اردو
हिन्दी
اگست 23, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

احتجاج کا دستوری حق

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ Uncategorized, فکر ونظر, مضامین
A A
0
protest-in-india

protest-in-india

335
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں عوام اپنے ووٹ کا استعمال کرکے اپنے نمائندے منتخب کرتی ہے، جس کے بعد منتخب نمائندوں کی دستوری ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کے دستوری و جمہوری مفادات کے تحفظ میں آواز بلند کریں گے، تاہم اگر عوام کے دستوری حقوق جمہوری حکومت یا اس کی کسی پالیسی یا قانون کے ذریعے سلب کئے جاتے ہیں یا جمہوری حکومت کی کسی پالیسی سے عوام بے چین ہوتے ہیں تو دستور ہند کے آرٹیکل ۱۹ کے  تحت عوام کو یہ بنیادی و شہری حق حاصل ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنی آواز و اپنے خیالات کو پیش کرنے کے لئے احتجاج کریں۔ پروٹسٹ یا احتجاج کا بنیادی مقصد حکومت کی کسی پالیسی، قانون یا کسی بھی بیان کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کرنا ہوتا ہے تاکہ عوام کی بے چینی و جذبات کو حکومت یا متعلقہ ادارہ سنجیدگی سے سمجھے اور اپنی پالیسی یا بیان پر نظر ثانی کرے، اگر کوئی پالیسی یا قانون عوام کے جمہوری و دستوری حقوق کے خلاف ہے تو اس میں دوبارہ ترمیم کرے یا واپس لے۔ 

حالیہ برسوں میں ہونے والے احتجاجات ہماری تاریخ کا  کوئی نیا باب نہیں ہیں، موجودہ وقت میں عوام کے ہونے والے احتجاجات ہماری پرانی تاریخ کا ہی حصہ ہیں، ہندوستان چھوڑو تحریک، سول نافرمانی تحریک و ستیہ گرہ تحریکوں کے بغیر ہمارے ملک کا آزاد ہونا ممکن نہیں تھا۔ آزادی سے پہلے ہزاروں احتجاج اور سول نافرمانی کی تحریکوں نے ہی انگریز حکومت کو ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا تھا، ہندوستانی عوام کو پرامن احتجاج کی اہمیت اور طاقت کی تعلیم دینے والے بابائے ہند موہن داس کرم چند گاندھی ہی تھے۔  شہری قوانین میں ترمیم کے بعد ہمارے ملک میں ہزاروں احتجاجات ہوئے جس میں لاکھوں شہریوں نے حصہ لیا، اب زراعتی قوانین میں تبدیلیوں کے بعد پھر لاکھوں شہری کئی مہینوں سے سڑکوں پر موجود ہیں جو دستوری حق کا استعمال کرتے ہوئے پرامن انداز میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

