس کے آگے سربسجودہوجاتاہے ۔نماز جیسی اہم عبادت کے تعلق سے بھی بہ طور خاص تقوی کومطلوب بتلاتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: بیشک نماز بے حیائی اور برائیوں سے روکتی ہے ۔ (سورۃ العنکبوت ) نوٹ:بے حیائی اور برائیوں سے رکنے کانام ہی تقویٰ ہے ۔
زکوۃ: راہ خدا میں ہرسال مال کا چالیسواں حصہ فقراء ومساکین کو دینا؛تاکہ مال پاک ہوجائے اور نفس کی اصلاح ہوتی رہے ،زکوۃ کہلاتاہے ؛یہی وجہ ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرے اور بندوں کے حقوق نہ پہچانے ،اس کا مال ناپاک ہوجاتا ہے ، اور ناپاک مال میں جینے والا صاحبِ تقوی نہیں ہوسکتا، تقوی کا مقامِ بلند مال کے تزکیہ کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے اور انسان اللہ تعالی کی بے پایاں نعمتوں کا مستحق ہوتا ہے ،ارشاد باری ہے : جہنم سے وہ شخص دور رکھا جائے گا جو بڑے تقوی والا ہے ، جو اپنا مال اس غرض سے دیتا ہے کہ پاک ہوجائے ، اس پر کسی کا احسان نہیں ہے کہ اس کا بدلہ اسے دینا ہو، وہ تو صرف اپنے رب اعلی کی رضا جوئی چاہتا ہے اور وہ ضرور اس سے خوش ہوگا۔ (اللیل)
روزہ : اسلام کاتیسرا ایک اہم رکن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سارے مکلف مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھیں اور اپنے پاک کلام میں روزہ کی فرضیت کی یہی حکمت بتائی ہے کہ روزہ سے انسان میں تقویٰ پیداہوتا ہے جیساکہ فرمان الہی ہے : ے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔(البقرۃ)
حج: اسلام کا پانچواں رکن ہے ، اس کی ادائیگی میں مالی صرفہ بھی ہے اور جانی مشقت بھی ،حج کے سفر کے دوران عازمین حج زاد سفر اختیار کرتے ہیں اور متعدد چیزوں سے آراستہ ہوکرجاتے ہیں؛مگر فرمان الٰہی ہے : اور (حج کے سفر میں) زادِ راہ ساتھ لے جایا کرو؛کیونکہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے ۔ (سورۃ البقرہ )یعنی دنیاوی اسباب کو اختیار کرنا شریعت اسلامیہ کے خلاف نہیں ہے لیکن سب سے بہتر زادِ راہ تقویٰ یعنی اللہ کا خوف ہے ۔
قربانی: قربانی کرنا(راہ خدا میں جانورذبح کرنا)بھی ایک ایسا عظیم الشان عمل ہے کہ جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے ،اور اس اہم عبادت کا مقصد بھی تقوی ہے ؛جیساکہ فرمان خداوندی ہے :ہرگز نہ تو)اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے ۔(الحج )
معلوم ہوا کہ قربانی کا بظاہر مقصد جانور ذبح کرنا ہے مگر اس کی اصل روح تقویٰ اور اخلاص کی آبیاری ہوتی ہے ۔
ان سب عبادات میںغورکرنے سے معلوم ہوگیاکہ اللہ تعالی نے تقوی ہی کو معیار بتلایاہے ۔
روزے کی دوسری حکمت یہ بیان فرمائی:تاکہ تم روزوں کی گنتی پوری کرو !یعنی روزے پورے رکھواور ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کی بزرگی اور عظمت کے گن گاؤ: اس لئے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی تاکہ تم اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ۔
گو یا روزے میں یہ حکمت بھی پوشیدہ ہے کہ ہم خداوند کریم کی قدر و منزلت پہچانیں اور اس کی ان نعمتوں کا، جنہیں ہم استعمال کرتے ہیں، شکر بجا لائیں اور ظاہر ہے یہ چیز بھی رضا و خوشنودیٔ الٰہی کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے قربت کا ایک ذریعہ ہے ۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم تمام کو تقویٰ والی زندگی گذارنے اور روزے کا مقصدحاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN