اردو
हिन्दी
جون 29, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

غزہ میں 18 ماہ بعد بھی جنگ کیوں جاری ہے؟

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
107
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تجزیہ:ایلون پنکس
میری رائے میں اس کا جواب یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی سیاسی ضرورت ہے کہ جنگ جاری رہے، اور دوسری طرف اگر جنگ بندی کا مطلب اقتدار یا باقی ماندہ طاقت سے دستبردار ہونا ہو تو حماس بھی بھی جنگ ختم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتی۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں فریق جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ یہ بات اتنی سادہ اور اتنی ہی المناک ہے۔
دریں اثنا وہ واحد فریق جو اس کلیے کو بدل سکتا ہے، وہ امریکہ ہے جو فی الحال مؤثر طریقے سے کھیل میں حصہ ہی نہیں لے رہا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یکطرفہ طور پر درجنوں ممالک پر وسیع اور بےتحاشا ٹیرف عائد کر رہے ہیں، اور امریکہ کو چین کے ساتھ مکمل تجارتی جنگ کے خطرناک دہانے تک قریب دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے مالیاتی منڈی میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور گرین لینڈ حاصل کرنے کے اپنے جنون کی وجہ سے نیٹو کے 12 اصل بانیوں میں سے ایک ڈنمارک کو دھمکا رہے ہیں، کینیڈا کی تذلیل کر رہے ہیں، اسے دھمکیاں دے رہے ہیں اور اس پر سخت ٹیرف عائد کر رہے ہیں۔
ان سب کے ساتھ ساتھ یوکرین-روس جنگ میں جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں (میں انہیں جعلی مذاکرات کہوں گا) کی شرمناک ناکامی ہوئی ہے۔ اس عالم میں یہ شاید یہ بھول جانا بہت آسان ہے کہ غزہ میں اب بھی جنگ جاری ہے۔ اور اب ایک پرانے خیال کا نیا ورژن سامنے آیا ہے: جنگ بندی اور یرغمالیوں کا معاہدہ۔
مصری ثالثوں کو پیش کی گئی اسرائیلی تجویز میں کئی اہم نکات شامل ہیں: 45 روزہ جنگ بندی جو دہری امریکی شہریت کے حامل اغوا شدہ اسرائیلی فوجی عدن الیگزینڈر کی رہائی کے ساتھ شروع ہو گی۔ اس کے بعد تین مراحل میں 10 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔ اس کے بدلے میں، براہ راست ملوث ہونے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے 120 فلسطینی، اور ’سینکڑوں دیگر فلسطینی قیدیوں اور حراستیوں‘ کی اضافی رہائی ہو گی۔اس کے بعد تجویز میں ٹائم ٹیبل، طریقۂ کار اور تبادلے کی تفصیلات بتائی گئی ہیں، جس میں ان یرغمالیوں کی واپسی بھی شامل ہے جو قید کے دوران مر گئے یا انہیں پھانسی دے دی گئی۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ 18 مارچ کو یکطرفہ طور پر پچھلی جنگ بندی توڑنے کے بعد قبضہ کیے گئے علاقوں سے دوبارہ تعینات ہو جائے گی۔
اپنی تجویز کے مطابق اسرائیل مستقل جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے (دونوں جنوری کی جنگ بندی میں نمایاں طور پر شامل تھے، جو 58 دن تک برقرار رہی، جس کے بعد اسرائیل نے ’فیز 2‘ پر آگے بڑھنے سے انکار کر دیا)، لیکن غزہ کی پٹی سے دستبردار نہیں ہو رہا، بلکہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے اندر دوبارہ فوجی تعینات کر رہا ہے۔آگے تجویز کا متنازع حصہ ہے: حماس کی فوجی صلاحیت کا خاتمہ۔ یہ جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے کے لیے اسرائیل کی شرط ہے۔ اگرچہ یہ سمجھ میں آتی ہے کیوں کہ یہ بات سیاسی طور پر منطقی ہے اور خاص طور پر سات اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد اسے آسانی سے جائز قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن یہ چل نہیں سکتی (اور اس پر حماس رضاکارانہ طور پر اور اپنی مرضی سے نہیں کرے گی)۔
مصری ثالثوں کو پیش کی گئی اسرائیلی تجویز میں کئی اہم نکات شامل ہیں: 45 روزہ جنگ بندی جو دہری امریکی شہریت کے حامل اغوا شدہ اسرائیلی فوجی عدن الیگزینڈر کی رہائی کے ساتھ شروع ہو گی۔ اس کے بعد تین مراحل میں 10 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔ اس کے بدلے میں، براہ راست ملوث ہونے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے 120 فلسطینی، اور ’سینکڑوں دیگر فلسطینی قیدیوں اور حراستیوں‘ کی اضافی رہائی ہو گی۔
اس کے بعد تجویز میں ٹائم ٹیبل، طریقۂ کار اور تبادلے کی تفصیلات بتائی گئی ہیں، جس میں ان یرغمالیوں کی واپسی بھی شامل ہے جو قید کے دوران مر گئے یا انہیں پھانسی دے دی گئی۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ 18 مارچ کو یکطرفہ طور پر پچھلی جنگ بندی توڑنے کے بعد قبضہ کیے گئے علاقوں سے دوبارہ تعینات ہو جائے گی۔اپنی تجویز کے مطابق اسرائیل مستقل جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے (دونوں جنوری کی جنگ بندی میں نمایاں طور پر شامل تھے، جو 58 دن تک برقرار رہی، جس کے بعد اسرائیل نے ’فیز 2‘ پر آگے بڑھنے سے انکار کر دیا)، لیکن غزہ کی پٹی سے دستبردار نہیں ہو رہا، بلکہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے اندر دوبارہ فوجی تعینات کر رہا ہے۔آگے تجویز کا متنازع حصہ ہے: حماس کی فوجی صلاحیت کا خاتمہ۔ یہ جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے کے لیے اسرائیل کی شرط ہے۔ اگرچہ یہ سمجھ میں آتی ہے کیوں کہ یہ بات سیاسی طور پر منطقی ہے اور خاص طور پر سات اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد اسے آسانی سے جائز قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن یہ چل نہیں سکتی (اور اس پر حماس رضاکارانہ طور پر اور اپنی مرضی سے نہیں کرے گی)متوقع طور پر حماس نے پہلے ہی اس خیال کو مسترد کر دیا ہے

