یوکرین جنگ کو ‘مودی وار’ کہنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لاؤڈ ماؤتھ ایڈوائزر پیٹر ناوارو نے ایک بار پھر اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔ پیٹر ناوارو ہندوستان پر تنقید کرتے ہوئے ذات پات کے زاویے کو بڑی چالاکی سے سامنے لایے ہیں ۔ ناوارو نے کہا ہے کہ ہندوستان میں برہمن دوسرے ہندوستانیوں کی قیمت پر منافع کما رہے ہیں۔ ناوارو نے کہا ہے کہ ہمیں اسے روکنے کی ضرورت ہے۔
امریکی سفارت کار پیٹر ناوارو اس روایت کے وارث ہیں جو رچرڈ نکسن اور ہنری کسنجر جیسے گھاگ امریکی رہنماؤں نے شروع کی تھی۔ پیٹر ناوارو ایک متنازعہ اور انتہائی تحفظ پسند ماہر معاشیات ہیں۔ ناوارو، جنہوں نے ہارورڈ سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ہے، کتاب ‘ڈیتھ از چائنا’ کے مصنف ہیں، جو ان کے چین مخالف نظریے کی عکاسی کرتی ہے۔پیٹر ناوارو بھارت کے روس سے تیل خریدنے اور اعلیٰ ٹیرف، جیسے کہ "ٹیرف کا مہاراجہ” کے بارے میں اپنے نازیبا ریمارکس کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کے جارحانہ انداز اور بیان بازی نے انہیں سفارتی تنازعات کا مرکز بنا دیا ہے ۔
روس سے خام تیل خریدنے پر ہندوستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ناوارو نے اس بار ذات پات کا زاویہ پیش کیا۔ کسی غیر ملکی سفارت کار کی طرف سے ہندوستان کے سماجی ڈھانچے پر اس طرح کا ردعمل بہت کم ہوا ہے۔ ناوارو نے ایک امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’مودی ایک عظیم لیڈر ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ وہ پوتن اور شی جن پنگ کے ساتھ کیوں گھل مل رہے ہیں جب کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے‘‘۔
امریکی تجارتی مشیر ناوارو کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب پی ایم مودی ایس سی او میٹنگ میں شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ آج پی ایم مودی صدر پوتن سے ملاقات ہوئی ۔
ناوارو نے ہندوستان پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا، "میں ہندوستان کے لوگوں سے صرف اتنا کہوں گا کہ براہ کرم سمجھیں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ برہمن ہندوستانی عوام کی قیمت پر منافع خوری کر رہے ہیں۔ ہمیں اسے روکنا ہوگا۔”
غور طلب ہے کہ پیٹر ناوارو نے پہلے کہا تھا کہ یوکرین میں امن کا راستہ نئی دہلی سے ہو کر گزرتا ہے۔اس سے قبل بلومبرگ ٹی وی سے بات چیت میں نوارو نے کہا تھا کہ ‘ہندوستانی اس معاملے میں بہت مغرور ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری خودمختاری کا معاملہ ہے، ہم جب چاہیں کسی سے بھی تیل خرید سکتے ہیں۔’اتوار کو پی ایم مودی اور صدر جن پنگ نے ایس سی او پلیٹ فارم پر دو طرفہ ملاقات کی۔ دریں اثنا، چین اور بھارت نے کہا کہ طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع سمیت برسوں کی کشیدگی کے بعد اب ان کے درمیان اعتماد گہرا ہو رہا ہے۔











