لکھنؤ : (ایجنسی)
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کیرالا کے مالابار میں 1921 میں ہوئے موپلا بغاوت کو ایک منصوبہ بند قتل عام سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہادیوں نے مل کر ہزاروں ہندوؤں کا قتل کردیا تھا۔ ہفتہ کے روز وہ آر ایس ایس سے وابستہ میگزین ’پنچ جنیہ‘ کے ایک پروگرام میں بول رہے تھے۔ یوگی نے کہا ،’ ‘ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہم پوری انسانیت سے جہادی خیال کو کیسے ختم کر سکتے ہیں تاکہ ایسا ماحول بنایا جائے کہ مالابار قتل عام کا واقعہ کبھی نہ دہرائے۔‘
یوگی نے کہا کہ جہادی افکار سے پاک ماحول بنانے کے لیے پورے ملک کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے 75 ویں سال میں ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی تاریخ کو اچھی طرح جانیں، کیونکہ کوئی بھی ملک جسے اپنی تاریخ یاد نہیں ، وہ اپنی سر زمین کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔
1921 کے قتل عام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، یوگی نے کہا ، 100 سال پہلے کیرل کے موپلامیں جہادی عناصر نے ہزاروں ہندوؤں کا قتل کردیا تھا۔ کئی دنوں تک لگاتار منصوبہ بند طریقے سے ہندوؤں کو موت کے گھاٹ اتاراجاتا رہا۔ ایک اندازے کے مطابق 10 ہزار سے زائد ہندوؤں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ ہزاروں ماؤں ، بہنوں پر تشدد کیا گیا اور کئی مندروں کو مسمار کیا گیا۔
یوپی کے سی ایم نے کہا کہ کئی لوگ اس قتل عام کو چھپانے کے لیے آگے آئے۔ پوچھا گیا کہ کیا ہندوؤں نے مذہب تبدیل کرنے سے انکار کر دیا تھا ، اس لیے انہیں قتل کیا گیا؟ اس سوال پر کئی لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ تحریک خلافت کی ناکامی کی وجہ سے مسلم کمیونٹی میں غصہ تھا ۔ انہوںنے کہا ہے کہ زمیندار مسلمانوں کا استحصال کر رہے تھے۔ اگر ایسا ہے تو عام ہندو ؤں کوکیوں مار دیا گیا؟ صرف اس لیے کہ انہوں نے مذہب تبدیل کرنا درست نہیں سمجھا؟ سچ یہ ہے کہ جن بائیں بازو نے اسیوڈو سیکولرازم کو سپورٹ کرنے کے لیے تاریخ لکھا وہ صرف چاپلوسی میں یقین رکھتے تھے ۔
یوگی نے کہا ، بھیم راؤ امبیڈکر نے اپنی کتاب ‘’پاکستان اینڈ دی پارٹیشن آف انڈیا‘ میں مالابار کے موپلا میں ہندوؤں کےخلاف مظالم کا بھی ذکر کیا تھا ۔ اس کے بعد اینی بیسنٹ نے بھی اس بارے میں لکھا ہے ۔
بتادیں کہ 20 اگست 1921 میں کیرل کے مالا بار میں موپلا بغاوت کی شروعات ہوئی تھی ۔ پہلے تو یہ بغاوت انگریزوں کے خلاف شروع ہوا لیکن پھر اس نے فرقہ وارانہ شکل اختیار کرلیا۔ موپلا مسلمانوں نے ہزاروں ہندوؤں کا قتل کیا اور جبراً مذہب تبدیل کرایا گیا ۔ پہلے عالمی جنگ میں ترکی کی ہار کے بعد انگریزوں نے وہاں کے خلیفہ کو کرسی سے ہٹایا ۔ اس کےبعد تحریک خلافت کی شروعات ہوئی۔ تحریک خلافت کو مہاتما گاندھی کی بھی حمایت ملی ہوئی تھی ۔ انگریزوں نے اسے کچلنے کے لیے بڑے لیڈروں کو گرفتار کرلیا۔ بعد میں اس تحریک کی قیادت موپلاؤںکے ہاتھ چلی گئی اور انہوں نے اونچی ذات کے زمیندارہندوؤں کو نشانہ بنانا شروع کیا ۔ آہستہ آہستہ تحریک فرقہ وارانہ تشددمیں تبدیلی ہوگئی ۔