۔گذشتہ منگل کو اس نے ایک بیان میں کہا، ’یہ شکست ہے۔۔۔ ہم مذاکرات کے جزو کے طور پر غیر مسلح ہونے سے انکار کرتے ہیں۔‘ اگر حماس اس موقف پر قائم رہتی ہے، تو بلاشبہ اور ناگزیر طور پر جنگ جاری رہے گی۔
کلیدی معاملہ یہ ہے کہ دونوں فریق ’فتح‘ کی تعریف کیسے کرتے ہیں۔ اسرائیل کے لیے حماس کی مکمل تباہی اور اقتدار سے مستقل ہٹانے سے کم کوئی بھی چیز فتح تصور نہیں کی جائے گی،
قطع نظر اس کے کہ مقامی طبی حکام کے مطابق گذشتہ 18 ماہ میں 50,000 سے زائد فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں، اور غزہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔کیا یہ قابل حصول ہدف ہے؟ اگر آپ سات اکتوبر کے بعد سے ہونے والے واقعات کو دیکھیں تو اس کا جواب ہے، نہیں۔ کیا یہ حاصل کیا جا سکتا ہے؟ ہاں، لیکن صرف اس صورت میں جب اسرائیل پوری غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لے۔ اور پھر کیا ہو گا؟
اس کا جواب سادہ ہے: اگر آپ کا کسی جگہ پر قبضہ ہے تو آپ اس کے مالک ہیں۔ اور ’مالک‘ کا مطلب ہے صحت کے نظام، خوراک، پینے کے قابل پانی، انسانی امداد، غزہ کی تقریباً معدوم معیشت، قانون اور نظام کی دیکھ بھال۔ کیا اسرائیل یہ کرنا چاہتا ہے؟ بالکل نہیں۔ تو یہ اس کے بجائے کیا کر رہا ہے؟ غزہ کی پٹی پر مکمل قبضہ کیے بغیر جنگ کو جاری رکھ کر فوجی حکومت قائم کر رکھی ہے۔
حماس نے اسرائیل پر تاریخی حملہ کیا۔ اس جنگجو تنظیم نے بلاشبہ اسے ایک اپنی فتح سمجھا۔ لیکن سیاسی طور پر وہ ’جیتنے‘ کی تعریف جنگ کے خاتمے کے بعد ایک شخص کے کھڑے ہو کر جھنڈا لہرانے کے طور پر کرتے ہیں۔ سات اکتوبر کے المناک واقعات نے ایک انتہائی جدید اور تکنیکی طور پر برتر فوج اور زمین کے سب سے گنجان آباد حصوں میں سے ایک میں کام کرنے والی تنظیم کے درمیان بنیادی عدم توازن کو تبدیل نہیں کیا۔
لیکن عدم توازن دونوں طرح سے کام کر سکتا ہے: اسرائیل غزہ پر اپنے غیر متناسب ردعمل کے ساتھ ایک پیچیدہ اور ناقابل فتح شہری جنگ میں پھنس گیا، اور خود کو عالمی جانچ پڑتال اور مذمت کا نشانہ بنا دیا، اور اسے ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے الزامات کا جواب دینا پڑا۔
اس وحشیانہ جنگ کی رفتار اور طویل العمری کو ایک بہت وسیع اور غیر دانشمندانہ سٹریٹجک پہلو سے بھی منسوب کیا جا سکتا ہے: اسرائیل کا حماس کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی واضح اور جان بوجھ کر سیاسی ہدف نہیں تھا۔ اس کے فوجی ذرائع کبھی بھی کسی مربوط سیاسی مقصد کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے کسی بھی جنگ کے بعد کے غزہ کے منصوبوں یا وعدوں پر غور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حماس اب بھی موجود ہے، اور یہی وجہ ہے کہ جنگ جاری ہے۔

