اردو
हिन्दी
مئی 6, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

یکساں سول کوڈ:خوشنما سراب

3 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
یکساں سول کوڈ:خوشنما سراب
176
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ڈاکٹر مولانا رضی الاسلام ندوی

جن لوگوں نے کسی ریگستان میں دن میں سفر کیا ہو وہ ‘سراب’ سے اچھی طرح واقف ہوں گے _ راستہ چلتے ہوئے آگے کچھ فاصلے پر ریت اس طرح چمکتی ہے جیسے پانی کی لہریں اٹھ رہی ہوں _ حقیقت میں یہ پانی نہیں ہوتا ، بلکہ ریت پر سورج کی کرنیں پڑنے سے دیکھنے والے کو پانی کا واہمہ ہوتا ہے _ مسافر جوں جوں آگے بڑھتا ہے ، سامنے کی ریت پانی کی لہروں کی طرح چمکتی رہتی ہے _ وہ چاہے جتنی طویل مسافت طے کرلے کبھی سراب تک اس کی رسائی نہیں ہوسکتی _ یہیں سے یہ لفظ اردو ادب میں استعمال ہونے لگا _ جب خواہش اور جدّو جہد کے باوجود کوئی چیز حاصل نہ ہوسکے تو اسے سراب کے پیچھے دوڑنے سے تعبیر کیا جاتا ہے _ اردو شعراء نے اس پر طرح طرح کے مضامین باندھے ہیں اور خواہشات کی عدمِ تکمیل پر حسرت و یاس کا اظہار کیا ہے _

دہلی ہائی کورٹ کو گزشتہ دنوں طلاق کے ایک معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے یکساں سول کوڈ کی پھر یاد آگئی _ معاملہ یہ تھا کہ شوہر ہندو میرج ایکٹ کے مطابق طلاق چاہتا تھا ، جب کہ بیوی کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق مینا قبیلے سے ہے ، لہٰذا ہندو میرج ایکٹ اس پر لاگو نہیں ہوتا _ شوہر نے بیوی کی اس دلیل کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ۔ چنانچہ کورٹ کے سامنے یہ سوال پیدا ہوا کہ طلاق سے متعلق فیصلہ ہندو میرج ایکٹ کے مطابق دیا جائے یا مینا برادری کے اصول کے مطابق ۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے یکساں سول کوڈ کو نافذ کیے جانے کی ضرورت محسوس کی ۔ چنانچہ جسٹس پرتبھا ایم سنگھ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آج کا ہندوستان مذہب ، ذات اور برادری سے بالا تر ہو چکا ہے ۔ نئے ہندوستان میں ، مذہب اور ذات پات کی رکاوٹیں آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہیں ۔ اس تبدیلی کی وجہ سے شادی اور طلاق میں بھی پریشانیاں آرہی ہیں _ آج کی نوجوان نسل کو ان مسائل سے دوچار نہیں ہونے دیا جانا چاہیے ، اس لیے ضرورت ہے کہ ملک میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کیا جائے ۔

دستورِ ہند کے رہ نما اصولوں کے تحت دفعہ 44 میں کہا گیا تھا کہ حکومت پورے ملک میں یکساں سِوِل کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کرے گی _ اس کا مطلب یہ تھا کہ نکاح ، طلاق ، وراثت ، تبنّیت (گود لینے) اور دیگر عائلی قوانین بلا تفریق مذہب و ملّت ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں ہوں گے _ یہ ایسی بات تھی جو ملک کے مسلمانوں کے لیے کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہوسکتی تھی ، اس لیے کہ اسے وہ اپنے مذہبی امور میں مداخلت سمجھتے ہیں _ چنانچہ اسی زمانے میں ان کے اشتعال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دستور ساز اسمبلی میں اعلان کیا گیا تھا کہ مسلم پرسنل لا میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی _ یہ دستور کا بہت بڑا تضاد ہے کہ ایک طرف اس میں یکساں سِوِل کوڈ کو نافذ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تو دوسری طرف اقلیتوں کو ان کے پرسنل لا پر عمل کرنے کی آزادی بھی دی گئی ہے _

حکومت کی طرف سے اب تک یکساں کوڈ نافذ کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں ، لیکن اسے کام یابی نہیں ملی ہے _ 1963 میں اس کی طرف سے ایک کمیشن مقرر کیے جانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا ، جس کا مقصد مسلم پرسنل لا میں تبدیلی پر غور و فکر اور اس کے لیے عملی راہوں کی تلاش تھی ، لیکن مسلمانوں کی شدید مخالفت کی وجہ سے یہ کمیشن مقرر نہیں کیا جاسکا تھا _ 1972 میں اسی پالیسی کا اعادہ کیا گیا _ چنانچہ پارلیمنٹ میں متنبی بل پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ مسوّدۂ قانون یکساں سِوِل کوڈ کی طرف ایک مضبوط قدم ہے _ لیکن مسلمانوں کی مخالفت کے بعد انہیں اس میں شامل نہیں کیا گیا اور اسے ان کے لیے اختیاری رکھا گیا _ اسی واقعہ کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا تھا ، جو الحمد للہ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے برابر قابلِ قدر اقدامات کررہا ہے _