ملک کے آزاد ہونے سے پہلے ہمارے ملک میں احتجاج کرنے کا کوئی دستوری یا قانونی حق عوام کے پاس موجود نہیں تھا اس لئے ان تحریکوں کو سخت قوانین و پولیس کاروائیوں کے ذریعے انگریز حکومت خاموش کرنے کی تمام کوششیں کیا کرتی تھی، لیکن ملک کے آزاد ہونے کے بعد ہمارے رہنماوں نے ایک مضبوط جمہوری نظام کو قائم کرنے کے لئے ہی دستور میں آرٹیکل ۱۹ کو شامل کیا جس کا واحد مقصد حکومت کی پالیسیوں پر عوام کو آزادی کے ساتھ اپنے خیالات اور رائے کو پیش کرنے کی آزادی دی، آرٹیکل ۱۹ (۱) (اے) اور (بی) کے مطابق تمام شہریوں کو آزادی خیال اور تقریر کی آزادی ہے اور وہ اپنی بات رکھنے کے لئے پرامن طریقے سے بغیر ہتھیار کے ایک جگہ اکٹھا ہوسکتے ہیں جب کہ آٹیکل ۱۹ کی شق (۲) اور (۳) کے تحت کچھ شرائط و پابندیاں لگائی گئی ہیں جن کے مطابق وہ احتجاج ملک کی خودمختاری و سالمیت کے لئے خطرہ نہ ہوں، پبلک آرڈر یعنی امن و امان، دوست ممالک سے تعلقات، توہین عدالت اور ہتک عزت یا فساد بھڑکانے کی غرض سے نہ ہوں۔ آج احتجاجات کو جمہوریت کے لئے خطرہ کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں، جب کہ کسی بھی جمہوریت کا سب سے قیمتی اثاثہ وہاں کی عوام ہوا کرتی ہیں، اور جمہوریت میں عوام کا سب سے اہم حق ان کا آزادی کے ساتھ آواز اٹھانے کا حق ہے، شرط صرف یہی ہے کہ آواز پرامن انداز سے اٹھائی جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت اپنی پالیسیوں یا غلط اقدامات کے خلاف ہونے والے احتجاجات کو دبانے کے لئے پولیس و قانون کا بے دریغ غلط استعمال کرنے میں بالکل نہیں جھجھکتی ہیں۔ دستور ہند کی آرٹیکل ۵۱ (اے) کے مطابق ہر شہری کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ پبلک پراپرٹی کی حفاظت کرے اور احتجاجات کے دوران تشدد سے پرہیز کرے، لیکن ہم نے شہری قوانین کو لے کر ہونے والے احتجاجات کے دوران پولیس و تحفظاتی ایجنسیوں کے ذریعے ہونے والے پرتشدد ردعمل اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچاتے ہوئے جگہ جگہ دیکھا، جامعہ ملیہ کی لائبریری ہو یا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نیز بہت سی جگہوں پر پبلک پراپرٹی کے ساتھ ساتھ سی سی ٹیوی کیمروں کے ساتھ توڑپھوڑ کے ویڈیو بھی منظرعام پر آئے، لیکن کہیں بھی ان خاطی پولیس والوں کے خلاف کسی بھی طرح کی قانونی کاروائی نہیں کی گئی، آخر کب تک پولیس کی جوابدہی طے نہیں ہوگی؟

بابا رام دیو نے ۲۰۱۲ میں رام للا میدان بلیک منی یعنی کالا دھن کے ایشو کو لے کر احتجاج کیا جس پر پولیس نے کاروائی کی، سیپریم کورٹ نے “رام للا میدان حادثہ بنام ہوم سکریٹری، یونین آف انڈیا و دیگر ۲۰۱۲” کے فیصلے میں کہا کہ “ شہریوں کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جمع ہوکر پرامن احتجاج کریں جو کہ انتظامیہ یا مقننہ کے کسی بھی غاصبانہ کاروائی کے ذریعے چھینا نہیں جاسکتا ہے”۔  شاہین باغ دھرنے کا معاملہ بھی سیپریم کورٹ میں پہنچا جس کی سنوائی کرتے ہوئے عدالت عظمی نے “امت ساہنی بنام کمشنر آف پولیس” کے فیصلے میں کہا کہ ہر شہری کو پرامن احتجاج کرنے کا دستوری حق حاصل ہے تاہم عوامی جگہوں پر غیر معینہ مدت تک احتجاج کرکے دوسروں کے حقوق کی پامالی نہیں کی جاسکتی ہے، نیز انتظامیہ کو جگہ خالی کرانے کا پورا پورا حق حاصل ہے”۔

احتجاجات کو لے کر عدلیہ کا رویہ بھی سوالوں کے گھیرے میں رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں شہری قوانین میں ترمیمات کرکے مسلم کمیونٹی کے ساتھ قانون میں تفریق برتی گئی تھی جو کہ دستور ہند کی بنیادی روح و ڈھانچہ کے خلاف تھا کیونکہ دستور ہند کا پریمبل یہ وعدہ کرتا ہے کہ کسی کے ساتھ بھی مذہب، نسل، رنگ، ذات پات یا زبان کی بنیاد پر کسی طرح کی تفریق نہیں برتی جائے گی تاہم اس تفریق کے خلاف سیپریم کورٹ میں سو سے زائد پٹیشن زیر التوا ہیں جن پر سنوائی کے دوران نہ تو شہریت کےترمیم شدہ قانون پر کوئی وقتی روک لگائی گئی اور نہ ہی ہزاروں احتجاجات کے بعد بھی اس قانون کے دستوری جواز پر کوئی فیصلہ آیا

عدلیہ، انتظامیہ اور جمہوری حکومت کی یہ دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے تمام ہی طبقات کے اندر یہ احساس پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ یہ ملک سب کا ہے، جہاں دستوری حکومت قائم ہے اور قانون کی نظر میں سب کی حیثیت مساوات پر مبنی ہے تبھی ہم ایک کامیاب جمہوری حکومت بننے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN