نئی دہلی :
دارالحکومت دہلی میں گزشتہ سال ہوئے فساد کے معاملے میں ملزم نتاشا نارووال ، آصف اقبال تنہا ، دیوانگنا کالیتا کو دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی تھی۔ گزشتہ دن سے اب تک ان کی رہائی نہیں ہوپائی تھی، لیکن اب دہلی کی ایک عدالت نے فوراً رہائی کا حکم دیا ہے ۔
دہلی کا کڑکڑڈوما کورٹ نے نتاشا ناروال سمیت تینوں کارکنوں کو فوراً رہا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت کے ذریعہ جاری ریلز آرڈر کو تہاڑ جیل انتظامیہ کو ای -میل بھیجا جائے گا، تاکہ رہائی کی جاسکے۔
تینوں کارکنوں کے ذریعہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہلی پولیس کی جانب سے ان کی رہائی میں تاخیر کی جارہی ہے ۔ وکلاء کے ذریعہ کہا گیا ہے کہ پولیس نے ویری فیکشن کرنے میں جان بوجھ کر تاخیر کی ہے ۔
تینوں کارکنوں کے ذریعہ دہلی ہائی کورٹ کا بھی رخ کیا گیا اور فوراً رہائی کی مانگ کی گئی ۔ تینوں نے اپیل کی ہے کہ بیل آرڈر کے 36 گھنٹے بعد بھی تینوں کو چھوڑا نہیں گیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ میں نتاشا سمیت تینوں کارکنوں کی بیل کو لے کر جمعرات کو سماعت ہوئی۔
دفاعی وکیل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ابھی تک رہائی نہ ہونے سے ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ بیل آرڈر ہونے کے بعد رہائی ہوجانی چاہئے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے عرضی گزار کو ٹرائل کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنے کو کہا گیا ہے ۔
عدالت کی جانب سے پولیس کے وکیل پر سخت موقف اپنایا گیا۔ سوال کیا گیا کہ تمام ایک سال سے آپ کی تحویل میںتھے،ایسے میں اب کیا ویری فیکشن کی ضرورت ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ویری فیکشن میں پریشانی آئی ہے جس پر ٹرائل کورٹ نے ہمیں حکم دیا ہے۔
ویر ی فیکشن کی وجہ سے رہائی رک گئی!
در حقیقت گزشتہ روز سماعت کے دوران پولیس نے تینوں کا پتہ ویریفائی کرنے کے لیے تین دن کا وقت مانگا ۔ دن بھر کی طویل سماعت کے بعد کورٹ نے کہا کہ وہ تبھی فیصلہ نہیں دے سکتے ہیں، ایسے میں جمعرات صبح کا وقت طے کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اسی طرح دہلی پولیس پہلے ہی دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کرچکی ہے ۔ دہلی پولیس نے تینوں کے ضمانت دئے جانے کی محالفت کی ہے ۔
بتادیں کہ تینوں پر دہلی فساد معاملے میں یو اے پی اے کے تحت کیس درج ہوا تھا ، لیکن ہائی کورٹ نے اس پر دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی تھی اور تینوں کو ضمانت دے دی تھی۔











