بلند شہر :(ایجنسی)
اتر پردیش پولیس ایک بار پھر سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔ گورکھپور میں تاجر منیش گپتا کے قتل کے الزام کے بعد اب بلند شہر میں پولیس پر ای -رکشہ ڈرائیور کی پٹائی کامعاملہ سامنے آیا ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ پولیس کی پٹائی کےبعد چھتاری تھانہ حلقہ کے گاؤں چونڈھیرا میں ایک ای -رکشہ ڈرائیور کی موت ہو گئی ہے ، حالانکہ پولیس پٹائی کی بات سے انکار کررہی ہے ۔
چونڈھیرا کے رہنے والے 40 سالہ ای – رکشہ ڈرائیور گوری شنکر کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے ان کی پٹائی کی تھی۔ بتایا جا رہاہے کہ اتوار کی رات گوری شنکر رکشہ ڈرائیور واپس گھر جا رہے تھے، اسی دوران راستے میں جام کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ الزام ہے کہ اسی دوران رکشہ ڈرائیور کی پولیس اہلکاروں نے بے رحمی سے پٹائی کر دی، جس سے وہ بے ہوش ہو گیا ۔
جس کے بعد اہل خانہ نے رکشہ ڈرائیور کو علی گڑھ کے ایک نجی اسپتال لے گئے ، جہاں ڈرائیور کی موت ہوگئی۔ گوری شنکر کی موت کے بعد ، پیر کی صبح اس کےاہل خانہ نے گاؤں کے گیٹ کے باہر احتجاج کر کے معاوضہ کی مانگ کی ہے ۔ ساتھ ہی ملزم پولیس والے کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی گئی ہے ۔
بلندشہر کے ایس پی سنتوش کمار نے دی کوئنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کا کوئی معاملہ نہیں ہے ۔ رکشہ ڈرائیو ر دل کا مریض تھا ۔ ایس ایس پی نے کہاکہ کسی قسم کی مار پیٹ کی بات سامنے نہیں آئی ہے ۔ رکشہ ڈرائیور پہلےسے ہی ہارٹ اور ٹی بی کا مریض تھا۔ مندر کے پاس میلا لگا ہوا تھاجس میں وہ ای رکشہ لے کر گھس رہا تھا۔ سپاہی نے روکا، ہو سکتا ہے دھکا لگ گیا ہو ،جس کی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہو گیا ہوگا۔ کوئی باہری چوٹ کا نشان نہیں ہے، اگر کوئی شکایت کرتا ہے تو معاملہ درج کیا جائے گا۔ جانچ میں قصور پائے جانے پر قصو واروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال ملزم سپاہی اور سب انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی شام کوپیش آیا اور رات کو رکشہ ڈرائیور کی موت ہوئی تھی ۔ فی الحال ابھی اس معاملے میں کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔










