لکھنؤ :(ایجنسی)
اترپردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک کے بعد ایک کئی بڑے جھٹکے لگ رہے ہیں ۔ سوامی پرساد موریہ کے بعد دارا سنگھ چوہان کے طور پر بی جے پی کو ایک اور جھٹکا لگا ہے ۔ اترپریش سرکار کے وزیر دارا سنگھ چوہان نے وزیر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ گورنر کو اپنا استعفیٰ نامہ بھیج کر دارا سنگھ نے اپنا ستعفیٰ دیا ہے اور استعفیٰ دینے کی وجوہات کا بھی خط میں تذکرہ کیا ہے ۔
دارا سنگھ چوہان نے اپنے استعفیٰ نامہ میں لکھا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ میں جنگلات ، ماحولیات اور زولاجی کے وزیر کے طور پر میں نے پورے تعاون سے اپنے محکمہ کی بہترین کیلئے کام کیا ، لیکن سرکار کی پسماندہ طبقات ، محروموں ، دلتوں ، کسانوں اور بے روز گار نوجوانوں کو نظر انداز کرنے کے رویہ کے ساتھ ساتھ پچھڑوں اور دلتوں کے ریزوریشن کے ساتھ جو کھلواڑ ہورہا ہے ، اس سے مجروح ہوکر میں اترپردیش کابینہ سے استعفیٰ دے رہا ہوں ۔
بتادیں کہ سب سے پہلے سوامی پرساد موریہ نے یوگی کابینہ سے منگل کو استعفیٰ دے کر سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا دیا تھا ۔ جیسے ہی سوامی کے استعفیٰ کی بات سامنے آئی تھی ، تبھی سے اس بات کی قیاس آرائی تیز ہوگئی تھی کہ بی جے پی سے ابھی کئی اور لیڈروں کے استعفے ہوسکتے ہیں ۔
ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ بی جے پی کے مزید ایک دو وزیر اور پانچ چھ ممبران اسمبلی استعفیٰ دے سکتے ہیں اور سبھی ایس پی جوائن کرسکتے ہیں۔ فی الحال دارا سنگھ چوہان سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے یا نہیں ، اس کو لے کر انہوں نے اپنے سیاسی پتے نہیں کھولے ہیں ۔











