میرٹھ؍آگرہ:(ایجنسی)
اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں لوگ اپنے اعتراضات اور شکایات کو پولس کنٹرول روم کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے پولیس تک پہنچانے میں زیادہ سرگرم رہے۔ پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران یوپی پولیس کو انتخابات سے متعلق تقریباً 300 شکایات موصول ہوئیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے شکایت کرنے میں سماج وادی پارٹی سب سے زیادہ سرگرم رہی۔ پولیس کے سوشل میڈیا سیل نے فوری طور پر متعلقہ اضلاع کو شکایات سے آگاہ کیا اور ضروری کارروائی کی۔
غازی آباد سے سوشل میڈیا کے ذریعے شکایت موصول ہوئی کہ ای وی ایم میں ہینڈ پمپ کا بٹن دبانے پر کمل کی پرچی نکل رہی ہے۔ ڈی ایم اور ایس ایس پی نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیا۔ اسی طرح نوئیڈا میں لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے بتایا کہ بہت سے لوگ اپنا ووٹ نہیں ڈال پا رہے ہیں۔ کئی لوگوںکی ووٹر سلپس نہیں آئیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو 20 سے 25 سال سے لگاتار ووٹ ڈال رہے ہیں۔ نوئیڈا سے کانگریس امیدوار پنکھڑی پاٹھک نے بھی ایک ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔
غازی آباد میں ووٹ ڈالنے گئیں نسیم نامی بزرگ خاتون کا ووٹ پوسٹل بیلٹ سے پہلے ڈال دیے جانےکےمسئلہ کومعروف وکیل پرشانت بھوشن نے اپنے ہینڈل سےاٹھایا۔ سابق سی ایم اکھلیش یادونے سوشل میڈیا کےذریعہ ای وی ایم خراب ہونے، جان بوجھ کر سست ووٹنگ کامسئلہ اٹھایا اوراس پر الیکشن کمیشن سے کارروائی کی مانگ کی ۔
میرٹھ کی سردھنا سیٹ کے سلوا گاؤں میں دلتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی سوشل میڈیا پر شکایت کی گئی ۔ الزام لگایا گیا کہ جب دلتوں نے اس کی مخالفت کی تو انہیںمارا پیٹا گیا اورپرچی چھین لی گئی۔ غازی آباد کے لونی امن گارڈن میں بی جے پی امیدوار نند کشورگوجر کی حمایت پر ایک خاتون کو پیٹے جانےکا الزام لگایا۔ خاتون کا روتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوا۔ اس میں وہ الزام لگا رہی تھیں کہ کچھ لوگ جبراً بی جےپی کو ووٹ دینے کادباؤ بنا رہے تھے ۔
شاملی میں بی جے پی کے حامیوں کے آر ایل ڈی امیدوار پرسنا چودھری کے ساتھ بدسلوکی کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ شاملی پولیس نے کہا کہ امیدوار چار پانچ گاڑیوں کے ساتھ پولنگ بوتھ میں داخل ہوئے تھے اور جعلی ووٹنگ کا الزام لگا رہے تھے۔ اس کے بعد ان کا بی جے پی کے حامیوں سے تصادم ہوا۔ بعد ازاں پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پالیا۔ آگرہ کا ایک ویڈیو ایس پی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے پوسٹ کیا گیا تھا۔ یہ الزام لگایا گیا کہ بی جے پی امیدوار پاکشالیکا سنگھ کے حامی لوگوں کو ووٹ ڈالنے نہیں دے رہے ہیں۔
آگرہ کے باہ کواری میں دلتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کا ویڈیو بھی سامنے آیا ہے۔ شاملی میں ایس پی اور آر ایل ڈی کے حامیوں پر دلتوں کو ووٹ نہیں ڈالنے دے رہیں ۔ میرٹھ کے کھٹور میں ایس پی اور بی جے پی حامیوں میں تصادم کی اطلاع بھی سوشل میڈیا پر دی گئی۔ کیرانہ میں مسلم برادری کےلوگوںکو ووٹ نہ ڈالنے دینے کا بھی الزام لگا۔ اس تعلق سے ویڈیو بھی شیئر کی گئی۔