یکساں سِوِل کوڈ کے حق میں جو دلائل دیے جاتے ہیں وہ بڑے بودے اور لچر ہیں _ مثلاً : * کہا جاتا ہے کہ دستور کے رہ نما اصولوں میں حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ یکساں سِوِل کوڈ نافذ کرنے کے لیے اقدامات کرے ، اس لیے اس سلسلے میں حکومت جو بھی اقدامات کرے ان کا استقبال کیا جانا چاہیے _ یہ بات کہنے والوں کی توجہ اس جانب مبذول نہیں ہوتی کہ دستور ہی اقلیتوں کو ان کے پرسنل لا پر عمل کی آزادی دیتا ہے _ دونوں باتوں میں کھلا تضاد پایا جاتا ہے _ پہلے اس تضاد کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے _

* کہا جاتا ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے ، جس کا تقاضا ہے کہ ملکی قوانین مذہبی پابندیوں سے آزاد ہوں _ اس سلسلے میں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ سیکولرازم کا مطلب وہ نہیں جو یہ حضرات بتاتے ہیں ، بلکہ اس کا درست مطلب یہ ہے کہ حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا ، وہ کسی مذہب کی طرف دار نہیں ہوگی اور ملک میں رہنے والے ہر فرد کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی ہوگی _

* کہا جاتا ہے کہ مذہبی قوانین بہت پرانے ہیں اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں _ یہ بات چاہے دیگر مذاہب پر صادق آتی ہو ، لیکن اسلام پر اسے چسپاں کرنا بالکل درست نہیں ہے _ اسلام کے عائلی قوانین بہت زیادہ سائنٹفک اور مبنی بر عدل ہیں اور ان میں عصری تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگی پائی جاتی ہے _ ان کے بارے میں غلط فہمیاں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ بہت سے مسلمان ان پر عمل نہیں کرتے اور کم زوروں پر ظلم کرتے ہیں _ اگر تمام اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو ان کی معقولیت اور فطرتِ انسانی سے ان کی ہم آہنگی کا دنیا مشاہدہ کرے گی _

ایک اہم بات یہ ہے کہ مسلمان اپنے مذہب سے گہری وابستگی رکھتے ہیں _ ان کے نزدیک جتنی اہمیت عبادات : نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج کی ہے ، اتنی ہی اہمیت نکاح ، طلاق ، خلع ، مباراۃ ، ہبہ ، وصیت ، وراثت ، تبنّیت اور دیگر عائلی احکام و قوانین کی ہے _ وہ کسی بھی صورت میں ان سے دست بردار نہیں ہوسکتے ، چاہے اس کے لیے انہیں خون کا دریا پار کرنا پڑے _

* کہا جاتا ہے کہ ملک میں قومی یک جہتی کے جذبے کو فروغ دینے اور شہریوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب کے شخصی قوانین ایک ہوں _ قوانین الگ الگ ہوں تو وہ اختلافات کا ذریعہ بنتے ہیں اور اس سے قومی یک جہتی کو نقصان پہنچتا ہے _ یہ بھی بغیر سوچے سمجھے کہی جانے والی بات ہے _ یک جہتی تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دینے سے پیدا ہوگی نہ کہ سب کو یکساں قوانین کا پابند بنانے سے _

یک جہتی تحمل ، برداشت اور رواداری کے جذبے کو فروغ دینے سے پیدا ہوگی نہ کہ ایک کلچر سب پر تھوپنے کی کوشش سے _ اس کی نمایاں مثال زبان ہے _ ملک میں بیسویں زبانیں بولی جاتی ہیں ، لیکن اس اختلاف کو گوارا کیا گیا ہے ، اسے یک جہتی میں حارج نہیں مانا گیا ہے اور تمام زبانوں کو ختم کرکے ملک کے تمام باشندوں کو ایک زبان بولنے کا پابند کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے _ ایسی ہی آزادی تمام مذاہب کے ماننے والوں کو شخصی قوانین پر عمل کرنے کے سلسلے میں بھی دی جانی چاہیے _

ملک کے اربابِ حلّ و عقد کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ وہ یکساں سِوِل کوڈ نافذ کرنے میں کبھی کام یاب نہیں ہوسکتے _ یہ وہ سراب ہے جو دیکھنے میں بہت خوش نما معلوم ہوتا ہے ، لیکن کوئی اس کے پیچھے جتنا بھی دوڑے وہ دور سے دور تر ہوتا جاتا ہے اور کبھی ہاتھ نہیں آتا _ دانش مندی اسی میں ہے کہ اس کا خواب و خیال چھوڑ دیا جائے اور تمام مذہبی اقلیتوں کو ان کے مذاہب ، کلچر ، رسوم و روایات اور پرسنل لا پر عمل کی پوری آزادی دی جائے _

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN