نئی دہلی:اے ایم یو اقلیتی درجہ کیس: جب منگل (9 جنوری) کو سپریم کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی درجہ کے سوال پر سماعت شروع کی تو مرکزی حکومت نے کہا کہ قومی کردار کو دیکھتے ہوئے اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے مطابق، مرکز نے عدالت کو بتایا کہ اے ایم یو کسی خاص مذہب یا مذہبی فرقے کی یونیورسٹی نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے کیونکہ کوئی بھی یونیورسٹی جسے قومی اہمیت کا ادارہ قرار دیا گیا ہے وہ اقلیتی ادارہ نہیں ہو سکتا۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ میں داخل اپنی تحریری دلیل میں کہا کہ یونیورسٹی آزادی سے پہلے بھی ہمیشہ قومی اہمیت کا ادارہ رہا ہے۔
•٭سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
اس پیچیدہ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف اس لیے کہ تعلیمی ادارے کو کسی قانون کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا ہے، اقلیتی ادارے کے طور پر اس کی حیثیت ختم نہیں ہوتی۔ سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں سات ججوں کی آئینی بنچ نے آئین کے آرٹیکل 30 کا حوالہ دیا جو اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کے قیام اور چلانے کے حقوق سے متعلق ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ آرٹیکل 30 کو موثر بنانے کے لیے کسی بھی اقلیتی گروپ کو ایسی حیثیت کا دعویٰ کرنے کے لیے آزاد انتظامیہ کی ضرورت نہیں ہے۔
واضح رہے یونیورسٹی 1875 میں قائم ہوئی تھی۔ 12 فروری 2019 کو عدالت عظمیٰ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اقلیتی حیثیت کے متنازعہ معاملے کو سات ججوں کی بنچ کے پاس بھیج دیا تھا۔ اسی طرح کا ایک کیس 1981 میں بھی آیا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ کی اقلیتی حیثیت کا معاملہ کئی دہائیوں سے قانونی تنازع میں پھنسا ہوا ہے۔









