اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

آفرین فاطمہ سے وہ کیوں ڈرتے ہیں؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
آفرین فاطمہ سے وہ کیوں ڈرتے ہیں؟
180
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ابھے کمار

اتوار کے روز پریاگ راج میں جو کچھ بھی ہوا وہ بھارت کی جمہوریت کا ایک سیاہ دن تھا۔ اس دن اقتدار کا سراسر غلط استعمال کیا گیا۔ یہ کاروائی قانون اور آئین کا گلا گھوٹنے کے مترادف تھی۔ اب کھُلے طور پر لوگوں کا دھرم ، مذہب اور ذات دیکھ کر، یو پی حکومت فیصلہ لے ر ہی ہے ۔ جے این یو کی سابق طالبہ اور ایکٹوِسٹ آفرین فاطمہ کے گھر کو جس طرح بلڈوزر کی مدد سے توڑ کر کچھ ہی گھنٹوں کے اندرملبے میں تبدیل کر دیا گیا، وہ اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے ۔ یو پی کی بی جے پی سرکار سیکولرازم کی جگہ ہندو راشٹر کے نظریہ کے مطابق کام کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے پوری طرح سے مسلم مخالف ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے۔عدالت بھی خاموش ہے۔ میڈیا دن رات نفرت پھیلا رہا ہے۔محکوم طبقات کا یقین سسٹم سے اٹھنے لگا ہے۔ایک سازش کے تحت یوگی سرکار بلند مسلم آوازوں کو خاموش کرنا چاہتی ہے ۔ وہ ہر طرح سے ان آوازوں کو دبا دینا چاہتی ہے، جوان کے ظلم و جبر کے خلاف بولنے کی ہمت رکھتی ہیں۔ یوگی سرکار کی آمرانہ حکومت کی اور کیا مثال ہوگی کہ اہانت رسولؐ کے معاملے میں جو لوگ ملوث ہیں ان کو پکڑنے کے بجائے وہ بے قصور مسلمانوں کو مار پیٹ رہی ہے، انہی کو گرفتار کر رہی ہے اور ان کے گھروں کو منہدم کر رہی ہے۔ کیا اترپردیش میں مظلوموں کو اپنے مسائل کو لے کر احتجاج کرنے کا بھی حق نہیں ہے ؟

جو لوگ بھی مسلم سماج سے اپنے حق کے لیے لڑنے آگے آرہے ہیں ان کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان کی پوری زندگی برباد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی شبیہ ایک شدت پسند اور ملک مخالف جرائم پیشہ کی بنا کر پیش کی جارہی ہے۔ آخر نا انصافی کا یہ سلسلہ کب تھمے گا؟ مسلم سماج کے اندر ناخواندگی دیگر مذہبی طبقات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس سماج سے آفرین فاطمہ اور ان کی جیسی دیگر لڑکیاں جب ساری مشکلات سے لڑتے ہوئے کالج اور یونیورسٹی پہنچی ہے اور اپنے ملک اور ملت کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے ، تو ان پر ظلم و جبر کیوں ڈھایا جاتا ہے؟ کیا ان کو ایک ذمہ دار بھارتی شہری ہونے کے فرائض ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے، صرف اس لیے کہ ان کا تعلق کسی خاص مذہب سےہے؟

شرجیل امام، عمر خالد، میران حیدر، آفرین فاطمہ جیسے لیڈرآج اسی فرقہ پرست ذہنیت کے شکار ہیں ۔ حکومت میں بیٹھے فرقہ پرست عناصر کی یہی کوشش رہتی ہے کہ جب بھی کوئی طاقتور آواز محکوم طبقات سے نکلے ان کو کسی نہ کسی بہانے عوام کی نظروں میں ملک مخالف ثابت کر دیا جائے اور پھرکسی نہ کسی کیس میں ان کا نام ڈال کر جیل بھیج دیا جائے تاکہ دبے کچلے سماج سے کوئی اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی بات خواب میں نہ سوچ پائے اور ظلم ، جبر ، استحصال اور نا انصافی کا یہ کاروبار یوں ہی چلتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آفرین فاطمہ کے پراگ راج واقع مکان کو اچانک سے پولیس نے منہدم کر دیا۔آج اس کا پریوارر بے گھر ہو گیا ہے۔ ان کے والد پرتشدد بھڑکانے کا الزام لگایا گیا اور انہیں گرفتار کیا گیا ۔ آفرین کی خطا یہی ہے کہ وہ بولنا جانتی ہے، وہ باتوں کو سمجھتی ہے، اس کے دلوں میں ملک اور ملت کا درد ہے۔ اور وہ مسلمان بھی ہیں۔

آفرین فاطمہ کو میں جے این یو کے دنوں سے جانتا ہوں۔ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی تحریکوں میں کافی سرگرم رہی ہیں۔ کچھ ہی دنوں کے اندر آفرین کی مقبولیت کیمپس میں کافی بڑھ گئی۔ اس سے پہلے وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لسانیات میں گریجویشن کی پڑھائی مکمل کی تھی ۔سال 2019میں انہوں نے جے این یو طلبہ یونین کا انتخابات بھی لڑا تھا۔حالانکہ طلبہ سیاست سے اُن کی آشنائی بہت پہلے ہو گئی تھی۔ سال 2018 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ویمنس کالج کی وہ طلبہ یونین کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔ آفرین کی فکر اور سرگرمی کی وجہ سے علی گڑھ کے اندر موجود دقیانوس مردوں اور کالج انتظامیہ کو بھی بڑی دقت ہوتی تھی۔ غلطی اس میں آفرین کی نہیں تھی بلکہ وہ وہاں مرد بالادستی کے خلاف آواز بلند کر رہی تھی۔ بات یہ تھی کہ علی گڑھ کی لڑکیوں کو اپنے ہاسٹل سے باہر نکلنے پر بہت ساری پابندیاں عائد تھیں۔ اگر ان کو اسپتال بھی جانا ہوتا تھا تو ان کو پہلےانتظامیہ سے اجازت لینی پڑتی تھی۔ ا ن سب پابندی کی وجہ سے علی گڑھ کی طالبات کافی ناراض تھی۔ ان مسائل کو آفرین نے اپنے انتخابات کے دوران اٹھایا اورطالبات کے لیے برابر کے حقوق کا مطالبہ کیا۔

