لکھنؤ :(ایجنسی)
اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے انتخابی موسم میں الزامات کا دور جاری ہے، جناح سے شروع ہونے والی بحث اب اورنگ زیب تک پہنچ گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے وزیر اعظم مودی کے وارانسی دورے پر طنز کیاتو مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے انہیں اورنگ زیب قرار دے دیا۔ نروتم نے کہا کہ اکھلیش یادو کے اندر سے اورنگ زیب کی روح بول رہی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی وارانسی کے دو روزہ دورے پر تھے۔ کاشی وشوناتھ مندر کے افتتاح کے دوران وہ اورنگ زیب کی تاریخ پر حملہ کرتے نظر آئے اور کہا کہ بی جے پی یہاں ایک ماہ کا عوامی بیداری پروگرام چلائے گی۔ اسی دوران سیفئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے مودی پر طنز کیا کہ ‘ایک مہینہ نہیں، دو مہینے نہیں، تین مہینے ٹھہریں، بنارس رہنے کی جگہ ہے، آخری وقت میں بنارس میں ہی رہا جاتا ہے۔ اکھلیش کے اس بیان کے بعد پوری بی جے پی ان پر حملہ آور ہوگئی۔
مدھیہ پردیش کے وزیر نروتم مشرا نے کہا کہ اکھلیش یادو کا یہ بیان شرمناک ہے اور ان کے اندر سے اورنگ زیب کی روح بول رہی ہے۔ مشرا نے کہا کہ جس طرح اورنگ زیب نے اقتدار کے لیے اپنے خاندان کو تباہ کردیا، ویسے ہی اکھلیش یادو نے کیا ہے۔ ان کی زبان بتاتی ہے کہ وہ انہیں احترام کرنے نہیں آتا۔ بی جے پی کے ریاستی صدر سواتنتر دیو سنگھ نے کہا کہ اکھلیش کو بابا وشوناتھ کا عظیم الشان مندر کی تعمیر ہضم نہیں ہو رہا ہے اور وہ گھٹیا زبان بول رہے ہیں۔ اکھلیش یادو پورے ہندو کلچر کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
لال رنگ پر ہنگامہ آرائی پر اکھلیش نے کہا کہ لال رنگ جذبات کا رنگ ہے اور ہم سب کا خون بھی لال ہے، کیا بی جے پی لیڈروں کا رنگ کالا ہے۔ جیسے جیسے الیکشن قریب آرہے ہیں سیاسی لفظوں کی جنگ تیز ہوتی جارہی ہے۔ ایسے میں اکھلیش نے یہ تبصرہ کرتے ہوئے مودی پر مزید حملے کیے کہ بنارس رہنے کی جگہ ہے اور آخری وقت میں بنارس میں ہی رہا جاتا ہے۔
دراصل سماج وادی پارٹی کے جھنڈے اور ٹوپی کا رنگ لال ہے۔ اس حوالے سے طرح طرح کے تبصرے کیے گئے۔ جب سے انتخابی مہم تیز ہوئی ہے ایسے تبصروں میں بھی تیزی آئی ہے۔ اہم مسائل کے علاوہ جھنڈوں کا رنگ بھی بی جے پی اور ایس پی کے درمیان ایک مسئلہ بن گیا ہے۔









