اردو
हिन्दी
جولائی 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

فلسطین مسئلہ میں جنوبی افریقہ ہی عالمی عدالت انصاف کیوں پہنچا؟

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
283
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ڈاکٹر منصف مرزوقی
عربی سے ترجمہ: تنویر عالم آفاقی

جنوب افریقہ نہ تو ایک عرب ریاست ہے، نہ مسلم ریاست ہے۔ اس کی سرحد کسی بھی  طرف سے کسی عرب ملک سے نہیں ملتی۔ عرب ممالک ، فلسطین اور اسرائیل سے اس کے درمیان کافی بڑا جغرافیائی فاصلہ ہے۔ کسی عرب ملک سے جنوبی افریقہ کے اقتصادی یا تہذیبی روابط بھی نہیں ہیں۔ افریقہ کے بعض ممالک مثلاً سنگھال، مالی اور چاڈ کی طرح ان کےجنوبی افریقہ اور عرب ممالک کے درمیان کوئی تاریخی ربط و تعلق بھی نہیں ہے۔
اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کا اسرائیل سے کوئی براہ راست جھگڑا یا کشمکش بھی نہیں ہے۔ تازہ مسئلہ تو دور کوئی قدیم مسئلہ بھی نہیں ہے کہ آج جنوبی افریقہ کو  وہی یاد آ گیا ہو اور اس نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہو۔یہ اہم سوال ہے کہ فلسطین کے مسئلے میں  جنوبی افریقہ نے فرشتوں سے بھی زیادہ فرشتگی کا مظاہرہ کیوں کیا؟ اس حیران کن سوالات کا جواب اگرچہ جنوبی افریقہ کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص بآسانی معلوم کر سکتا ہے، تاہم تونس کے سابق صدر ڈاکٹر منصف مرزوقی نے اس پر ذرا کھل کر روشنی ڈالی ہے۔واضح رہے کہ جنوبی افریقہ تقریباً ۳۵۰ برس تک سفید فام عیسائیوں کا غلام رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کا یہ عہد غلامی جنوبی افریقہ کے اصل باشندوں کے لیے تاریک ترین دور رہا ہے۔ ڈاکٹر مرزوقی اس ضمن میں اسرائیل اور جنوبی افریقہ کےدرمیان قدر مشترک تلاش کرتے ہوئے چند نکات اس شکل میں بیان کرتے ہیں:
۱۹۴۸ء وہ سال ہے جب کہ مشرق وسطی میں واقع فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ناجائز اور غیر قانونی ریاست قائم کی گئی تھی اور یہی وہ سال ہے جب کہ جنوبی افریقہ میں اپارتھائیڈ(Apartheid) کے نام سے نسلی تفریق کا قانون وجود میں لایا گیا۔دونوں چیزوں کا بیک وقت وجود میں آنا ایک اتفاق بھی ہوسکتا ہے، لیکن درج ذیل باتیں جو اسرائیل اور جنوبی افریقہ کے درمیان قدرے مشترک کا درجہ رکھتی ہیں،محض   اتفاقات کے زمرے میں نہیں ڈالی جا سکتیں۔
۱۔ فلسطین کی طرح جنوبی افریقہ میں بھی لوگوں کی زمینیں طاقت و قوت کے بل پر چھین کر دوسروں کو ان کا مالک بنا دیا گیا۔ یہ اس  لیے کیا گیا تھا کہ یورپ وہاں اپنے استعمار کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا تھا۔جنوبی افریقہ میں یہ سلسلہ سولہویں صدی عیسوی سے ہی شروع ہو گیا تھا۔
۲۔ فلسطین کی طرح جنوبی افریقہ میں بھی یورپی حملوں اور کالونیاں بسانے کا جواز فراہم کرنے کے لیے مذہب پر مبنی متعصب  آئیڈیالوجی کا استعمال کیا گیا۔
۳۔ فلسطین کی طرح جنوبی افریقہ کے اصل باشندوں کی زمینوں اور مکانات پر قابض ہونے کے لیے نسل کشی کی گئی  اور انھیں  ملک چھوڑنے پر مجبور کر دینے کی پالیسی اختیار کی گئی۔ یہ نہیں تو بنتوستان (Bantustan)کے نام سے موسوم انھیں الگ تھلگ علاقوں میں بسایا گیا جہاں ان پر نگاہ رکھی جاتی تھی ، لیکن ان کی ضرورتوں کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔
