گوہاٹی:(ایجنسی)
وشو ہندو پریشد کے ایک کارکن کی شکایت پر دو خواتین صحافیوں کے خلاف معاملہ درج کرنے کے بعد پولس نے انہیں حراست میں لے لیا ہے۔ سمریدھی ساکونیا اور سورن جھا نے کہا کہ وہ تریپورہ میں حالیہ تشدد کاکور کر رہی تھیں ۔
سمریدھی ساکونیا نے ٹویٹ کیا کہ انہیں آسام کے کریم گنج کے نیلم بازار پولیس اسٹیشن میں حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گومتی ضلع کے ایس پی کے حکم پر انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔
تریپورہ پولیس نے کہا کہ سمریدھی ساکونیا کے ٹویٹ کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ٹویٹ میں ایک نجی گھر کا جائے نماز آدھی جلی ہوئی حالت میں دکھائی گئی۔ اس میں قرآن کو جلانے کابھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق انہیں مذہبی دستاویزات کو جلانے کا کوئی ثبوت نہیں ملاتھا۔ صحافیوں کو پوچھ گچھ کے لیے اگرتلہ آنے کو کہا گیاتھا۔ ریاست چھوڑنے کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیاتھا۔
آج صبح صحافیوں نے کہا کہ پولیس نے ان سے ملاقات کی اور انہیں ’’ڈرانے‘‘ کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہوٹل چھوڑ کر اگرتلہ نہیں جانے دیاگیا۔
ذرائع نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم نے صحافیوں کو ’نوٹس‘ دیا اور 21 نومبر کو پوچھ گچھ کے لیے حاضر ہونے کو کہا۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ان سے فرضی خبریں پھیلانے کے معاملے میں پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
ایک سرکاری بیان میں، ایچ ڈبلیو نیوز نیٹ ورک (جہاں خواتین کام کرتی ہیں) نے کہا کہ پولیس کی جانب سے انہیں اپنے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دینے کے باوجود انہیں حراست میں لے لیا گیا… یہ تریپورہ پولیس کاپریس کے تئیں سرکاری استحصال اور پریس کو ٹارگیٹ کرنے والارویہ ہے ۔
صحافیوں کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ٹویٹ کیا کہ صحافیوں کو فوری رہا کیا جانا چاہیے اور ان کی سفر کی آزادی کو بحال کیا جانا چاہیے۔
گزشتہ ہفتہ سوشل میڈیا پر ٹویٹ کیا گیا تھا کہ وشو ہندو پریشد کی ایک ریلی کے دوران تریپورہ میں ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔ مرکزی وزارت داخلہ نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ فرضی اور ’حقائق کے برعکس ،غلط بیانی پر مبنی‘ ہے۔
وزارت نے کہا کہ ککرابن کے علاقے درگا بازار میں مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن جعلی خبروں کے بعد مہاراشٹر میں احتجاج اور تشدد کی خبریں آئی ہیں۔
تریپورہ پولیس نے فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب سے ان سو سے زیادہ اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا ہے جن سے پوسٹ کو مبینہ طور پر شیئر کیا گیا تھا۔ اس پوسٹ پر عمل کرتے ہوئے تریپورہ پولیس نے سپریم کورٹ کے وکلاء، کارکنوں اور مذہبی مبلغین سمیت 71 افراد کے خلاف پانچ مقدمات درج کیے ہیں۔









