نئی دہلی: (ایجنسی)
اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر نے پارلیمنٹ ہاؤس کے کیمپس میں صحافیوں کو بتایا کہ سرحد پار سے چلنے والے ان پلیٹ فارمز سے ہندوستان مخالف مواد دکھایا جا رہا تھا، اس لیے حکومت نے ان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ٹھاکر نے کہا کہ پاکستان کے اندر کچھ ویب پورٹلز اور یوٹیوب چینلز کے ذریعے جعلی خبریں اور ہندوستان مخالف مواد دکھا کر ملک کے اندر خوف اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ ملکی قوانین کی بھی مسلسل خلاف ورزی کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ قدم پاکستان کے خلاف ملک کے خلاف چلنے والے ایجنڈے کو روکنے کے لیے اٹھایا ہے تاکہ ایسی قوتوں کو کام نہ کرنے دیا جائے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے ملی جانکاری کے مطابق، خفیہ ایجنسیوں اور وزارت اطلاعات و نشریات نے پیر کو حکم جاری کیا۔ حکم کے مطابق، یوٹیوب پر 20 چینل اور 2 ویب سائٹس فیک نیوز کے ذریعے ہندوستان کے خلاف جھوٹ پھیلا رہے تھے۔ دو الگ الگ احکامات میں انہیں بلاک کرنے کا قدم اٹھایا گیا۔
مرکزی حکومت نے بتایا کہ یہ چینل اور ویب سائٹس پاکستان سے آپریٹ ہورہے تھے اور کئی حساس ایشوز پر فیک نیوز پھیلا رہے تھے۔ یہ چینل کشمیر، فوج، ہندوستان میں رہنے والے اقلیتوں، رام مندر اور آنجہانی جنرل بپن راوت کو لے کر نفرت انگیز اور تقسیم کرنے والے جھوٹ پھیلارہے تھے۔
ہندوستان کے خلاف جھوٹی خبروں کی مہم میں ’دا نیا پاکستان گروپ‘شامل ہے۔ یہ پاکستان سے آپریٹ کیا جارہا تھا۔ اس کے یوٹیوب چینل کے کئی نیٹ ورک ہیں اور اس کے علاوہ بھی کئی چینل اس میں شامل ہیں۔ ان چینلس کے مجموعی طور پر 35 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرس ہیں اور ان کے ویڈیو 55 کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھے جاچکے تھے۔ نیا پاکستان گروپ کی فیک نیوز میں کئی بار پاکستانی نیوز چینلس کے اینکر بھی دکھائی دئیے ہیں۔
یہ یوٹیوب چینل کسان آندولن، شہریت ترمیمی ایکٹ جیسے ایشوز میں بھی آگ میں گھی ڈالنے کا کام کررہے تھے۔ یہ چینلس ملک کی اقلیتوں کو حکومت ہند کے خلاف اشتعال دلارہے تھے۔ یہ بھی اندیشہ تھا کہ یہ چینلس پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں جمہوری کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے تھے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ہندوستان کے انفارمیشن سیکٹر کو محفوظ رکھنے کے لئے ایمرجنسی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے آئی ٹی رولس 2021 کے 16 نمبر رول کا استعمال کیا۔ وزارت نے پایا کہ زیادہ تر مواد قومی سلامتی کے لحاظ سے حساس ہیں اور غلط ہیں۔ ہندوستان مخالف یہ مواد پاکستان کی جانب سے پوسٹ کیا جارہا تھا۔ اس وجہ سے یہ ایمرجنسی حالت میں بلاک کرنے کے پروویژن کی شرط کو پورا کرتا ہے۔









