شام میں حالیہ لڑائی اور اسرائیل کے تازہ حملوں کے دوران دروز قبیلہ اور سویدا علاقہ کا نام ابھر کر آیا ،جو عام قارئین کے لیے نیا ہے ،جانتے ہیں کچھ اس بارے میں
***دروز کی تاریخ: شام میں ایک منفرد قوم کی کہانی
زمانہ آغاز: دروز مذہب کا آغاز 11ویں صدی کے اوائل میں مصر کے فاطمی خلیفہ الحاکم بامراللہ کے دور میں ہوا۔
دروز مذہب نے اسماعیلی شیعہ اسلام سے جنم لیا لیکن رفتہ رفتہ ایک بالکل منفرد عقائدی ڈھانچے میں تبدیل ہوگیا۔ یہ مذہب توحید (خالص وحدانیت) کا پرچار کرتا ہے، اور اس کے عقائد خفیہ ہوتے ہیں۔دروز قرآن کو تسلیم کرتے ہیں اس کا احترام کرتے ہیں لیکن دیگر ادیان اور مذاہب سے بھی اثرات لیے گئے ہیں۔
**تبلیغ کا دروازہ بند: 1043ء میں دروزوں نے مذہب کی تبلیغ بند کردی، اس کے بعد کسی نئے فرد کو دروز بنایا نہیں جاتا، یعنی یہ مکمل بند کمیونٹی ہے۔
**شام میں دروزوں کی آبادکاری
جبل العرب (سویڈا): دروزوں کی بڑی تعداد جنوبی شام کے پہاڑی علاقے جبل العرب میں آباد ہے، اسی وجہ سے اسے "جبل الدروز” بھی کہا جاتا تھا۔فاطمی خلافت کے بعد ظلم و جبر سے بچنے کے لیے دروز لبنان کے پہاڑوں اور شام کے جنوب میں آ بسے۔ سویڈا دروزوں کا مرکزی شہر ہے اور دروز برادری کی ثقافتی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔
**عثمانی دور میں کردار:عثمانی سلطنت کے دوران دروز ایک نیم خودمختار حیثیت میں رہے اور مقامی قبائلی قائدین کے تحت اپنی خود مختاری کا دفاع کرتے رہے۔کئی بار عثمانی حکومت کے ساتھ بغاوت اور تصادم میں الجھے، لیکن مکمل سرکوبی نہیں کی گئی کیونکہ دروز سخت جنگجو قوم سمجھے جاتے تھے۔
** نوآبادیاتی دور: فرانس کے خلاف بغاوت:1925 کا انقلاب: فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں دروزوں نے سب سے بڑی بغاوت برپا کی، جسے "ثورۃ الکبیرۃ” (بڑی بغاوت) کہا جاتا ہے۔سلطان باشا الاطرش مشہور دروز لیڈر جنہوں نے شام میں فرانسیسی قبضے کے خلاف قیادت کی۔ انہیں آج بھی قومی ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے۔دروزوں کی یہ جدوجہد شام کی آزادی کی تاریخ میں سنہری باب مانی جاتی ہے۔
آزاد شام میں حیثیت:شام کے قیام کے بعد دروز ایک قابل احترام اقلیت بنے لیکن ان کا اثر و رسوخ بتدریج کم ہوتا گیا۔بعث پارٹی کے دور میں دروز حکومت میں شامل تو ہوتے رہے لیکن مرکزی دھارے سے باہر رہے۔حافظ الاسد کے دور میں بعض مراعات ملیں لیکن مکمل خودمختاری نہیں ملی۔شام کی خانہ جنگی (2011 تا حال)دروز برادری نے خانہ جنگی کے آغاز میں غیرجانبداری کی پالیسی اپنائی۔سویڈا میں خود کا دفاع: دروزوں نے اپنے علاقوں میں مقامی ملیشیائیں بنائیں تاکہ نہ داعش کا قبضہ ہو نہ حکومت کا مکمل کنٹرول۔کئی مواقع پر دروز باغیوں اور حکومت دونوں کے خلاف بھی صف آراء ہوئے۔حالیہ مظاہرے (2023-2024): بشار الاسد حکومت کے خلاف کھل کر مظاہرے کیے، معیشت اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کی۔
**دروز قبیلہ کی اہم خصوصیات:سخت قبائلی نظام، اپنی برادری کے اندرشادیاں۔فوجی مزاحمت اور دفاع کی تاریخی روایت۔,ثقافتی خودمختاری اور مذہبی راز داری۔عربی زبان بولتے ہیں لیکن مذہب و روایات باقی قوموں سے جدا۔دروز شام کی ایک منفرد، قدیم اور مزاحمتی قوم ہے جو اپنی شناخت اور زمین کے لیے صدیوں سے لڑتی آئی ہے۔ آج بھی وہ شام میں جبر اور محرومی کے خلاف ایک علامت بن چکے ہیں، چاہے وہ فرانسیسی استعمار ہو یا موجودہ حکومت۔










