دہلی:
دارالحکومت دہلی میں کورونا کے کم ہوتے معاملوں کے پیش نظر حکومت نے ان لاک کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ لوگ گھروں سے باہر آنے لگے اور عوامی مقامات پر بہت زیادہ بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ شاپنگ مالزاور ریلوے اسٹیشنوں سمیت متعدد مقامات پر لوگوں کی زبردست بھیڑ جمع ہو رہی ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ اس دوران لوگ کورونا پروٹوکول کی پیروی نہیں کررہے ہیں اور سماجی دوری کی دھجیاں اڑا رہےہیں۔ اس کے پیش نظر دہلی کے ڈاکٹروں نے ’کورونا دھماکہ خیز‘ ہونے کا انتباہ دیا ہے ۔ انہوں نے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر احتیاط نہیں برتی گئی تو کورونا کی بے حد خطرناک لہر پھر سے آسکتی ہے۔
ماہرین امراض اورڈاکٹروں نے کہاکہ ہمیشہ کی طرح معیشت کو پھر سےمعمول پر لانے کی دوڑ ٹیکہ کاری کی کوششوں کو متاثر کرے گی۔ کیونکہ 950 ملین لوگوںمیں سے صرف 5 فیصد کو ہی ٹیکہ لگایا گیا ہے ۔ ساتھ ہی ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہلی کا دوبارہ کھلنا باعث تشویش ہے، حالانکہ افسران نے کہاہے کہ اگر معاملے بڑھتے ہیں تو وہ سخت پابندیاں لگائیں گے۔
اہم بات یہ ہے کہ مئی میں دارالحکومت دہلی میں ہزاروں لوگوں کی موت ہوگئی۔ آکسیجن سپلائی ٹھپ ہو گئی اور مریضوں کے لواحقین سوشل میڈیا پر بیڈ اور دوا کے لیے التجا کرنے کو مجبور ہوئے۔ آکسیجن سلنڈروں کے لئے بھٹکتے رہے، پوری صحت نظام تباہ ہوگیا تھا۔ لوگوں نے مریضوں کو اسپتال پہنچانے کے لیے ایمبولینس ڈرائیورکو 20 گنا سے زائد ادائیگی کی ۔ کئی لوگوں کی اسپتال پہنچے سے پہلے گیٹ پر ہی سانسیں تھم گئیں۔ شمشان گھاٹ میں لاشوں کو جلانے کے لیے جگہ نہیں بچی تھی، گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑا تھا۔
میکس ہیلتھ کیئر کے انبیریش میتھل نے ٹویٹ کرکے کہاکہ کورونا کے پھر سے دھماکہ خیز ہونے کاانتظار کریں اور سرکار، اسپتالوں کو قصور وار ٹھہرائیں۔ دہلی میں پانچ ہفتہ کے سخت لاک ڈاؤن کے بعد افسران نے دکانوں اور مال کو پورح طرح سے پھر سے کھول دیا ہے اور ریستوراں کو 50 فیصد بیٹھنے کی صلاحیت کے ساتھ اجازت دی ہے۔ میٹرو بھی 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ چل رہی ہے ۔











