ممبئی ؍ امراوتی ( ایجنسی)
امراوتی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے بلائے گئے بند نے ہفتہ کو پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ پتھراؤ، گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات کو روکنے کے لیے پولیس طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ تریپورہ میں حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف جمعہ کو رضااکیڈمی جیسی کچھ مسلم تنظیموں کے ذریعہ ریاست گیر احتجاج اور ریلیوں کے بعد بند کی اپیل کی گئی تھی۔ ناندیڑ، امراوتی اور مالیگاؤں (ناسک) سےجمعہ کو پتھراؤ کے معمولی واقعات کے بعد ریاست کے وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل نے دیر رات تمام گروپوں سے تحمل برتنے کی بذریعہ ویڈیو اپیل کی۔
والسے پاٹل نے مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) حکومت کے دیگر لیڈروں کے ساتھ مل کر اپیل کیا، ’براہ کرم امن برقرار رکھیں، میں تمام ہندوؤں اور مسلم بھائیوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتا ہوں۔‘ انہوں نے کہا کہ میں سینئر پولیس افسران کی مددسے پوری صورت حال کی نگرانی کررہا ہوں اور سینئر اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ بات چیت کررہاہوں ۔ تمام قصور واروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ہمیں سماجی ہم آہنگی بنائے رکھنا چاہئے اور میں تمام سے ہمارے ساتھ مدد کرنے کی اپیل کرتاہوں ۔میں اپنے بھائیوں سے صورت حال کو احتیاط سے سنبھالنےامن برقرار رکھنے کے لیے پولیس سے بھی یہی اپیل کر تا ہوں ۔
بی جے پی نے جمعہ کے مظاہروں کی مخالفت کے لیے امراوتی بند کی کال دی تھی، جس کے بعد سڑکوںپر بھاری بھیڑ امڈ پڑی۔ نعرے بازی کی، بینر اور جھنڈے لہرائے گئے۔ اس کے فوراً بعد کچھ طبقوں نے نجی اور سرکاری گاڑیوں، دکانوں اور اداروں پر پتھراؤ کیا، جس سے پولیس کو شرپسندوں پر قابو پانے کے لیے ہلکی طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔
شیوسینا کے ایم پی سنجے راوت اور وزیر عبدالستار، اشوک چوہان (کانگریس)، نواب ملک (این سی پی)، اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ سید امتیاز جلیل، ودربھ کے کسان لیڈر نے ہفتہ کے بند میں پرتشدد واقعات کے لئے بی جے پی پر سخت تنقید کی۔