یہ بات صحیح ہے کہ آفرین اپنے مشن میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پائیں ، مگر ان کی وجہ سے اور بدلے ہوئے ماحول کو دیکھتے ہوئے لڑکیوں کو علی گڑھ یونیورسٹی انتظامیہ نے تھوڑی بہت رعایت دی تھی۔ اس دواران انہوں نے علی گڑھ میں خواتین کی قیادت سے متعلق ایک بڑاپروگرام بھی کرایا ، جس میں کچھ مردوں نے خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ اگر صحیح طور سے دیکھا جائے تو بلند آواز والی مسلم خواتین کی دشمن فرقہ پرست اور مردوں کی بالادستی میں یقین رکھنے والا سماج دونوں ہوتا ہے۔ فرقہ پرست ان کو مظلوم ، انپڑھ، لاچار، بیمار اور کمزور ، شدت پسندکےطور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جبکہ سماج کے مرد انہیں گھروں میں قید کر کے رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے اوپر حملہ دو طرفہ ہے۔

جے این یو میں بھی ان کو فرقہ پرستوں کے ساتھ ساتھ دقیانوس طبقہ کی بھی مخالفت جھیلنی پڑی۔ مگر انہوں نے جواب دینے کے بجائے کام کرنے میں زیادہ یقین رکھا ۔ بہت جلد ان کی شناخت کیمپس میں قائم ہو گئی اور آفرین نے ا پنے قول اور فعل سےطلبہ کا دل جیتا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کونسلر کا انتخاب جیت کر یہ دکھلا دیا تھا کہ اُن کے اندر سیاسی قیادت کی بڑی اہلیت ہے۔ جو لوگ جے این یو کو قریب سے جانتے ہیں اُن کو یہ بات معلوم ہے کہ یہاں کے طلبہ انتخابات میں کامیاب ہونے کے لیے آپ کو لیفٹ يا رائٹ کے سہارے کی ضرورت پڑتھی ہے۔ ان کی مدد کے بغیر کسی بھی طالب علم کو انتخابات جیتنا بڑامشکل کام ہوتا ہے۔انتخابات کے دوران تقریر کر کے شاباشی بٹور ناایک بات ہے، اور انتخاب میں فتحیاب ہونا دوسری بات ہوتی ہے۔ اس لیے آفرین فاطمہ کی اس کامیابی کو غیر معمولی کارکردگی کہی جا سکتی تھی۔

جے این یو میں آفرین طلبہ کی تنظیم فرٹرنٹی کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں اور ان کی حمایت کرنے والوں میں مسلمانوں کے علاوہ دلت طلبہ کی بڑی تعداد تھی۔ جے این یو ہی نہیں ، کیمپس سے باہر بھی آفرین ان مسائل کو لے کر زیادہ فعل رہی ہیں، جو ملک کے کمزور طبقات کے مفاد سے منسلک رہے ہیں۔جب بھی بات مسلمان، دلت يا کسی بھی محکوم طبقات سے متعلق ہوتا ہے، آفرین فاطمہ اُٹھ کھڑی ہوتی تھی۔ ہمیں یاد ہیں کہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں فاطمہ نے دیگر مسلم خواتین کی طرح ملک اور ملت کو بچانے کے لیے سڑکوں پر اتر آئی تھی۔ آج ان ہی سب خوبیوں کی وجہ سے وہ اور ان کا پورا خاندان فرقہ پرستوں کے نشانہ پر ہے۔

اس مشکل کے وقت ہمیں اور بھی زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے۔ ہمیں نہ صرف آفرین فاطمہ کی مدد کے لیے آگے آنا ہے، بلکہ ہمیں آفرین کی لڑائی کو ان تمام مسلمانوں کی گرفتاری سے بھی جوڑ کر دیکھنا ہے۔ ہمیں عدالتی اور قانونی راستہ کو بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سڑکوں پر بھی اترنے کی ضرورت ہے مگر اس بات کو بھی پہلے طےکرنا ہوگا کہ کسی طرح ہم پولیس اور حکومت کے جابرانہ کارروائی سے خود کو کیسے بچائیں گے۔ یہ ملک سے ہندو اور مسلمان دونوںمحبت کرتے ہیں۔ جو لوگ شدت پسندی اور نفرت کی سیاست کرنے والے ہیں ، ہم ان کو کبھی بھی ان کے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دینا ہے۔ آج ضررت اس بات کی ہے کہ تمام سیکولر طاقتیں اپنے سابقہ اختلاف کو فراموش کر ملک کو فرقہ پرستوں کے چنگل سے بچانے کے لیے آگے آئیں اوراس تحریک میں آفرین فاطمہ کا ایک بڑا او ر مثبت رول ادا کر سکتی ہیں۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN