واشنگٹن/تہران: آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر پر مبینہ ایرانی حملے کے بعد امریکہ نے مسلسل دوسری رات ایران کے اندر متعدد فوجی اہداف پر فضائی کارروائی کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ تازہ حملوں نے جنگ بندی کی نازک صورتحال اور جاری سفارتی مذاکرات کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر KIKU، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہا تھا، آبنائے ہرمز کے قریب مبینہ طور پر ایرانی حملے کا نشانہ بنا۔ واقعے میں جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔ اس کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران کے اندر 10 مختلف مقامات پر حملے کیے، جن میں نگرانی کا نظام، مواصلاتی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، ڈرون ذخیرہ گاہیں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھنے والے فوجی مراکز شامل تھے۔ امریکی فوج نے کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے Truth Social پر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایک بار پھر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ اگر امریکہ کو دوبارہ مکمل فوجی کارروائی پر مجبور ہونا پڑا تو "اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116824603632739697
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے ایران نے اب تک کوئی سبق نہ سیکھا ہو، لیکن اگر حالات مزید بگڑے تو امریکہ اپنا فوجی مشن مکمل کرے گا۔
جہنم کا سامنا کریں گے”…۔”
دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی بحریہ کے ایک کمانڈر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکی حملے ایران کے اس اہم آبی راستے پر کنٹرول کو متاثر نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اڈوں کا حساب الگ سے ہوگا اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے آنے والے دنوں میں "جہنم کا سامنا کریں گے۔”