ٹیگ: after 18 months?Gazastill goingwarWhy

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
ٹرمپ پزشکیان معاہدہ

صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 14 نکاتی تاریخی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

جون 18, 2026
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

پاکستان کے افغانستان میں 'ڈبل ٹیپ' حملے

افغانستان میں پاکستان کے مبینہ ‘ڈبل ٹیپ’ حملے، گھروں اور مساجد پر بمباری

بلڈوزر آپریشن

ہائی کورٹ کے حکم پر گوالیار میں 8 گھنٹوں میں بڑا بلڈوزر آپریشن

ایران اور امریکہ جنگ بندی پر متفق، آبنائے ہرمز بحران پر قطر میں اہم اجلاس

ایران اور امریکہ جنگ روکنے پر متفق، قطر میں اہم مذاکرات ہوں گے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
پاکستان کے افغانستان میں 'ڈبل ٹیپ' حملے

افغانستان میں پاکستان کے مبینہ ‘ڈبل ٹیپ’ حملے، گھروں اور مساجد پر بمباری

جون 29, 2026
بلڈوزر آپریشن

ہائی کورٹ کے حکم پر گوالیار میں 8 گھنٹوں میں بڑا بلڈوزر آپریشن

جون 29, 2026
ایران اور امریکہ جنگ بندی پر متفق، آبنائے ہرمز بحران پر قطر میں اہم اجلاس

ایران اور امریکہ جنگ روکنے پر متفق، قطر میں اہم مذاکرات ہوں گے

جون 29, 2026

حالیہ خبریں

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
پاکستان کے افغانستان میں 'ڈبل ٹیپ' حملے

افغانستان میں پاکستان کے مبینہ ‘ڈبل ٹیپ’ حملے، گھروں اور مساجد پر بمباری

جون 29, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN