نئی دہلی :(ایجنسی)
بھارتیہ جنتا پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی راکیش سنہا نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا اور پوچھا کہ جب آبادی پر قابو پانے کی بات ہوتی ہے تو ایک کمیونٹی کے لوگ میدان میں کیوں کودپڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کنٹرول میں یہ نہیں لکھا جائے گا کہ مسلمانوں کی آبادی روک دی جائے گی۔
بی جے پی ایم پی نے نیوز 18 انڈیا کے ڈیبیٹ شو ’ڈانکے کی چوٹ پر‘ کے دوران مختلف مسائل پر اپنی رائے دی۔ راکیش سنہا نے کہا، ’آبادی قانون سب کے لیے ہوگا، آئین کے تحت ایک عالمگیر قانون بنایا جائے گا۔ چاہے وہ ہندو ہو، مسلم ہو، آدیواسی… یہ قانون سب کے لیے ہوگا۔ یہ نہیں لکھا جائے گا کہ مسلمانوں کی آبادی روک دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ جب بھی وزیر اعظم نریندر مودی ترقی پسند سماجی اصلاحات کی بات کرتے ہیں تو ایک مخصوص کمیونٹی کے رہنما (خواہ وہ سماجی زندگی میں ہوں یا سیاسی زندگی میں) کیوں میدان میں کود پڑتے ہیں۔
راکیش سنہا نے کہا، ’’میں دو تین مثالیں دیتا ہوں ۔ تین طلاق کا مسئلہ پورے ملک میں زیر بحث تھا۔ ساری دنیا یہ سب دیکھ رہی تھی۔ کیوں تمام علماء، پڑھے لکھے لوگ سامنے آنے لگے اور ان کو لگا کہ مسلم سماج تباہ ہو رہا ہے۔ اطفال شادی کے معاملے پر بھی ہم تقسیم ہورہے ہیں۔ حکومت نے ایک ترقی پسند فیصلہ لیا ہے۔‘‘ دراصل حکومت بیٹیوں کی شادی کی عمر 18 سے بڑھا کر 21 سال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ راکیش سنہا اس معاملے پر بات کر رہے تھے۔
راکیش سنہا نے دعویٰ کیا، ’’یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ بڑی تعداد میں مسلم لڑکیوں کو عرب ممالک لے جایا جاتا ہے۔ عورتوں کو ایک شے سمجھنے ایک روایت ہے کہ جب چاہیں پنجرے میں قید کردو۔ جب چاہو طلاق دے دو۔‘‘
ملک میں لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کی جارہی ہے۔ اس تجویز کو مرکزی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ اس کے بعد سے اس معاملے پر سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔









