لکھنؤ:(ایجنسی)
کورونا کی دوسری لہر کے دوران ابتر صورتحال کو بھی ماننے سے بھی انکار کرنے والی یوگی حکومت نے اب 80 نئے کورونا پازیٹیو کیس آنے کے درمیان پوری ریاست کو کورونا متاثر قراردے دیا ہے ۔ کیا اس فیصلے کا الیکشن سے کچھ لینا دینا ہے؟
یہ سوال اس لیے ہے کہ جب سے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن اور وزیر اعظم سے اومیکرون کے خطرے کے پیش نظر آئندہ یوپی اسمبلی انتخابات کو ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے، تب سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ یوپی میں انتخابات کو کہیں ٹال نہیں دیا جائے؟ کچھ رپورٹس میں تو یہ قیاس بھی لگایا گیا ہے کہ انتخابات کو ملتوی کرکے اور صدر راج نہ لگا دیا جائے اور پھر بعد میں انتخابا ت تب کرائے جائیں جب صورتحال سازگار ہوں۔
اسی طرح کی اطلاعات کے درمیان یوگی حکومت نے منگل کی رات یوپی کو کورونا سے متاثرہ ریاست قرار دیا۔ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میںایڈیشنل چیف سکریٹری ہیلتھ امت موہن پرساد نے کہا ہے کہ گورنر نے یوپی پبلک ہیلتھ اینڈ ایپیڈیمک ڈیزیز کنٹرول ایکٹ 2020 کے سیکشن 3 کے تحت اس سلسلے میں ایک خط جاری کیا ہے۔ یہ اعلان 31 مارچ تک نافذ العمل رہے گا۔ اس سے قبل مارچ 2019 میں ریاست کو کورونا سے متاثرہ ریاست قرار دیا گیا تھا۔
حکومت کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ریاست میں 24 گھنٹوں میں 80 نئے کورونا مریض سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں فعال مریضوں کی تعداد 392 ہو گئی ہے۔ جلد ہی نئی گائیڈ لائن جاری کی جا سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کورونا متاثرہ ریاست قرار دینے سے الیکشن متاثر ہوسکتے ہیں؟
اس کا فیصلہ بالآخر الیکشن کمیشن ہی کرے گا لیکن انتخابی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات نہ کرانے کا فیصلہ لینا ہے تو ریاستی حکومت کے اس نوٹیفکیشن کو بھی اس کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے اور اس کی حمایت میں اس کی دلیل بھی دی جا سکتی ہے۔
ویسے کورونا کی ایسی صورتحال کے درمیان اتر پردیش میں مسلسل انتخابی ریلیاں ہورہی ہیں۔ ان ریلیوں میں ہزاروں لوگ بھیر امڈ رہی ہے۔ ان ریلیوں میں ماسک کا استعمال نہ کرنے اور کورونا پروٹوکول کی عدم تعمیل کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ لیکن اب کورونا سے متاثرہ ریاست قرار دینے کے بعد صورتحال بدل سکتی ہے۔
ہر ایک کو ان نئی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا جو وبائی ایکٹ یعنی کورونا سے متاثرہ ریاست کے اعلان کے بعد جاری ہوں گے۔ ہدایات پر عمل کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن یہ سب اس بات پر منحصر ہوگا کہ کیا واقعی انتخابی جلسوں اور ریلیوں میں اس قسم کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی ہوگی؟