۴۔ فلسطین کی طرح وہاں بھی ایک طرف اصل باشندوں اور دوسری طرح پڑوسی ممالک کے ساتھ  مستقل جنگ کا ماحول پیدا کیا گیا ، تاکہ ملک پر ان کا مکمل اور مستقل کنٹرول رہے۔
۵۔ فلسطین کی طرح جنوبی افریقہ کے اندر یہ ایک ایسا زہریلا ماحول تیار کیا گیا جس کی بنیاد طاقت و قوت تھی۔ طاقت ور یورپی اکڑ اور برتری کے ساتھ رہتے تھے ، جب کہ وہاں کے اصل مغلوب باشندوں کو ذلت و رسوائی کے ساتھ رکھا جاتا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ جنوبی افریقہ کی آزادی سے پہلے بالخصوص ساٹھ اور نوے کی دہائی دوران  جنوبی افریقہ اور اسرائیل اپنے مزاج و طبیعت میں یکساں نظر آتے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون و اشتراک انتہائی درجے کا تھا۔۹۰ کی دہائی میں نیلسن منڈیلا اور ڈی کلارک کے درمیان اپارتھیڈ نظام کو ختم کرنے پر دستخط ہوئے تو اسرائیل اور جنوبی افریقہ کی راہیں اچانک ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہو گئیں۔ اب یہ حال تھا کہ اسرائیل اور اس کی انتہا پسند سیاست کے مدعی جنوبی افریقہ کو کسی سیاسی حل تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرنے لگے۔
ڈاکٹر منصف مرزوقی نے بصارت و بصیرت کی نگاہوں سے جنوبی افریقہ کے رجل حکیم نیلسن منڈیلا اور اسرائیل کے خطرناک احمقوں نیتنایاہوں اور ابن غفیر کے درمیان فرق کو محسوس کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ نیلسن منڈیلا وہ شخص ہے جس نے افریقہ  اور جنوبی افریقہ کو خون کے دریا میں بہنے سے بچا لیا، جب کہ یہ دونوں احمق ترین انسانوں نے  اپنی نسل کشی کی سیاست کے ذریعے اپنے ہی ملک کو بین الاقوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔
جنوبی افریقہ اپنے معاملے میں تو یورپ کو بین الاقوامی عدالت میں نہیں گھسیٹ سکا، لیکن آج وہ فلسطین کے نام پر اسرائیل کو کٹہرے میں لے آیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جنوبی افریقہ وہ ملک ہے جو انتہائی سخت ترین آزمائشوں کو پار کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ آج وہ اپنے نام پر نہیں بلکہ ان اقدار کے نام پر عدالت پہنچا ہے جنھوں نے اسے سخت ترین آزمائشوں سے گزرجانے کا حوصلہ دیاہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

امریکا ایران معاہدہ

‘ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم’، :ٹرمپ کا بڑا اعلان

ٹرمپ کا بڑا اعلان، ترکی پر برسوں سے عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کا بڑا اعلان، ترکی پر برسوں سے عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026
امریکا ایران معاہدہ

‘ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم’، :ٹرمپ کا بڑا اعلان

جولائی 8, 2026
ٹرمپ کا بڑا اعلان، ترکی پر برسوں سے عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کا بڑا اعلان، ترکی پر برسوں سے عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ

جولائی 7, 2026

حالیہ خبریں

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN