دیوبند:(سمیر چودھری)
دیوبند اسمبلی حلقہ کے بڑگاؤں میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اے ٹی ایس سینٹر اور طالبان کو لے کر کانگریس اور ایس پی پر سخت نشانہ لگایا اور مذہبی کارڈ کھیلتے ہوئے ووٹ مانگے۔
انتخابی مہم کے آخری دن انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم یوگی نے دیوبند اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے امیدوار پر حملہ بولا اور کہا کہ جب سے الیکشن آیا ہے، کچھ لوگوں میں گرمی زیادہ بڑھ گئی ہے، لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ کانگریس امیدوار کسی غلط فہمی میں نہ رہے ہم نے دیوبند میں ایسے لوگوں کی گرمی ٹھنڈی کرنے کے لیے اے ٹی ایس سینٹرکھول دیا ہےاور 10 مارچ کے بعد طالبانی سوچ رکھنے والوں کی گرمی ٹھنڈی کر دی جائے گی۔
انہوں نے اپوزیشن پر شدید حملہ بولا۔ سی ایم یوگی نے کہا کہ ہم نے فسادیوں اور مافیا کو سبق سکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں مافیا، غنڈوں اور دنگائیوں کو سبق سکھانے کا کام کیا گیا ۔ اب کوئی کانوڑ یاترا کو روکنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اس یاترا کے دوران ایسا لگتا ہے کہ بھگوان شیو کے درشن ہوتے ہیں۔ اب ریاست میں کوئی فساد نہیں ےہوتے اور نہ ہی کرفیو لگتا ہے۔ ہماری حکومت نے جہاں ایک طرف ترقی کی وہیں مذہبی جذبات کا بھی خیال رکھا۔ آج متھرا اور ورنداون میں بڑے تہوار ہوتے ہیں۔ ڈبل انجن والی حکومت میں بہو بیٹیوں سمیت ہر طبقہ کے لوگ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ پانچ سالوں میں حکومت نے خوف سے پاک ماحول دیا ہے۔ ہماری حکومت نے سہارنپور کو ماں شکمبھری دیوی یونیورسٹی دے دی۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن آتے ہی کچھ لوگوں کو طالبان کے نام پر مزید گرمی پڑ گئی ہے۔ جو جلد ہی پرسکون ہو جائے گی۔ میں ایس پی امیدوار کارتکیہ رانا کو بتانا چاہوں گا کہ ایس پی کو ڈوبنے کے لیے چچا بھتیجا ہی کافی ہے۔ دوسری طرف، صرف بھائی بہن کی جوڑی ہی کانگریس کو ڈوبنے کے لیے کافی ہے۔
صرف 12 منٹ کی تقریر میں وزیر اعلیٰ نے مظفر نگر اور سہارنپور، بجنور میں فسادات کا حوالہ دیا، جہاں امن و امان کے مسئلہ پر اپوزیشن اور پچھلی حکومتوں کو گھیرا ، وہیں بہو بیٹیوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کی یاد دلانا بھی نہیں بھولے۔ یوگی نے ٹھاکر اکثریتی حلقہ بڑگاؤں میں 2 بجے پہنچنا تھا لیکن وہ 3 گھنٹے کی تاخیر سے آئے ۔










