اردو
हिन्दी
ستمبر 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

آگے کا راستہ؟ کشمکش میں مسلمان

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
71
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:مسعود جاوید
پچھلے کچھ مہینوں سے پرشانت کشور بہار بالخصوص شمالی بہار میں بقول ان کے ‘ بہاریوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لئے دورہ کر رہے تھے’ ۔
ان کی تقریروں میں بہت سی باتوں سے ایسا تاثر مل رہا تھا کہ یہ شخص یا تو اپنی پارٹی کی تشکیل چاہتا ہے یا واقعی بہار کی حقیقی تعمیر و ترقی کے لئے مخلصانہ کوشش کر رہا ہے یا کسی مخصوص پارٹی کے ہڈن ایجنڈا پر کام کر رہا ہے۔ اس لئے کہ وہ بار بار اپنی تقریروں میں کہتا تھا کہ جس طرح گجرات کی ترقی ہوئی بہار کی کیوں نہیں ہوئی؟ کیوں بہار کے لوگ گجرات ، دہلی اور پنجاب جا کر  مزدوری کرنے کے لئے مجبور ہیں !
اس کے دوروں کے پیچھے کے محرکات جو بھی ہوں لیکن ان کے اس پرکشش بیان کو بعض مسلمانوں نے خوب سراہا  کہ  ‘ ہر جاتی برادری کے لیڈر ہیں اور پارٹی ہیں سواۓ مسلمانوں کے یہ  ہمیشہ سے دوسری پارٹیوں کے جھنڈا بردار کیوں رہے ہیں ! ان کے اس بیان سے  بہت سے مسلمانوں کو ان میں اپنا سیاسی مسیحا نظر آنے لگا تھا۔
مسلمانوں کا سیاسی لیڈر ہونا چاہئیے جس کے لئے سیاسی پارٹی کی ضرورت ہوگی لیکن  جب کبھی کسی مسلمان نے اپنی سیاسی پارٹی کی تشکیل کی بات کی تو  تقریبا ہر سیاسی پارٹی،  سیاسی تجزیہ نگار، صحافی اور سیاسی و سماجی لیڈر نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ مذہب کی بنیاد پر الگ سیاسی تنظیم ہندوستان کے آئین کے روح کے منافی ہے۔ یہ بات بہت حد تک صحیح بھی ہے کہ ہمارا آئین ہمیں مذہب کے نام پر کچھ الگ کرنے یا مانگنے (امتیازی سلوک) کی اجازت نہیں دیتا ہے اسی لئے کوئی سیاسی پارٹی مذہب کے نام پر ووٹ نہیں مانگتی ہے اور اگر مانگتی ہے تو غیر جانبدار الیکشن کمیشن اس کے خلاف ایکشن لیتی ہے۔
یہ بات آزادی کے بعد سے ہی لوگوں کو باور کرایا جاتا رہا ہے اور کہا جاتا رہا ہے کہ اب پھر کسی مسلم لیگ کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ اس سے قومی ہم آہنگی میں خلل واقع ہو سکتا ہے۔ لیکن غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کا موازنہ اس لئے درست نہیں ہے کہ غیر مسلموں کی پارٹیاں مذہب کے نام پر نہیں ذاتی برادری کے نام پر ہیں ۔
اسی کے پیش نظر مسلمانوں کو یہ نصیحت کی جاتی رہی ہے کہ مسلمان مین اسٹریم پارٹیوں کا حصّہ بن کر سیاسی عمل میں شریک ہوں۔ ایسا ہوتا آیا بھی ہے۔  لیکن کم و بیش تیس پینتیس سال قبل ملک میں سیاسی طور پر مسلمانوں کو حاشیہ پر دھکیلنے کا عمل شروع ہوا تھا جس میں ہر سال اضافہ ہوتا گیا اور آج نتیجہ یہ ہے کہ نام نہاد سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو ٹکٹ دینے اور کھلے عام مسلمانوں کا نام لینے اور مسلمانوں کے مسائل اٹھانے سے بھی احتراز کرتی ہیں۔ بہت مہربان ہوئیں تو دلتوں اور پسماندوں کے ضمن میں اقلیتی طبقات کہہ کر نکل لیتی ہیں ۔ یہاں بھی ان کے پاس وہی جواز ہوتا ہے کہ مسلمان کا لفظ کہنے سے مخصوص مذہب کی طرف اشارہ ہو جاتا ہے۔
اب خبر آئی ( غیر مصدقہ ) کہ جو پی کے صاحب مسلمانوں کو اپنا لیڈر اور قیادت کھڑی کرنے کی بات کر رہے تھے انہیں بی جے پی کا ترجمان اعلیٰ کے عہدہ پر فائز کیا گیا ہے ! کیا اب بھی وہ چاہیں گے کہ مسلمانوں کا اپنا لیڈر  اپنی سیاسی پارٹی اور  قیادت ہو ؟
بڑی مشکل ہے ڈگر پنگھٹ کی !
کشمکش میں مسلمان کریں تو کیا کریں ۔ انہوں نے ہمیشہ نام نہاد سیاسی پارٹیوں کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لیا ۔ جب تک ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی مضبوط رہی ان کے فوٹو بھی پوسٹروں میں چھپتے تھے انہیں اسٹیج پر جگہ بھی ملتی تھی ان کے اور ان کے اسلاف کی قربانیوں اور یوگدان کا ذکر بھی ہوتا تھا لیکن اب شاید انہیں اچھوت سمجھا جانے لگا ہے جن کا نام لینے سے نام نہاد سیکولر لیڈروں کی زبان ناپاک ہونے کا شاید خدشہ رہتا ہے!  اگر یہ نہیں تو شاید اکثریتی طبقے کی ناراضگی کا ڈر لگتا رہتا ہے کہ کہیں ان کے ووٹ سے ہاتھ دھونا نہ پڑ جائے!
اگر کانگریس ، سپا، بسپا، راجد، جدیو وغیرہ آئیڈیالوجی بیسڈ پارٹیاں ہوتیں تو ڈنکے کی چوٹ پر کہتیں کہ  یہ ایک سیکولر ملک ہے یہاں ہر شہری کے حقوق برابر ہیں، ہماری پارٹی سیکولر ہے اور بحیثیت سیکولر لیڈر ہمیں بلا جھجک ہر طبقے کی بات کرنی ہے خاص طور پر سماج کے پسماندہ طبقوں کے لئے آواز اٹھانی ہے تو پھر  مسلمانوں کے مسائل کے لئے آواز اٹھانے سے پرہیز کیوں کریں جبکہ سب کو معلوم ہے کہ یہ طبقہ شاید سب سے زیادہ پسماندہ ہے ۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
Damaged bus in Nepal after attack on Indian passengers

نیپال میں کتنے ہندو کتنے مسلمان ہیں؟

ستمبر 11, 2025
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

کیا ہے ترنگے کی تاریخ، منزل بمنزل سفر کے بارے میں سب کچھ جانیے

جنوری 26, 2025
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN