باندہ : (ایجنسی)
یوپی کی باندہ جیل میں بند باہوبلی ایم ایل اے مختار انصاری نے ایک بار پھر عدالت میں اپنی جان کے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مشہور ایمبولینس سانحہ کے معاملے میں جمعرات کوجب عدالت میں سماعت ہوئی تو مختار انصاری کے وکیل نے انہیں ہائی سکیورٹی دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت ان سے ناراض ہے اور اس کے کھانے میں زہر ملوا سکتی ہے۔
جب ایمبولینس کیس میں جمعرات کو بارہ بنکی میں ایم پی- ایم ایل اے عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو مختار انصاری کے وکیل رندھیر سنگھ سمن نے سیکشن 287 کے تحت ہائی سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے درخواست دی۔ ورچوئل طور پر پیش ہوئے مختار انصاری نے عدالت سے کہا ، ‘ایم ایل اے ہونے کےناطے مجھے ہائی سیکورٹی مہیا کرواجائے ۔ ویسے بھی مجھ سے ریاستی سرکار ناراض ہے ۔ کہیں کھانے میں زہر نہ ملوا دے۔ مختار انصاری نے کہاکہ اگر اسے جیل میں ہائی سکیورٹی مل جاتی ہے تو ان کے من سے ڈر ختم ہو جائے گا۔
مختار کے وکیل نے بتایا کہ جیل مینول کی دفعہ 287کے تحت ہائی سکیورٹی مہیا کروانے کی عرضی دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مختار انصاری کو سکیورٹی دینے کےمعاملے میں سماعت کے لیے اگلی تاریخ 7 اکتوبر مقرر کی گئی ہے ۔ وکیل نے بتایا کہ جج کمل کانت سریواستو نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں جلد فیصلہ کریں گے۔
مختار انصاری کو باندہ میں ہائی سکیورٹی جیل میں رکھا گیا ہے ، لیکن ان کی بیوی اور بیٹے نے ان کی سیکورٹی پر سوالات کھڑے کئے تھے۔ حال ہی میں ان کی اہلیہ نے ایم پی ایم ایل اے عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی ، جس میں انہوں نے جیل کے اندر مختار انصاری کی جان کو خطرے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ یہی نہیں درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ مختار انصاری کو جیل کے اندر ذہنی اذیت دی گئی ہے ۔









