نئی دہلی:(ایجنسی)
ہری دوار کی ’دھرم سنسد‘میں نفرت انگیز تقریر کے خلاف پانچ سابق آرمی چیفس، بڑے بیوروکریٹس اور کارکنوں نے صدر اور وزیر اعظم کو کھلے خط لکھے ہیں۔ اس میں انہوں نے مختلف پروگرام میں مبینہ ’ہندوستانی مسلمانوں کی نسل کشی کی کال‘ کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ تشدد کی اس طرح کی اپیلیں ملک میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہیں۔
ہری دوار، دہلی اور اتراکھنڈ کے دیگر مقامات پر اس طرح کے پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ دیگر اقلیتوں جیسے عیسائی، دلت اور سکھوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔صدر رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ تشدد کی اس طرح کی کالیں اندرونی خلفشار پیدا کر سکتی ہیں اور بیرونی دشمن قوتوں کو مضبوط کر سکتی ہیں۔
کھلا خط لکھنے والوں میں بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل لکشمی نارائن رام داس، ایڈمرل وشنو بھاگوت، ایڈمرل ارون پرکاش اور ایڈمرل آر کے دھون، سابق آرمی چیف ایئر چیف مارشل ایس پی تیاگی اور کئی سابق فوجی افسران، سابق آئی پی ایس افسران جولیو ریبیرو، راج موہن گاندھی، نجیب جنگ، ارونا رائے، کئی سابق سینئر عہدیدار، ادیب، کارکن، محقق وغیرہ شامل ہیں۔
آپ کو بتادیں کہ ہری دوار دھرم سنسد کو لے کر پوری دنیا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی ٹینس اسٹار مارٹینا نوراٹولیا، بائی لائن ٹائمس کے صحافی سی جے وارلمین، پاکستانی صحافی حامد میر سمیت کئی نامور لوگوں نے اس کی مذمت کی ہے۔ غیر ملکی اخبارات نیویارک ٹائمز، الجزیرہ، بلومبرگ کے ساتھ کئی بیرونی انگریزی اخبارات نے بھی اس کی خبر دی ہے۔










