نئی دہلی :(ایجنسی)
کئی سنگین الزامات کا سامنا کررہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب ایک بار پھر سے انگلیاں اٹھی ہیں ۔ بھارت میں فیس بک کے کام کاج کو لے کر اس کے ہی اسٹاف کے لوگوں نے 2018 سے 2020 کےدرمیان کئی بار سوال اٹھائے لیکن اس پلیٹ فارم نے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، اس بارے میں فیس بک کے اس وقت کے نائب صدر کرس کاکس نے2019 میں کچھ میٹنگیں بھی کی تھیں لیکن انہیں ہیٹ اسپیچ سے لے کر خاص کمیونٹی کےخلاف چل رہے قابل اعتراض مواد کولے کر کوئی پریشانی نہیں نظرآئی۔
میٹنگوں کے دوران فیس بک کے ملازمین اور اس کے سینئر ایگزیکٹوز کے درمیان ہونے والی گفتگو کے تین میمو بھی سامنے آئے۔ ان میں فیس بک کے ملازمین نے یہی سوال اٹھایا تھا کہ کمپنی کے پاس ہیٹ اسپیچ کو پکڑنے کے لیے بیسک سیٹ اپ تک نہیں ہے۔ ملازمین نے فیس بک سے یہ بھی پوچھا تھا کہ وہ اقلیتی برادری کا بھروسہ کیسے حاصل کرے گا۔
ان رپورٹس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ فیس بک کا آرٹی فیشل انٹیلی جینس ٹول مقامی زبانوں کی شناخت نہیں کرسکتا اور اس وجہ سے وہ غلط مواد یا ہیٹ اسپیچ کی شناخت نہیں کرسکا۔ ’ دی انڈین ایکسپریس ‘ کی جانب سے اس بارے میں پوچھے جانے پر فیس بک نے کوئی جواب نہیں دیا۔
فیس بک کے سابق ملازم کی وکیل اور وہسل بلوور فرانسس ہوگن نے اس بات کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے اسے امریکی کانگریس کو بھی دیاہے ۔
پہلی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مغربی بنگال میں فیس بک پر پوسٹ کیا گیا 40 فیصد مواد فرضی تھا۔ دوسری رپورٹ ایک ٹیسٹ اکاؤنٹ کے نتائج پر مبنی تھی۔
جبکہ تیسری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تین ہفتوں کے اندر ایک ٹیسٹ یوزر کی نیوز فیڈ راشٹروادی مواد ، غلط اطلاعات اور تشدد کو پولرائز کرنےوالی پوسٹ بن گئی۔ ٹیسٹ اکاؤنٹ ایک ڈمی یوزر تھا ،جس کا فیس بک پر کوئی دوست نہیں تھا اور اسے فیس بک کے ہی ایک ملاز م نے یہ جاننے کےلیے بنایا تھا کہ اس کاکیا اثر ہوتاہے ۔
بڑی بات یہ ہے کہ اس ٹیسٹ یوزر نے صرف فیس بک کے الگورتھم کے ذریعے دکھائے گئے مواد کوہی فالو کیاتھا ۔ ملازم نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مواد کی کوالٹی ٹھیک نہیں تھی اورالگورتھم یوزر کو زیادہ تر سافٹ کورپورن دکھانے کا مشورہ دیتاتھا۔









