لکھنؤ :(ایجنسی)
معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کو یوپی اے ٹی ایس نے تبدیلی مذہب معاملے میں گرفتار کرلیا ہے۔ مولانا کلیم صدیقی گلوبل پیس سینٹر کے صدر اور جمعیت ولی اللہ کے بھی صدر ہیں۔ اے ڈی جی (لاء اینڈ آرڈر) پرشانت کمار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 20 جون کو غیر قانونی تبدیلی مذہب کے گروہ کو چلانے والے لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔ اس سلسلے میں مقدمہ درج کیا گیاتھا۔ عمر گوتم اور ان کے ساتھیوں کو ایک برطانوی تنظیم سے تقریباً 57 کروڑ روپے کی مالی امداد دی کی گئی تھی، جن کے اخراجات کی تفصیلات ملزم نہیں دے پائے ۔
پرشانت کمار نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں کل 10 افراد گرفتار ہوئے تھے جن میں سے 6 کے خلاف مختلف تاریخوں میں چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے۔ 4 کےخلاف جانچ چل رہی ہے ۔

مولانا کلیم صدیقی کو کل رات میرٹھ سے گرفتار کیا گیا جب وہ ایک تقریب میں شرکت کرنے کے بعد اپنے آبائی مقام مظفر نگر جا رہے تھے۔ پرشانت کمار نے کہا کہ’’ جانچ میں حقائق سامنے آئے ہیں کہ مولانا کلیم صدیقی غیر قانونی تبدیلی مذہب کے کام میں ملوث ہے اور مختلف تعلیمی ،سماجی اورمذہبی اداروں کی آڑ میں ملک گیر سطح پر کیاجا رہاہے ، جس کے لیے بیرون ملک سے بھاری فنڈنگ حاصل کی جارہی ہے ۔
عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے اسے سیاسی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ’معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کو اتر پردیش میں انتخابات سے قبل گرفتار کر لیا گیا ہے ، مسلمانوں پر مظالم بڑھتا جا رہے ہیں۔ ان مسائل پر سیکولر پارٹیوں کی خاموشی بی جے پی کو مزید طاقت دے رہی ہے۔#UPالیکشن جیتنے کے لیے #BJPآخر اور کتنا گرے گی؟‘









